Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

الفقہ 677

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 677)

نابینا کی اقتداء

س:(الف) مستقل امام (جو حافظ و عالم دین ہیں) کی موجودگی میں کیا ایک نابینا شخص کوجو حافظ اور دینی مدرسہ میں استاذ ہیں اورمستقل امام صاحب کے بھی استاذ ہیں ،فرض نماز کی امامت کے لئے آگے بڑھایاجا سکتا ہے؟

(ب)منع کرنے کے باوجود اگر نابینا حافظ صاحب کوامامت کے لئے آگے بڑھایا جائے تو کیا ہم ان کی اتباع میں فرض نماز ادا کر سکتے ہیں؟یا علاحدہ نماز پڑھنا بہتر ہے؟

(ج)نابینا شخص کے امام ہونے کی وجہ سے میں نے علاحدہ نماز ادا کی ، تو میری نمازہوگئی یانہیں؟

ج(الف) اگر وہ نابیناحافظ پاکی وغیرہ کے سلسلہ میں احتیاط کرتے ہوں اور ان کوامام بنانے پر مقتدیوں کو اعتراض نہیں ہو، توانہیں امامت کے لئے آگے بڑھانا درست ہے، نابیناکے امام بننے میں فی نفسہٖ کوئی حرج نہیں، رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کواپنے بعض اسفارکے موقع پر مدینہ کا گورنربنایاہے،ایسے مواقع پر وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے(سنن ابی داؤد ) حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور اپنے محلہ کی مسجد میں وہی امامت فرمایاکرتے تھے، بخاری میں کئی مواقع پر اس کا ذکرموجود ہے(باب المساجد فی البیوت،باب الرخصۃ فی المطر والعلۃ،باب الرخصۃ فی التخلف عن الجماعۃ بعذر وغیرذلک)فقہاء نے نابینا کی امامت کو دوصورتوں میں مکروہ قرار دیا ہے: ایک یہ کہ وہ پاکی ناپاکی کے مسئلہ میں احتیاط نہ کرتاہو، دوسرے اس کے نابیناہونے کی وجہ سے لوگ اس کی اقتداء میں کراہت محسوس کرتے ہوں(البحر الرائق:ج۱ص۳۴۸)اگر یہ باتیں نہ ہوںتو نابینا کی امامت میں کچھ حرج نہیں۔

ب) اگر لوگ ان نابیناصاحب کی امامت کو پسند نہیں کرتے ہوں توانہیں آگے بڑھانے سے گریز کرناچاہئے، لیکن اگر بڑھا ہی دیا جائے تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے ،مقتدیوں کی نمازادا ہوجائے گی۔

ج) محض امام کے نابیناہونے کی وجہ سے آپ کا علاحدہ نماز ادا کرنا قطعاًدرست نہیںاور غلط عمل ہے، رسول اللہﷺ نے توفاسق و فاجر کے پیچھے بھی نماز اداکرلینے کی اجازت دی ہے تاکہ امت کی اجتماعیت باقی رہے(سنن ابی داؤد) اور صحابہ ؓ نے حجاج بن یوسف جیسے ظالم کے پیچھے بھی نماز ادا کی ہے، امام کانابیناہونا توظاہر ہے کہ اس سے بہت ہی کمتربات ہے کیونکہ بینا اورنابیناہونا اپنے اختیارمیںنہیں ۔

مخنث کی امامت و خطابت

س:اگر کوئی شخص مخنث ہو تو کیا ا س کی امامت و خطابت ممکن ہے؟ واضح ہو کہ باوجود تنبیہ کے وہ شخص اس قبیح عمل سے باز نہیں آتا اور امامت و خطابت پر مامورہے۔

ج:اگر کوئی شخص تخلیقی اعتبار سے مخنث ہو تو مردوں کا امام نہیں ہو سکتا(الفتاویٰ الہندیہ: ج۱ ص ۸۵) اور نکاح پڑھانے کی ذمہ داری بھی اسے سپرد کرنا درست نہیں اور اگر مخنث ہونے سے بداطوار ہونا مراد ہے تو ایسا شخص فاسق و فاجر ہے، امامت و خطابت جیسے منصب پر اس کا فائز کیا جانا یا نکاح پڑھانے کی ذمہ داری اس کو سپردکرنا قطعاًدرست نہیں کہ اس سے فسق و فجور کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اورفتنہ کا اندیشہ ہے۔

 جس امام کی فجر قضا ء ہوگئی ہو

س:اگر امام کی صبح کی نمازقضا ہوگئی ہو تو کیا وہ باقی نمازوں میں امامت کر سکتا ہے؟

ج:اگرامام نے بلاعذر صبح کی نماز نہ پڑھی ہو تو یہ گناہ ہے اور اسے توبہ کرنی چاہئے اور اگر کسی عذر کی بناء پر نماز ادا نہ کر سکا تو معذور ہے، گنہگار نہیں۔ اگر وہ صاحب ترتیب ہو تو اسے چاہئے کہ فجر کی قضاء کرنے کے بعد بقیہ نمازیں پڑھائے، صاحب ترتیب نہ ہو تو ظہر سے پہلے ہی قضاء کرنا ضروری نہیں،بہرحال ایسا نہیں ہے کہ صبح کی نماز قضاء ہونے سے بقیہ نمازوں کی امامت جائز نہ ہو، امام ہو یا مقتدی ، دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔

اگر امام پابندی نہ کرے

س:امام پانچ نمازوں کی امامت کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں، اگر نماز نہ پڑھائیں تو کیا ان کی روٹی حرام نہیں ہوتی؟

ج:انسان کے ساتھ طبعی اور شرعی اعذار لگے ہوئے ہیں، اس لئے اگر کوئی امام عذر کی بناء پر کسی وقت کی امامت نہیں کرپایا یا اس نے مسجد کے مقررہ ضابطہ کے مطابق رخصت حاصل کر لی، تو ان دنوں کی تنخواہ اس کے لئے جائز ہے(الاشباہ والنظائر : ص۹۹) جیسا کہ ہر شعبۂ ملازمت میںرخصت اور تعطیل کا اصول ہے بلکہ بعض فقہاء نے تو امام کو مہینہ میں ایک ہفتہ کی رخصت دینے کی بات کہی ہے تاکہ وہ دوسرے حقوق وواجبات کوبھی ادا کرسکے اور یوں بھی امام کواتنی حقیراجرت اداکی جاتی ہے کہ جس کو تنخواہ اور اُجرت کہنا شاید مناسب بھی نہ ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ امام اور دینی خدمت گزاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت پہنچانے کی کوشش کریں،نہ یہ کہ ان کی حلال روٹی کو بھی حرام کرنے کے لئے کوشاں ہوں۔

امام کے پیچھے قراء ت فاتحہ

س:ایک مولانا نے کہا ہے کہ جب امام کے پیچھے نماز ادا کررہے ہوں تو مقتدی کو بھی سورئہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ، حالانکہ ہم نے سنااور پڑھا تھا کہ امام کے پیچھے قرآن نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ خاموش کھڑا ہونا چاہئے، صحیح طریقہ کیا ہے؟

ج:امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ پڑھی جائے یانہیں؟اس میں سلف صالحین کے درمیان اختلاف ہے، امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ اور اکثر فقہاء کی رائے ہے کہ امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھنی چاہئے، کیونکہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا کہ جس کا امام ہو تو امام ہی کی قراء ت اس کی قراء ت ہے’’من کان لہ امام فقراء ۃ الامام لہ قراء ۃ‘‘(سنن ابن ماجہ،الجوہر النقی:ج۲ص۱۵۹) اس لئے آپ جس طریقہ پر نماز پڑھ رہے ہوں یعنی امام کے پیچھے خاموش رہ کر ، وہی زیادہ صحیح ہے۔

امام کا محراب سے ہٹ کر کھڑا ہونا

س:ہماری مسجد میں محراب کوچھوڑ کر پہلی صف میں امام صاحب کا مصلیٰ بچھا یا جاتا ہے اور جماعت دوسری صف سے شروع ہوتی ہے، اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ امام صاحب کو ہر نماز محراب میں ٹھہرکر پڑھانی چاہئے، کیا واقعی یہی مسئلہ ہے؟

ج:امام کے لئے جائے قیام کے سلسلہ میں دو باتیں مستحب ہیں، ایک یہ کہ وہ وسط میں کھڑا ہو، دوسرے بلا ضرورت محراب سے ہٹ کر کھڑانہ ہو، بلا ضرورت محراب سے ہٹ کر کھڑاہونا مکروہ ہے:

’’و مقتضاہ ان الامام لوترک المحراب وقام فی غیرہ یکرہ ولوکان قیامہ وسط الصف‘‘(رد المحتار: ج۲ص۴۱۵)

زکوٰۃ کھانے والے کی امامت

س:کیا زکوٰۃ و صدقات کھانے والا امامت کرسکتا ہے؟

ج:زکوٰۃ و صدقات کے مستحق ہونے اور نہ ہونے کا تعلق آدمی کی ضرورت اور احتیاج سے ہے اور امامت کے لئے علم اورعمل صالح میں بہ مقابلہ دوسرے نمازیوں کے نسبتاً بہتراور افضل ہونا مطلوب ہے، اگر کوئی شخص امامت کرنے کا اہل ہے، اسے ذمہ داران مسجد نے امام مقرر کیا ہے لیکن معاشی اعتبار سے وہ زکوٰۃ کامستحق ہے، تو ایسا شخص امام بھی ہوسکتا ہے اور اس کو زکوٰۃ بھی دی جا سکتی ہے ،بلکہ صالحین اوردین داروں کو زکوٰۃ دینے میں زیادہ اجر ہے کیونکہ یہ نیکیوں میں بالواسطہ تعاون ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online