Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 681

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 681)

ان تصریحات کے بعد اب ہم کوکہنے دیجئے کہ درئہ داریال کی یہ سد سائز (گورش یاکیخسر و) کی تعمیر کردہ ہے اور جیسا کہ ہم یاجوج وماجوج کی بحث میں بیان کرچکے ہیں یہ ان وحشی قبائل کے لیے اس نے بنائی تھی جو کاکیشیا کے انتہائی علاقوں سے آکر اس درہ میں سے گذر کر قفقازکے پہاڑوں کے اس طرف بسنے والوں پر لوٹ مار مچاتے تھے اور یہ وہی سنتھینین قبائل تھے جو سائرس کے زمانہ میں حملہ آور ہورہے تھے اور اس وقت کے یاجوج ماجوج کا مصداق یہی قبائل تھے اور ان ہی کی روک تھام کی ضرورت سے سائرس نے ایک قوم کی شکایت پر یہ سدتیار کی اور ارمنی نوشتوں میں اس سد کا جو قدیم نام پھاگ کو رائی( کور کا درہ) لکھا چلا آتا ہے،اس کورسے مراد غالباً گورش ہے جو سائرس ہی کا فارسی نام ہے۔

 اور اس کے قریب دربندر (بحرخزر) کی دیوار اس کے بعد اسی غرض سے کسی دوسرے بادشاہ نے بنوائی ہے اور نوشیرواں نے اپنے زمانہ میں اس کودوبارہ صاف اور درست کرایا ہے جیساکہ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کے حوالہ سے ہم ابھی نقل کرچکے ہیں۔

اوران تینوں دیواروں( سد) میں سے سکندر کی بنائی ہوئی کو ئی ایک سد بھی نہیں ہے اس لئے کہ سکندر کی فتوحات کی تاریخ جو کہ سامنے ہے اس سے کسی طرح یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سکندر کو اس غرض کے لیے کسی سد قائم کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو کیونکہ اس کی حکومت کے سارے دور میںیاجوج وماجوج قبائل کا کوئی حملہ تاریخ میں موجود نہیں ہے اور نہ دربند(حصار) تک پہنچنے پر کسی قوم کا اس قسم کے وحشی قبائل سے دوچار ہونا سکندر سے اس کی شکایت کرناتاریخی حقائق میں کہیں نظر آتا ہے۔

 البتہ یہ بات ضرور قابل غور ہے کہ آخر دربند( بحر قزوین یابحر خزر) کی دیوار کے متعلق سد سکندری کیوں مشہور ہوا۔ سواس مسئلہ کے تمام حقائق کو پیش نظر رکھنے کے بعد بآسانی اس کا یہ حل سمجھ میں آجاتا ہے کہ چونکہ اس مسئلہ کا تعلق یہود کی مذہبی روایات سے بہت زیادہ وابستہ ہے اور اسی لئے یہودکے سوال پر قرآن عزیز نے بھی اس کا ذکر کیا ہے تو اس بدعت اور غلط انتساب کی ابتداء بھی وہیں سے ہوئی ہے اور سب سے پہلے جوزیفس نے اس کے متعلق یہ بلادلیل بیان کیا کہ یہ سدسدِ سکندری ہے اور وہیں سے یہ روایت چل گئی اور مؤرخین اسلام میں سے محمد بن اسحاق نے بھی چونکہ سکندر یونانی کو ذولقرنین بتایااس لئے مسلمانوں نے بھی اس سد کو سدِ سکندری کہنا شروع کردیااور آخرکار اس انتساب نے شہرت حاصل کرلی۔

مذکورہ بالاسد کے متعلق اگرچہ اکثر عرب مؤرخین یہی کہتے جاتے ہیںکہ وہ نوشیرواں کی بنائی ہوئی ہے۔مگر محققین کی رائے یہ ہے کہ اس کے بانی کا صحیح علم حاصل نہیں ہوسکا۔ البتہ تاریخی قیاسات سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید اس کی مرمت اور درستی نوشیرواں نے اپنے زمانہ میں کرائی ہواور اسی وجہ سے وہ نوشیرواں کی جانب منسوب کر دی گئی ہو، بہرحال یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس سدکو سدِ سکندری کہنا ایک افواہی انتساب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، نیز سکندر مقدونی جسے انگریزی تاریخوں میں’’گریٹ الیگزنڈر‘‘ کہا جاتا ہے کسی طرح ’’ذوالقرنین‘‘ نہیں ہو سکتا اورنہ’’سد ذوالقرنین‘‘سے اس کا کوئی تعلق ہے۔

یاجوج وماجوج کا خروج

ذوالقرنین یاجوج وماجوج اور سدکی بحث کے بعد سب سے زیادہ اہم مسئلہ یاجوج وماجوج کے اس خروج کا ہے جس کا ذکر قرآن عزیز نے کیا ہے اور اس مسئلہ کی اہمیت اس لئے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس مسئلہ کا تعلق علاماتِ قیامت سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خروجِ یاجوج وماجوج کامسئلہ کہ جس کی خبر قرآن عزیز نے بطور پیشین گوئی کے دی ہے ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کو محض ظنی قیاسات سے حل کرلیا جائے اور جبکہ اس مسئلہ کا تعلق قرآنِ عزیز کے ’’اخبار مغیبات‘‘ سے ہے تو پھر اس کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق بھی قرآنِ عزیز ہی کو پہنچتا ہے نہ کہ ظن و تخمین کو۔قرآنِ عزیز نے اس واقعہ کوسورئہ کہف اورسورئہ انبیاء میں بیان کیا ہے اور اس مسئلہ سے متعلق جوکچھ بھی ہے وہ صرف ان دوسورتوں میں مذکور ہے۔

سورئہ کہف میں یہ واقعہ اس طرح مذکور ہے:

پس نہیں طاقت رکھتے وہ( یاجوج وماجوج)اس سر پر چڑھنے کی اور نہ وہ اس میں سوراخ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں( ذوالقرنین) نے کہا: یہ میرے پروردگار کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تواس کوگرا کر ریزہ ریزہ کردے گا اورمیرے پروردگار کی فرمائی ہوئی بات سچ ہے۔( سورہ کہف)

اور سورئہ انبیاء میں اس واقعہ کواس طرح بیان کیا گیا ہے:

یہاں تک کہ جب کھول دئیے جائیں گے یاجوج وماجوج اور وہ زمین کی بلندیوں سے دوڑتے ہوئے اُتر آئیں گے اور خدا کا سچا وعدہ قریب آجائے گاتواس وقت اچانک ایسا ہوگا کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور پکاراُٹھیں گے:ہائے کم بختی ہماری کہ ہم بے خبر رہے۔( انبیاء)

ان دونوں مقامات میں قرآنِ عزیز نے ایک تو یہ بتایا ہے کہ جس زمانہ میں’’ذوالقرنین‘‘ نے یاجوج وماجوج پر سد قائم کی تو اس کے استحکام کی یہ حالت تھی کہ وہ قومیں نہ اس کو پھاند کر اس جانب آسکتی تھیں اور نہ اس میں سوراخ پیدا کرکے اس کو عبور کر سکتی تھیں اور سد کی اس مضبوطی اور پائیداری کو دیکھ کر ذوالقرنین نے خدائے تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور یہ کہا کہ یہ سب کچھ خدا کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے مجھ سے یہ نیک خدمت کرادی۔

او ر دوسری بات یہ بیان کی ہے کہ جب قیامت کازمانہ قریب ہوگا تو یاجوج وماجوج بے شمارفوج در فوج نکل کردنیامیں پھیل جائیں گے اور لوٹ مار اورتباہی وبربادی مچادیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor