قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 675

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 675)

بہر حال ان تمام تاریخی مصادر سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ حزقیل علیہ السلام کی پیشین گوئی کے مطابق و ہ یا جوج وماجوج جن کی حفاظت کے لیے سائرس( ذو القرنین) نے سدتیار کی، یہی سنتھینین قبائل تھے جوابھی تک اپنی وحشیانہ خصائص و خصائل کے اسی طرح حامل تھے جس طرح ان کے پیشرواپنے مرکز میں رہتے ہوئے ان امتیازات کے ساتھ یا جوج وماجوج کہلاتے رہے تھے اوریہ دراصل ایک مزید ثبوت ہے اس دعویٰ کے لیے کہ ذوالقرنین ’’سائرس‘‘(کیخسر و) ہی تھے۔

یاجوج وماجوج کے متعلق جس قدر بحث اس وقت تک کی جاچکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ کوئی عجیب الخلقت مخلوق نہیں ہیں بلکہ انسانوں کی عام آبادی کی طرح وہ بھی حضرت نوح علیہ السلام کی ذریت میں سے ہیں اور یہ کہ یاجوج وماجوج منگولیا( تار تار) کے ان وحشی قبائل کو کہا جاتا رہا ہے جویورپ اورروس کی اقوام کے منبع ومنشاء ہیں اورچونکہ ان کی ہمسایہ قوم ان قبائل میں دوبڑے قبیلوں کو موگ اور یوچی کہتی تھی اس لیے یونانیوں نے ان کی تقلید میں ان کو میک یا میگاگ اوریوگاگک کہا اور عبرانی اور عربی میں تصرف کرکے ان کو یاجوج وماجوج سے یاد کیا گیا۔

اب ان تاریخی حقائق کی تائید میں عرب مؤرخین اور محقق مفسرین و محدثین کی تحقیق بھی قابل مطالعہ ہے تاکہ گذشتہ سطور میں جوکچھ لکھاگیا اس کی تصویب ہوسکے۔

حافظ عماد الدین ابن کثیرؒ اپنی تاریخ میں تصریح فرماتے ہیں:

’’اور یافث تاتاریوں کا نسلی باپ ہے پس یاجوج و ماجوج تاتاریوں ہی کی ایک شاخ ہیں اور منگولیا کے قبائل کے منگولی ہیں اور دوسرے تاتاریوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ طاقتور اوربہت زیادہ فسادی اور لوٹ مار مچانے والے ہیں۔‘‘

اور اپنی تفسیر میں بھی اس کی تائید فرماتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ قبائل یا فث بن نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور ان کا مولدووطن منگولیا کا وہی علاقہ ہے جہاں سے قوموں کے طوفان اُٹھے اور اُٹھ کر یورپ وغیرہ میں جا کر بسے ہیں۔

اور ابن اثیر نے کامل میں یہ تحریر فرمایاہے:

یاجوج وماجوج کے متعلق مختلف اقوال ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ وہ تاتاریوں ہی میں سے ایک قسم کے تاتاری ہیں۔ وہ بہت طاقتور ہیں اور ان میں شرو فساد کا مادہ بہت ہے اور وہ بہت بڑی تعداد رکھتے ہیں اور قرب و جوارکی زمین میں فساد پھیلاتے اور جس بستی پر قابو پاجاتے اس کوبرباد کر ڈالتے تھے، پڑوسیوں کو ایذاء پہنچاتے رہتے تھے۔

 اور سید محمود آلوسی روح المعانی میں لکھتے ہیں:

یاجوج و ماجوج یا فث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے دوقبیلے ہیں اور وہب بن منبہ اسی پر یقین رکھتے ہیں اور متاخرین میں سے اکثر کی یہی رائے ہے۔

اور آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں:

اوربعض کہتے ہیں کہ ترک( تاتاری) ان ہی میں سے ہیں جیساکہ ابن جریر اور ابن مردویہ نے سدی سے ایک قوی اثر نقل کیا ہے کہ ترک ( تاتاری) یا جوج وماجوج کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہیں۔

اور عبدالرزاق نے حضرت قتادہؒ سے روایت کی ہے کہ یاجوج اور ماجوج بائیس قبائل کا مجموعہ ہیں۔( ج ۱۳ ص ۵۰)

اس کے علاوہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں یاجوج وماجوج سے متعلق جوکچھ نقل فرمایا ہے وہ بھی نقل بالا کی ہی تائید کرتاہے اورعلامہ طنطاوی اپنی تفسیر جو اہر القرآن میں لکھتے ہیں:

’’یاجوج وماجوج اپنی اصل کے اعتبار سے یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہیں اور یہ نام لفظ’’اجیح النار‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آگ کے شعلہ اورشرارہ کے ہیں گویا ان کی شدت اور کثرت کی طرف اشارہ ہے اور بعض اہل تحقیق نے ان کی اصل پر بحث کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ مغلوں ( منگولیوں) اور تار تاریوں کا سلسلۂ نسب ایک شخص ’’ترک‘‘ نامی پر پہنچتا ہے اور یہی شخص ہے جس کو ابو الفداء ماجوج کہتا ہے۔ پس اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ یاجوج وماجوج سے مرادمنگولین اور تار تاری قبائل ہی ہیں، ان قبائل کاسلسلہ ایشیاء کے شمالی کنارہ سے شروع ہو کر تبت اور چین سے ہوتا ہوامحیط منجمد شمالی تک چلا گیاہے اور غربی جانب ترکستان کے علاقہ تک پھیلا ہواہے۔ فاکھۃ الخفاء اور ابن مسکویہ کی تہذیب الاخلاق اور رسائل اخوان الصفاان سب نے یہی کہاہے کہ یہی قبائل یا جوج و ماجوج کہلاتے ہیں۔( جلد ۹ ص ۱۹۹)

اور ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں یاجوج وماجوج کے مستقر اوراس کی جغرافیائی حیثیت کواس طرح واضح کیا ہے:

ساتویں اقلیم کے نویں حصہ میں مغرب کی جانب ترکوں کے وہ قبائل آباد ہیں جن کو قفجاق اور چرکس کہاجاتا ہے اور مشرق کی جانب یاجوج کی آبادیوں اور ان دونوں کے درمیان کوہ قاف حد فاصل ہے جس کا ذکر گذشتہ سطور میں ہوچکا ہے کہ وہ بحر محیط سے شروع ہوتا ہے جو چوتھی اقلیم کے مشرق میں واقع ہے اوراس کے ساتھ ساتھ شمال کی جانب اقلیم کے آخر تک چلا گیا ہے اور پھربحر محیط سے جداہوکر شمال مغرب میں ہوتا ہو ایعنی مغرب کی جانب جھکتا ہوا پانچویں اقلیم کے نویں حصہ میں داخل ہوجاتا ہے ۔

٭…٭…٭