Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 675

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 675)

فاسق کی امامت اورا یام استراحت میں تنخواہ کا مسئلہ

سوال میں امام صاحب کے متعلق جو اوصاف ذکر کئے گئے ہیں، وہ فسق کا باعث ہیں اور ان کا مرتکب فاسق ہے، اس لئے کہ اعانت کی رقم امانت ہے اوراس میں تصرف( چاہے بعد میں ادائیگی کی نیت سے ہو) ناجائز ہے۔ ’’و الودیعۃ لا تودع و لاتعار ولا تواجرو لا ترھن و ان فعل شیئا منھا ضمن‘‘(الفتاویٰ الہندیہ: ج۴ ص۳۳۸)

اُٹھنے بیٹھنے پر قدرت کے باوجود نماز ادا نہ کرنا معصیت ہے اور یہ ان مسائل میں سے ہے جن پر فقہاء کا اتفاق ہے، اور فاسق کی امامت مکرو ہ ہے:

’’ویجوز امامۃ الاعرابی والا عمی والعبد و ولد الزنا والفاسق الا انھا تکرہ‘‘(الفتاویٰ الہندیہ: ج۱ص۴۴)

عام نمازوں میں ایسے امام کی اقتداء سے گریز کرنا چاہئے اور اگر کرلے تو اس کے اجر میں کمی واقعی ہوگی:

’’والفاسق اذاکان یوم الجمعۃ و عجزالقوم عن منعہ قال بعضھم یقتدی بہ فی الجمعۃ ولا یترک الجماعۃ بامامتہ و فی غیر الجمعۃ یستقبل من ان یتحول الی مسجد آخر ولو صلی خلف مبتدع فاسق فھو محرز ثواب الجماعۃ لکن لا ینال مثل ماینال خلف تقی‘‘(خلاصۃالفتاویٰ : ص۱۵۰)

اگر مسجد کی مجلس انتظامی کی طرف سے رسیدیں کا ٹنے کا اصول متعین ہو تو امام صاحب کا رسید نہ کاٹنا عہد کی خلاف ورزی بھی ہے اور موقع تہمت سے بھی اجتناب جو حکم شرعی ہے، اس کے خلاف بھی ہے۔ بیماری کی حالت میں تنخواہ کا مسئلہ عرف اور باہمی معاہدہ پر موقوف ہے، اسی بناء پر فقہاء نے ایام تعطیل کی تنخواہ مدرسین کے لئے اور ایام استراحت کی امام اور قاضی کے لئے جائز رکھی ہے(الاشباہ والنظائر: ص۹۶ ) لہٰذا اگر مسجد کے مروجہ ضابطہ کی رو سے خدام مسجد کے لئے بحالت بیماری کام نہ کرنے کے باوجود تنخواہ کی سہولت رکھی ہو تاکہ وہ اپنے آپ کو امامت کے لئے تیار کر سکیں تو امام صاحب کا اپنی تنخواہ لینا درست ہوگا ورنہ نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم

جن کی امامت مکروہ ہے

س:مسجد کی امامت کے لئے کیسے شخص کو منتخب کیا جائے ، کیا ڈاڑھی مونڈنے والے کی یا غیر شرعی ڈاڑھی رکھنے والے کی امامت درست ہے؟

ج:امامت بڑا منصب ہے، امام اپنے منصب کے لحاظ سے خدا کے حضور مقتدیوں کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لئے رسول اللہﷺ نے فرمایا’’الامام ضامن‘‘ اس لئے امام ایسے شخص کو متعین کرنا چاہئے جو نماز پڑھنے والوں میںنسبتاً زیادہ متقی اور نماز سے متعلق احکام سے واقف ہو،کم سے کم اتناتو ضروری ہے کہ نماز میں جتنی مقدار تلاوت مسنون ہے اتنا قرآن یاد ہو، قرآن صحیح پڑھتا ہو اور نماز سے متعلق شرعی احکام سے واقف اور آگاہ ہو،فاسقانہ وضع قطع سے احتراز کرتا ہو اور بدعتی نہ ہو۔

 داڑھی منڈانا گناہ کبیرہ ہے،اسی طرح ایسی داڑھی جو مسنون مقدارکے مطابق نہ ہو یا جس میں سنت کی ادائیگی کے بجائے صرف فیشن ہواوراہل مغرب کی نقل ہوتو فقہاء نے اس کو بھی مکروہ لکھا ہے، اس لئے ایسے شخص کی امامت مکروہ ہے ان کو خود بھی امامت سے پرہیز کرناچاہئے اور دوسروں کوبھی چاہئے کہ ان کو امام نہ بنائیں، تاہم اگر وہ نماز پڑھادیں تو نماز درست ہوجائے گی اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ص۴۴)

کراٹے میں ماہر امام

س:کسی مسجد کا امام جو کہ کراٹے میں ماہر ہواور بیرون ملک مقابلہ کے لئے ان کاانتخاب ہو،کیا ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہوجائے گی؟

ج:کراٹے کا مقصد قوت مدافعت حاصل کرنا ہے، لہٰذا اگر ساتر لباس کے ساتھ کوئی کراٹا سیکھتا اور سکھاتا ہواور اس میں ممتازہونے کی وجہ سے مقابلہ میں منتخب ہوتا ہو تو یہ ناجائز نہیں، اس لئے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، ہاں! اگر کوئی امام فسق میں مبتلا ہو تواس کی امامت مکروہ ہے لیکن مقتدی کی نماز بہر حال ہوجاتی ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حجاج بن یوسف کی اقتداء میں بھی نماز ادا کی ہے، حالانکہ فقہاء نے اس کواپنے عہد کا سب سے بڑا فاسق’’افسق اھل زمانہ‘‘ قرار دیا ہے، (مجمع الانہار: ج۱ ص۱۰۸)لبتہ ایسے فاسق کوامام مقررکرنا مکروہ ہے۔

عامل کے پیچھے نماز

س:ہمارے محلہ کے عالم ہیں اور اسی کے ساتھ عامل بھی، البتہ قرآنی عمل کے عامل ہیں سفلی عمل کے عامل نہیں، قرآنی آیات پڑھ کرپھونکتے ہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

ج:آیات قرآنی پڑھ کر دم کرنا جائز ہے اور حدیث سے ثابت ہے(صحیح بخاری)اس لئے اس میں کچھ حرج نہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ جو عامل مشرکانہ اور مبتدعانہ اقوال و افعال سے کام لیتا ہو، غیر محرم عورتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرتاہو، غیب کی باتوںسے باخبر ہونے کادعویٰ کرتا ہو، اس کو امام بنانا درست نہیں اور افسوس کہ آج کل ایسے عاملوں کی کثرت ہے۔

 امامت سے علاحدہ کرنا

 س: آج کل یہ وبا عام ہو گئی ہے کہ اگر امام حافظ یا مقرر نہ ہو یا سال میںچلہ نہ لگائے تو امام صاحب کو مسجد سے نکال دیا جاتا ہے۔

ج:اگرامامت کے لئے ذمہ داروں نے پہلے سے حافظ قرآن یا مقرر ہونے کی شرط لگائی ہو اور اسی بنیاد پر امام مقرر کیا ہو،بعدمیں معلوم ہوا کہ یہ اس وصف کے حامل نہیں ہیں توان کوعلاحدہ کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر پہلے سے یہ شرط نہیں لگائی تھی اور بعد کواس شرط کا اضافہ کیا جائے اور حافظ یا مقرر نہ ہونے یا چلہ نہ لگانے کی بناء پر الگ کیا جائے تو جائز نہیں، ویسے رسول اللہﷺ نے امامت کے لئے تین چیزوں کو معیار بنایا ہے: عالم ہونا، صاحب قرآن یعنی پوراقرآن یا قرآن کا کچھ حصہ یاد ہواور اسے بہتر طورپڑھ سکتا ہو اور متقی ( اورع) ہونا(مجمع الانہار:ج۱ص۱۰۷) صرف ان ہی باتوں کو امامت کے لئے معیار بنایا جائے تو یہ بات سنت سے قریب ترہوگی۔

اگرامام کوتاہ عمل ہو

س:مؤذن صاحب امام کی غیر موجودگی میں اکثر نماز پڑھاتے ہیں جوبدعت اور خرافات میں مبتلا ہیں،گھر میں ٹی وی کے سارے چینل موجود ہیں اور گھر کے سارے افراداسے دیکھتے ہیں، کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟

ج:شریعت میں مؤذن کا مقام بہت اونچا ہے، رسول اللہﷺ نے مؤذن اورامام کے لئے دعاء فرمائی ہے، اس لیے اگر واقعی مؤذن صاحب ان نامناسب باتوں میںمبتلا ہوں تو ان کوتوبہ کرنی چاہئے اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئے، آپ بھی نصح و خیر خواہی اور محبت کے جذبہ کے ساتھ ان کو سمجھانے کی کوشش کریں اورتنہائی میں ان سے گفتگو کریں تاکہ ان کی بے عزتی نہ ہواور خود ان کواپنی اہانت کا احساس نہ ہو، اس طرح ان شاء اللہ کسی اختلاف اورفتنہ کے بغیر ان کی اصلاح ہو سکے گی اور یہی بہتر طریقہ ہے، اگر کوئی نامناسب شخص امام یا مؤذن ہواورواقعی وہ فسق و فجور کے کاموں میں مبتلا ہو،تو انتطامیہ کو چاہئے کہ اس کی جگہ مناسب شخص کا تقرر کرے،اگر خود انتظامیہ کے لوگ اس کے لئے تیار نہ ہو ںاور اس کو ہٹانے کی کوشش میں مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار کا اندیشہ ہو، تو ایسے شخص کے پیچھے بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے اور نماز درست ہوجائے گی، اس کی کوتاہیوں کاگناہ خود اس کو ہوگا، بہرحال ہر قیمت پر مسلمانوں کی اجتماعیت کو باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اختلاف و انتشار سے مسلمانوں کوبچانا چاہئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor