’’علمی نکتے‘‘ (پروفیسر حمزہ نعیم)

’’علمی نکتے‘‘

پروفیسر حمزہ نعیم (شمارہ 545)

سورۃ بقرۃ آیت ۱۷۷ میں خطاب اَصحاب رسول رضی اللہ عنہم کو تھا اور ان کے ذریعے تمام ملت اسلامیہ کو…

یا خطاب اَصحاب رسول پر اعتراض کرنے والوں کو تھا، جنہوں نے کہا تھا ’’ کیسا اسلام ہے کہ پہلے یہ لوگ انبیاء سابقین کے قبلہ ’’بیت المقدس ‘‘ کو قبلہ نماز بناتے تھے۔ اب ادھر سے منہ دوسری طرف کر لیا‘‘پہلی صورت میں بعض صحابہ کا شک دور کیا گیا۔ جس میں انہوں نے سوچا تھا کہ ہماری پہلی نمازوں کا کیا بنے گا اور جو اصحاب رسول وفات پا چکے ان کی نمازوں کا کیا بنے گا؟ انہیں بتایا کہ نمازیں اور عبادات تمہاری سب قبول ہیں اور یہ کہ اصل ایمان تو اللہ اور رسول کی فرمانبرداری اور ان کی رضا پر چلنا ہے۔ اس تحویل قبلہ کے حکم سے پہلے جو اہل ایمان فوت ہو چکے وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار تھے اور تم بھی اللہ اور رسول کے فرمانبردار ہو۔ پھر اسی بات کی تاکید تمام ملت اسلامیہ کو کر دی گئی اور تفصیل بتا دی گئی کہ اصل ایمان اور’’البر‘‘ نیکی کیا ہے؟ اور اگر یہ خطاب ’’ان تولوا ‘‘ اہل کتاب کو تھا تو گویا انہیں استقبال قبلہ، بیت المقدس اور البر کی تفصیل بتا کر انہیں اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی دعوت دے دی گئی۔

’’اسلام ‘‘ دین فطرت ہے۔ اس میں صرف عبادات پر حصر نہیں کیا گیا۔ عقائد کے بعد عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق عالیہ میں سے ہر ایک کو ’’البر‘‘ دین فطرت، اسلام کا جزء لا ینفک قرار دیا گیا۔ بصورت اول اصحاب رسول کو نہایت پُر حکمت انداز میں اسلامی کمال و جمال سمجھایا گیا۔ صیغہ حاضر کا رکھا کہ اے اصحاب رسول تم نے جو سوچا اور جو تمہارے دل میں تھا ہم وہ بھی جانتے ہیں اس کی تفصیل سمجھ لو۔ اور بصورت ثانی خطاب معترضین سے تھا کہ تم لوگ اصحاب رسول کو اپنے رسول کی اقتداء میں بیت المقدس سے بیت اللہ کعبہ معظمہ کی طرف رخ پھیرنے کو جائے اعتراض نہ بناؤ۔ وہ لوگ تو ہمارے محبوب پیغامبر کے محبوب صحابہ ہیں جن کو ہم نے آنیوالی نسلوں کے لئے کسوٹی اور معیار حق قرار دے دیا ہے۔ یہ لوگ تو اصحاب رسول ہیں بڑے عظیم ہیں۔ ہم اعلان کرتے ہیں ’’مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ‘‘ جو کوئی بھی ہو، وہ سابق اہل کتاب میں سے ہو، یہودی ہو، عیسائی ہو بلکہ غیر از بنی اسرائیل مجوسی ہو،زرتشتی ہو، یا دنیا کے کسی خطے کا کسی نظریے کا اللہ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں، فرشتوں اور آخرت کا ماننے والا ہو یا ان بنیادوں میں سے کسی کو ماننے والا نہ ہو۔

جاہل محض ہو ، یا مشرک ہو…کوئی ہو ’’مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ‘‘… وہ ان پانچوں عقائد پر ایمان لے آئے۔ اور واضح ہے کہ اب ہمارے اعلان کے مطابق اب سے تاقیامت رسول اور خاتم النبیین حضرت محمد بن عبد اللہ مکی مدنیﷺ ہیں…

اس رسول پر اس کی موجودگی میں جو کوئی ایمان لائے گا، صہیب رومی ہو، بلال حبشی ہو، سلمان فارسی ہو یا مکہ مدینہ کے اشراف ابو بکر و عمر ہوں، عرب قریش اور اوس و خزرج کے انصار ہوں۔بس ’’من اٰمن باللہ…‘‘ شرط ایمان ہے۔ نبی ﷺ کی ایک نظر ان پڑ گئی یا انہوں نے نبی آخر الزمان علیہ السلام کو بہ نظر ایمان دیکھ لیا بس پھر وہ صحابی رسول بن گئے اور رضی اللہ عنہم ورضو عنہ کا اعلیٰ ترین اعزاز اسی دنیا میں پا گئے۔ اب جو کوئی ان کے پیچھے چلے گا وہ بھی کامیاب۔

’’مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ‘‘ میں ضمیر غائب سے اصحاب رسول کی طرف بھی اشارہ ہے اور کامیابی کا زینہ تا قیامت بتا دیا۔ یہ لوگ اصحاب رسول بن کر معیار حق بن گئے۔ ان کے اعمال معیار عمل بن گئے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار اصحاب رسول میں مزاجوں میں اختلاف، ان کی صفات کی رنگا رنگی ۔سوال پیدا ہوا کس کو معیار بنائیں۔جواب ملا:’’ بایھم اقتدیتم اھتدیتم ‘‘ …جس کے پیچھے چلو گے کامیاب…یہ سارے اہل ہدایت ہیں ان سب کے راستے ایک ہی منزل ، حق کی منزل، کامیابی کی منزل تک پہنچا دیں گے۔ دنیا داری اور مال کو لات مار کر فقیر مستغنی ابوذر کے پیرو بن جاؤ تب بھی درست اور مالدار اور غنی بن کر عثمان غنی کی سخاوت اختیار کر لو تب بھی درست… اپنا مزاج دیکھو اور اسی مزاج کے صحابی کی کامل اتباع کرو البتہ کسی بھی دوسرے صاحب رسول پر اعتراض اور انگشت نمائی مت کرو کہ ان کی نسبت لاریب خاتم المعصومین کے ساتھ ہے… اور انہی کو اب ہم اس آیت میں ’’اَلَّذِیْنَ صَدَقُوْا‘‘ کی ڈگری دے رہیں ہیں۔ اور انہی کو ’’ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ‘‘ کا تاج نایاب عطا کر رہے ہیں۔ صیغہ حاضر سے کلام شروع فرمایا تھا۔ درمیان میں عمومی صیغہ کے تحت صفات عالیہ اور اخلاق سامیہ کاملہ کا تفصیلی ذکر آ گیا۔ آخر میں فعل ماضی صیغہ جمع غائب لائے اور اسم اشارہ لا کر فیصلہ کر دیا کہ ہاں وہی لوگ تھے وہی لوگ ہیں ان تمام صفات عالیہ کے حامل…

دوبارہ تاکید اسم اشارہ اور صیغہ اسم فاعل جمع کا لائے کہ یہ سارے ہی رہبر سارے ہی اہل تقوی ہیں۔ اگر اس دنیا کو ، اہل بصارت و بصیرت کو ، اہل عقل و فہم کو نار جہنم سے بچنا ہے، دنیا اور آخرت کی کامیابی اور عیش و سعادت دائمی حاصل کرنی ہے تو

لے شوق سے نام صحابہ کا

تو دامن تھام صحابہ کا

’’ رضی اللہ عنہم ‘‘

 

٭…٭…٭