Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 677

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 677)

تیسری’’سد‘‘ روسی علاقہ داغستان میں واقع ہے یہ بھی دربنداورباب الابواب کے نام سے مشہورہے اور بعض مؤرخین اس کو ’’الباب‘‘بھی لکھ دیتے ہیں، یا قوت حموی نے معجم البلدان میں، ادریسی نے جغرافیہ میں اوربستانی نے دائرۃ المعارف میں اس کے حالات کوبہت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور ان سب کا خلاصہ یہ ہے:

’’داغستان میں دربند ایک روسی شہر ہے،یہ شہر بحر خزر( کاسپین) غربی کے کنارہ واقع ہے اس کا عرض البلد ۳،۴۳ شمالاً اور طول البلد۱۵،۴۸شرقاً ہے اوراس کو دربندا نوشیرواں بھی کہتے ہیں اور باب الابواب کے نام سے بہت مشہور ہے اور اس کے اطراف وجوانب کوقدیم زمانہ سے چہار دیوار گھیرے ہوئے ہیں جن کو قدیم مؤرخین ابواب البانیہ کہتے آئے ہیں اور اب یہ خستہ حالت میں ہے اور اس کو باب الحدید اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی سد کی دیواروں میں لوہے کے بڑے بڑے پھاٹک لگے ہوئے تھے۔(دائرۃ المعارف جلد۷ ص ۶۵۱، معجم البلدان ج ۸ص ۹)

اور جب اسی باب الابواب سے مغرب کے جانب کاکیشیا کے اندرونی حصوں میںبڑھتے ہیں تو ایک درہ ملتا ہے جو درئہ داریال کے نام سے مشہور ہے اور یہ کا کیشیا کے بہت بلند حصوں سے گزرا ہے یہاں ایک چوتھی سد ہے جو قفقازیاجبل قوقایاجبل قاف کی سد کہلاتی ہے اور یہ سد دوپہاڑوں کے درمیان بنائی گئی ہے۔بستانی اس کے متعلق لکھتا ہے:

’’اور اسی کے قریب ایک اور ’’سد‘‘ ہے جو غربی جانب بڑھتی چلی گئی ہے غالباً اس کو اہل فارس نے شمالی بربروںسے حفاظت کی خاطر بنایا ہوگا کیونکہ اس کے بانی کا صحیح حال نہیں معلوم ہوسکا۔بعض نے اس کی نسبت سکندر کی جانب کردی اوربعض نے کسریٰ ونوشیرواں کی جانب اوریاقوت کہتاہے کہ یہ تانباپگھلا کر اس سے تیاری کی گئی ہے۔‘‘( دائرۃ المعارف جلد ۷ص ۶۵۲)

اور انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا میں بھی’’دربند‘‘ کے مقالہ میں اس آہنی دیوار کا حال قریب قریب اسی کے بیان کیاگیا ہے۔ ( نواں ایڈیشن جلد ۷لفظ دربند ص ۱۰۶)

چونکہ یہ سب دیواریںشمال ہی میںبنائی گئی ہیں اور ایک ہی ضرورت کے لیے بنائی گئی ہیں اس لیے ذوالقرنین کی بنائی ہوئی سد کے تعین میں سخت اشکال پیدا ہوگیا ہے اور اسی لیے ہم مؤرخین میں اس مقام پر سخت اختلاف پاتے ہیں اور اس اختلاف نے ایک دلچسپ صورت اختیارکرلی ہے اس لئے کہ دربند کے نام سے دومقامات کا ذکر آتا ہے اوردونوں مقامات  میں سدیا دیوار بھی موجود ہے اور غرض بنابھی ایک ہی نظر آتی ہے۔

تواب دیوار چین کوچھوڑ کرباقی تین دیواروں کے متعلق قابل بحث یہ بات ہے کہ ذوالقرنین کی سدان تینوںمیں سے کون سی ہے اور اس سلسلہ میں جس دربند کا ذکر آتاہے وہ کون ساہے۔

مؤرخین عرب میں سے مسعودی ، قزوین،اصطخری، حموی سب اسی دربندکا ذکرکررہے ہیں جوبحرخزر پر واقع ہے وہ کہتے ہیں کہ اس شہر میں داخل ہونے سے پہلے بھی دیوار ملتی ہے اورشہرکے بعد بھی دیوارہے اگرچہ ایک دیوارچھوٹی ہے اور دوسری بڑی،مگر شہر سد یادیواروںسے گھرا ہواہے اور ایران کے لیے یہ مقام خاص اہمیت رکھتا ہے اور دیوارسے پرے بسنے والے قبائل کی زد سے بچاتا ہے، البتہ ابو الضیاء اور بعض اس سے ناقل مؤرخین کو یہ غلطی ہوگئی کہ انہوںنے بخارا اور ترمذ کے قریب دربند کو اور بحر خزر کے قریب دربند کو ایک سمجھ کر ایک کے حالات کودوسرے کے ساتھ خلط کردیا ہے، مگر ادریسی نے دونوں کی جغرافیائی حالت کو مفصل اور جدا جدابیان کر کے اس خلط کو دور کیا اور اصل حقیقت کوبخوبی واضح کردیا ہے۔

اس کے باوجود حال کے بعض اہل قلم کواس غلطی پر اصرار کہ سد ذوالقرنین یا سد سکندری کے سلسلہ میں جس سد کا ذکرآتاہے اس سے بحر خزریابحرقزوین کا دربند مراد نہیں ہے بلکہ بخارااور ترمذ کے قریب قریب جو دربند حصار کے علاقہ میں واقع ہے وہ مراد ہے۔( صدق ۱۸ اگست۴۱، مضمون سد سکندری)

بہرحال یہ مؤرخین بحر خزر اور کاکیشیا کے علاقہ در بند (باب الابواب) کی دیوار کے متعلق یہ واضح کرتے ہیں کہ قرآن عزیز میں جس سد کا ذکر ہے وہ یہی ہے ، مگر یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ کوئی اس کوسد سکندری کہتا ہے اور کوئی سد نوشیروانی۔ غرض دربند کے متعلق جب بھی مؤرخین کو خلط ہوجاتا ہے تو کوئی نہ کوئی محقق اس کو دور کرکے یہ ضرور واضح کردیتا ہے کہ سد ذوالقرنین کا تعلق اس دربند سے ہے جو کاکیشیا میں بحر خزر کے کنارے واقع ہے، اس دربند سے نہیں جوبخارا اور ترمذ کے قریب واقع ہے۔ چنانچہ وہب بن منبہ فرماتے ہیں:

قرآن عزیز میں جوبین السدین آیا ہے تو سدین سے مراد جبلین ہے یعنی دو پہاڑکہ جن کے درمیان سد قائم کی گئی ہے، پہاڑ کی یہ دونوںچوٹیاںبہت بلند ہیں اور ان کے پیچھے بھی آبادیاں ہیں اور ان کے سامنے بھی اور یہ دونوں منگولین سرزمین کے اس آخری کنارہ پر واقع ہیں جوآرمینہ اور آذربائیجان کے متصل ہے۔( تفسیر البحر المحیط ابو حیان اندلسی ج ۶ ص ۱۶۳)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online