Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 674

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 674)

لیکن جب یہ قبائل دنیا کے مختلف حصوں میں جا کر آباد ہوئے اور بہت سے قبائل پہلے کی طرح اپنے مرکز ہی میں وحشی اور صحرائی جنگجوبنے رہے تو اس اختلاف تمدن و معیشت نے ایسی صورت اختیار کر لی کہ ان قبائل کے وحشی اور صحرائی جنگجو تو اسی طرح یاجوج(گاگGOG) اور ماجوج (میگاگMAGOG) کے نام سے موسوم رہے، مگر متمدن اور شہری قبائل نے مقامی خصوصیات و امتیازات کے ساتھ ساتھ اپنے ناموں کو بھی بھلادیا اور نئے نئے ناموں سے شہرت پائی اور پھر یہ تقسیم اس طرح قائم ہوگئی کہ تاریخ کے عہد میں بھی اس کو باقی رکھاگیا اور وسط ایشیا کے ایرانی ایشیائی اور یورپین روسی اور دیگر پورپین قومیں اور ہندوستان کے آرین اصل کے اعتبار سے منگولین( یعنی موگ ماجوج اور یواگ یاجوج) نسل ہونے کے باوجود تاریخ میں ان ناموں سے یاد نہیں کیے جاتے اور یا جوج و ماجوج کا نام صرف ان ہی قبائل کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے جو اپنی گزشتہ حالت وحشت وبربریت اور غیر متمدن زندگی میں اپنے مرکز کے اندر موجود ہیں اور مختلف صدیوں میں قتل و غارت اور لوٹ مار کرنے کے لئے اپنی ہم نسل متمدن اقوام پر حملے کرتے رہے ہیں اور ان ہی کے وحشیانہ حملوں کی حفاظت کے لیے اور مشرقی تاخت و تاراج سے بچنے کے لیے مختلف اقوام نے مختلف دیواریں اور سد قائم کیں اور ان ہی میں سے ایک وہ سد ہے جو ذوالقرنین نے ایک قوم کے کہنے پر دوپہاڑوں کے درمیان لوہے اور تانبے سے ملا کر تیار کی تاکہ وہ یاجوج اور ماجوج کے مشرقی حملوں سے محفوظ ہوجائے۔

یاجوج وماجوج کا ذکر توراۃ میں بھی ہے چنانچہ حزقیل علیہ السلام کے صحیفہ میں یوں کہا گیا ہے:

’’اور خداوند کا کلام مجھ کو پہنچا اور اس نے کہا کہ اے آدم زاد تو جوج کے مقابل جو ماجوج کی سرزمین کا ہے اور روش اور مسک اور تو بال کا سردار ہے اپنا منہ کر اور اس کے برخلاف نبوت کر اور کہہ کہ خداوند یہوداہ یوں کہتا ہے کہ دیکھ اے جوج روش اور مسک اور توبال کے سردار میں تیرا مخالف ہوں اور میں تجھے سزادوں گا اور تیرے جبڑوں میں بنسیاں دیکھ میں تیرامخالف ہوں اے جوج روش اور مسک اور توبال کے سردار میں تجھے پلٹ دوں گا۔( ماروں گا) حزقیل باب ۳۸ آیت ۱۔۳)

اور میں یاجوج پر اور ان پر جو جزیروں میں بے پروائی سے سکونت کرتے ہیں ایک آگ بھیجوں گا اور اس دن یوں ہوگا کہ وہاں اسرائیل میں جوج کو ایک گورستان دوں گا یعنی رہ گذروں کی وادی جو سمندر کے پورب ہے اور اس کے رہ گذروں کی راہ بند ہوگی اور وہ وہاں جو ج کو اور اس کی جماعت کو گاڑدیں گے اور اسے ہامون جوج کی وادی نام رکھیں گے۔( حزقیل باب ۳۹ آیت ۱۱)

ان حوالوں میں جو ج ماجوج روش مسک اور تو بال کا ذکر ہے اور ان کو خد ا کا مخالف بتایا گیا ہے اور مظالموں کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پہرا دے گا اور ان کے جبڑوں میں بنسیاں مارے گا تاکہ وہ پلٹ جائیں اور یہ کہ قیامت کے قریب ان وحشی اور ظالم قبائل کو تباہ و برباد کردیا جائے گا اور ان کی موت سے عرصہ تک رہ نذروں کے لیے راہیں بند ہوجائیں گی۔

ان ناموں کی تفصیل میں توراۃ کے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ جو ج سے مراد گاگ( GOG) ہے اور ماجوج سے میگاگ( MAGOG)اور روش سے روس ( RUSOSIA) اور مسک سے مراد ماسکو (MOSCOW) اور توبال سے بحراسود کا بالائی علاقہ مراد ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ توراۃ کی شہادت بھی اس سے اتفاق کرتی ہے کہ لفظ یاجوج اور ماجوج ان ہی قبائل کے لیے مخصوص ہوگیا تھا جو منگولیا اور کیشیا سے لے کر دور تک مشرق میں پھیلتے چلے گئے تھے اور یہ کہ حزقیل علیہ السلام کے زمانہ تک روس کا علاقہ تہذیب و تمدن اور حضارت سے عاری اور وحشی قبائل کا موطن و مسکن تھا اور قتل وغارت گری کا پیشہ کرتا تھا اور ظلم وستم ان کا روز مرہ کا مشغلہ تھا لہٰذا حضرت حزقیل علیہ السلام کی پیشین گوئیوں میں یہ بشارت دی گئی کہ وہ وقت قریب ہے جبکہ ان قبائل کی تاخت و تاراج کا یہ سلسلہ ایک عرصہ تک کے لیے بند ہوجائے گا ۔اس پیشین گوئی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوج شمال کی جانب سے آئے گی تاکہ لوٹ مار کرے اور یہ کہ ماجوج اور جزیروں میں بسنے والوں پر سخت تباہی آئے گی اور یہ کہ اسرائیل بھی ماجوج کے مقابلہ میں حصہ لیں گے۔

اب اگر تاریخ کا مطالعہ کیجیے تو آپ پر یہ بخوبی واضح ہوجائے گا کہ تقریباً ایک ہزار قبل مسیح سے بحر خزرا اور بحراسود کا علاقہ وحشی اور خونخوار قبائل کا مرکز بناہوا ہے جو مختلف ناموں کے ساتھ موسوم ہوتے رہے بالآخر ان سے ایک زبردست قبیلہ نمودار ہوتا ہے جو تاریخ میں سنتھینین کے نام سے مشہور ہے یہ وسط ایشیا سے بحراسود کے شمال کناروں تک پھیلاہوا ہے اور اطراف میں مسلسل حملے کرتا رہتا اور متمدن اقوام پر تباہی لاتا رہتا ہے، یہ زمانہ بابل ونینویٰ کے عروج اور آشوریوں کے تمدن کے آغاز کا زمانہ تھا پھر تقریباً ساڑھے چھ سو قبل مسیح میں ان کے ایک بڑے زبردست گروہ نے اپنی بلندیوں سے اُتر کر ایران کا تمام مغربی حصہ تہہ و بالا کر ڈالا۔

اب ۵۲۹؁ قبل مسیح میں سائرس (کیخسرو ) کا ظہور ہوتا ہے اور یہی وہ زمانہ ہے جبکہ اس کے ہاتھوں بابل کی تباہی بنی اسرائیل کی آزادی اور میڈیا و فارس کی دو سلطنتوں کی ایک جا طاقت کا نظارہ سامنے آتا ہے اور ٹھیک حزقیل علیہ السلام کی پیشین گوئی کے خصوصی امتیازات اس کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور سنتھینین قبائل کے مغربی حملوں سے حفاظت کے لیے اس کے ہاتھوں وہ سد قائم ہوتی ہے جس کا ذکر بار بار آرہا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor