Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 679

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 679)

۳)باقی تمام محققین مؤرخین ہوں یا محدثین و مفسرین امتیاز کے ساتھ یہ تصریح کررہے ہیں کہ جو سد سد سکندری کے نام سے مشہور ہے وہ وہی ہے جو بحرقزوین کے قریب دربند (باب الابواب) میں واقع ہے۔

چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اور انسائیکلو پیڈیا آف اسلام اور دائرۃالمعارف بستانی میں بھی( جو کہ جدید و قدیم تحقیق کا ذخیرہ ہیں) یہی ہے،حتی کہ برٹانیکاجلد ۱۳ ص ۵۲۶طبع یازدہم میں جو بحرقزوین والے دربند کی سد کے متعلق یہ کہا ہے کہ اس کی نسبت سکندر کی جانب کی جاتی ہے اور اس لئے سکندری کے نام سے مشہور ہے۔

 ۴)وہب بن منبہ، ابو حیان اندلسی، صاحب ناسخ التواریخ ( جو ایران کا درباری مؤرخ ہے)بستانی اور حضرت علامہ سید محمد انور شاہؒ نے دربند’’بحر قزوین‘‘ کے متعلق یہ توجہ دلائی ہے کہ سد ذوالقرنین اس دربندبحر قزوین میں نہیں ہے بلکہ اس سے بھی اوپر قفقاز کے آخری کنارہ پر پہاڑوں کے درمیان واقع ہے، چنانچہ مولانا ابوالکلامؒ نے اپنی تفسیر میں اس کا درہ داریال کے نام سے ذکر کیا ہے۔

 اب ان چاروں باتوں سے تھوڑی دیر کے لیے قطع نظر کر لیجئے اور اس مسئلہ میں بھی سابق کی طرح قرآن عزیز ہی کو حکم بنائیے تاکہ معاملہ واضح سے واضح تر ہوجائے ۔

سد ذوالقرنین کے متعلق قرآن عزیز نے دوباتیں صاف صاف بیان کی ہیں کہ ایک وہ سد دو پہاڑوں کے درمیان تعمیر کی گئی ہے اور اس نے پہاڑوں کے درمیان اس درہ کوبند کردیا ہے ،جہاں سے ہو کر یا جوج وماجوج اس جانب کے بسنے والوںکو تنگ کرتے ہیں۔

ترجمہ:’’یہاں تک جب ذوالقرنین دوپہاڑوں کے درمیان پہنچاتوان دونوں کے اس طرف ایک ایسی قوم کوپایاجن کی بات وہ پوری طرح نہیں سمجھتا تھا، کہنے لگے: اے ذو القرنین! بلاشبہ یا جوج وماجوج اس سرزمین میں فساد مچاتے ہیں۔‘‘

 دوسرے یہ کہ وہ سد چونے یااینٹ گارے سے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ لوہے کے ٹکڑوں سے تیاری کی گئی ہے، جس میں تانبا پگھلا ہوا شامل کیاگیاتھا۔

ترجمہ:’’میں تمہارے اور اس کے ( یاجوج و ماجوج کے) درمیان ایک موٹی دیوار قائم کردوں گاتم میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لا کر دو یہاں تک کہ پہاڑ کی دونوں پھانکوں (چوٹیوں) کے درمیان جب دیوار کوبرابر کردیاتو اس نے کہا کہ دھونکو یہیں تک کہ جب دھونک کر اس کو آگ کردیا کہا لائو میرے پاس پگھلا ہواتانبہ کہ اس پر ڈالوں( الجواہر طنطاوی ج ۱ ص ۱۹۸)

قرآن عزیز کی بتائی ہوئی ان دونوں صفات کو سامنے رکھ کر اب ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ بغیر کسی تاویل کے ان کا مصداق کون سی سد ہو سکتی ہے اور کس سد پر یہ صفات ٹھیک صادق آتی ہیں۔

 سب سے پہلے ہم اس سد پر بحث کرنا چاہتے ہیں جو دربند(حصار) میں واقع ہے ۔ اس سد کے حالات ساتویں صدی کے کاچینی سیاح نے ہی نہیں بیان کیے بلکہ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں، شاہ رخ کے جرمنی مصاحب سیلدبر جرر اورہسپانوی سفیر ککلا فچونے بھی پندرھویںصدی عیسوی کے اوائل میں اس کا مشاہدہ کیا ہے اور انہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ یہاں آہنی پھاٹک لگے ہوئے ہیںمگر مؤرخین یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ یہ سد ( دیوار) پتھراور اینٹ کی بنی ہوئی ہے اورآہنی دروازوں کے علاوہ دیوار کسی جگہ بھی لوہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے اور لوہے کے پھاٹکوں کی وجہ سے اس کوبھی اس طرح درہ آہنی کہتے ہیں جس طرح درہ بند( بحر قزوین) کودرہ آہنی کہاجاتا ہے۔

 نیز یہ دیوار جس طرح پہاڑوں کے درمیان چلی گئی ہے اسی طرح اس کا ایک حصہ سطح زمین پر بھی بنایا گیا ہے ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف دوپہاڑوں کی پھانکوں( چوٹیوں) کے درمیان ہی میں قائم کی گئی ہو۔

 پس اس دیوار کو سد ذوالقرنین کہنا قرآنی تصریحات کے قطعاً خلاف ہے اور غالباً اسی وجہ سے کسی ایک مؤرخ نے بھی( جو کہ دربند) حصار اور دربند( بحر قزوین) کے درمیان امتیاز کر سکے ہیں) اس دیوار(سد) کوسد ذوالقرنین یاسد سکندری نہیں کہا)

مگر تعجب ہے محترم مدیر صاحب صدق سے کہ انہوں نے قرآنی تصریحات کو سامنے رکھے بغیر تمام مؤرخین کے خلاف یہ دعویٰ کردیا کہ دربند( حصار) کی دیوار( سد) ہی ’’سد سکندری‘‘یعنی سدذوالقرنین ہے۔ شاید وہ اس جدت کے لیے اس لیے مجبور ہوئے ہیں کہ ایک تو ان کا مسلک یہ ہے کہ سکندر مقدونی ہی ذوالقرنین ہے اور دوسرے اس جانب میں سکندر کی فتوحات کی آخری حد اسی علاقہ تک ہے جیسا کہ ۱۸ اگست ۴۱؁ء کے صدق کی اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے:

’’سکندر اعظم اپنی تیسری فوج کشی میں اسی علاقہ تک گیا تھا‘‘

ظاہر کہ ان دوباتوںکی صراحت کے بعد وہ مجبور ہیں کہ دربندر( حصار) کی سدہی ذوالقرنین تسلیم کریں، مگر اس سے زیادہ یہ ظاہر ہے کہ اس سد پر نہ قرآن عزیز کی بیان کردہ صفات ہی کا اطلاق ہوتاہے اورنہ کوئی مؤرخ ہی اس کوسد سکندری یا سد ذوالقرنین کہتا ہے اور بالفرض اگر اس کو سکندری کی تعمیر تسلیم بھی کرلیا جائے توبھی وہ سد ذوالقرنین کسی طرح نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ قرآنی صفات کے مطابق نہیں ہے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor