Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

این جی اوز…ایک گھناؤنا کردار (محمد فاروق صدیقی)

این جی اوز…ایک گھناؤنا کردار

 محمد فاروق صدیقی (شمارہ 539)

دنیا کے تمام انسانوں کو حق حاصل ہے کہ انہیں جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے، مگر افسوس کہ آج اس بنیادی حق پر ڈاکہ ڈالنے والے اپنے ملکوں سے بہت دور بسے انسانوں سے بھی یہ تحفظ اور آزادی چھیننے میں مگن ہیں۔ لوگوں کو ان کے حقوق دلانے کے لئے رفاہی ادارے وجود میں آئے جو کہ ایک اچھا قدم تھا مگر پھر اس کی آڑ میں بھی وہ کچھ ہونے لگا جو کبھی سوچا بھی نہ گیا ہوگا۔ان رفاہی اداروں کو NGO یعنی Non-Government Organizationکہا جاتا ہے۔

این جی اوز پر عرصہ دراز سے سوالات اٹھتے رہے ہیں اور اس بات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ این جی اوز کے پاس اچانک اتنا پیسہ کہا سے آجاتا ہے کہ ان کے مالکان بڑی بڑی گاڑیوں اور شاہانہ کوٹھیوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور فلاحی ادارہ کہلائی جانے والی یہ این جی اوز کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی طرح دولت میں کھیلتی نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ امن میں ملکوں کے اندر مطلوبہ سیاسی تبدیلی لانے والی این جی اوز کو سول سوسائٹی کا نام دے دیا گیا ہے۔ سول سوسائٹی نام تو انتہائی پرکشش ہے مگر اس کے کام دیکھیں تو انتہائی گھنائونی صورتحال نظر آتی ہے بلکہ ان میر جعفروں اور میر صادقوں کو دیکھ کر پہلا تاثر ہی کراہت کا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گذرتا جارہا ہے ان این جی اوز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ صرف پاکستان یا مسلم ممالک کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلائے گئے کینسر کا نام دیا جاسکتا ہے۔

 یہ این جی اوز یا سول سوسائٹی کے ارکان جن کا طمطراق دیکھنے کا ہوتا ہے۔ جن کی آنکھیں صبح کسی عالی شان گیسٹ ہاوس میں کھلتی ہیں تو رات کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں ہوتی ہے ،سب سے زیادہ اہم بات یہ کہ ان کے پاس اپنے ہدف کو کرپٹ کرنے کے لئے فنڈز کی کوئی کمی کبھی بھی نہیں ہوتی۔ ان کے پاس یہ لامحدود فنڈز آتے کہاں سے ہیں اور دینے والوں کے مقاصد کیا ہیں، اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

ماضی میں ملکوں کو توڑنے کے لئے ایسی انجمنیں تشکیل دی جاتی تھی جو بظاھر لوگوں کی امداد کرتے تھے اور ان کا علاج معالجہ کرتے تھے مگر اس کی درپردہ وہ اپنے ٹارگٹڈ لوگوں کو خریدنے اور استعمال کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے دور میں عیسائی پادری حکومتوں سے خوب پیسہ لے کر امن کے گن گاتے مسلمانوں کی صفوں میں جا شامل ہوتے اور اپنا پیسہ استعمال کرکہ چند منافق گروہ تیار کرتے اور پھر ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ کرتے اور مسلمانوں کو عیسائی بنا کر سلطان کے خلاف کھڑا ہونے پر تیار کرتے اور اگر کوئی ان کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت کرتا تو خفیہ ہاتھوں کے ذریعہ قتل کروا دیتے یا دولت کے انبار لگا کر خرید لیتے۔ خلافت عثمانیہ کے دوران سقوطِ خلافت کے لئے ایسے ہی چند گروہ فلاحی و ترقی کی انجمنوں کی شکل میں مسلمان سربراہوں کے ارد گرد رہتے اور دولت کے انبارلگا کر خلیفہ کے خلاف ابھارتے نظر آئے۔ ماضی کی طرح آج بھی یہ این جی اوز، سول سوسائٹی، انجمنیں اور Aid  Freeکے نام پر بننے والی غیر ملکی تنظیمیں اسی مقصد کے لئے استعمال کی جا رہی ہیں۔ ایک معروف تجزیہ نگار کے بقول’’ آج ہر چیز آوٹ سورس کردی گئی ہے، جنگ بھی اور حکومتیں بھی۔ پرائیویٹ آرمی کی سب سے بڑی مثال ہمارے سامنے NATO ہے۔ جبکہ یہی اصل شکل میں بلیک واٹر یا موجودہ نام اکیڈمی کی شکل میں موجود ہیں۔ یہ پرائیویٹ کنٹریکٹرز پوری آرمرڈ فوج، ائیرپورٹ اور بندرگاہوں کے مالک ہیں اور کسی بھی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔مگر پرائیویٹ آرمی کا استعمال تو اس وقت کیا جاتا ہے جب پھل پک چکا ہو اور صرف فصل کاٹنے کا موقع ہو۔ فصل کی تیاری، اس کی بوائی اور اس کی آبیاری کے لئے تو دیگر طریقے استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے لئے ان کنٹریکٹرز کے آقائوں نے دوسری فوج تیار کررکھی ہے جس کو زمانہ امن میں فوج کشی کا نام دیا جاسکتا ہے،یہ ہے سول سوسائٹی۔ آج کا اخبار، ٹیلی رپورٹس، ریڈیو، سیمینار، سب اس لفظ سے بھرے ہوئے ہیں مگر کم ہی لوگ اس کی اصلیت سے واقف ہیںـ‘‘۔

جنوری 2012 کے آغاز میں مصری افواج نے قاہرہ میں تین این جی اوز فریڈم ہاوس، انٹرنیشنل ریپبلیکن ہاوس اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ کے دفاتر پر ہلّہ بول کے ان کو سیل کردیا۔ ان تینوں این جی اوز کو امریکہ کی مختلف تنظیموں کی طرف سے ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کی گئی تھی تاکہ وہ مصر میں عالمی سازش کاروں کے منصوبوں کی آبیاری کرسکیں۔ ان تینوں این جی اوز کے دفاتر کے بند ہوتے ہی واشنگٹن میں غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ امریکی افواج کے سربراہ لیون پینیٹا نے مصری حکام کو فون کر کے اس قدم کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے مصر کو جاری 1.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی دھمکی بھی دی۔ اس کے بعد مصر کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے ان این جی اوز کے خلاف فوجی چھاپے فوری طور پر بند کرکے ان کو دوبارہ کام کرنے کی باعزت اجازت دے دی۔ اسی دسمبر میں چینی حکام نے ہانگ کانگ میں امریکی قونصل جنرل اسٹیفن ینگ پر چین میں خفیہ ہاتھوںکے زریعہ بے چینی پھیلانے کی کوششوں کا الزام لگایا تھا۔ ہانگ کانگ کے کمیونسٹ نواز اخبار وین وی پو نے لکھا کہ اسٹیفن ینگ جہاں بھی گیا وہاں پر نام نہاد انقلاب لانے کا ذکر آیا۔  Color Revolution ہو یا عرب کی انقلاب بہار یا پھر چین میںn  Jasmine Revolutioکی کوششیں، سب کی پشت پر ہمیں ان این جی اوز یا سول سوسائٹی کا ہی کردار نظر آتا ہے۔

پاکستان میںبھی اس سول سوسائٹی نے بہت گل کھلائے ہیں۔ عمران خان کو ایک قومی لیڈر بنانے میں اس سول سوسائٹی اور میڈیا کو صرف تین ہفتے کا عرصہ لگا۔ عمران خان اس سے پہلے بھی یہی باتیں کرتے تھے مگر اس کو دیوانے کی بڑ سے زیادہ کسی نے اہمیت نہیں دی۔ اسی عمران خان کو اپنی ایک قومی اسمبلی کی نشست بھی بھیک میں دی گئی۔ مگر جب تمام معاملات طے پاگئے تو یہی عمران خان ایک دیو کی صورت اختیار کرگئے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ہم جنس پرستی کے فروغ میں سرگرم دو تنظیموں کا تعلق بھی امریکہ سے ہے اور حیرت کی بات یہ کہ ان میں سے ایک تنظیم میں پی ٹی آئی میں خاص مقام رکھنے والی خاتون بھی شامل ہیں۔ اسی طرح USAID پاکستان میں عیسائیت کو فروغ دینے، سیکولرزم پھیلانے اور اساتذہ کو کورسز کے بہانے سے ملک دشمنی پر ابھارنے میں کافی عرصہ سے مصروف ہے۔

شکوہ کریں بھی تو کس سے، جہاں حکمران جماعتوں کی فیکٹریوں سے راء کے ایجینٹ پکڑے جاتے ہوں ایسے حکمران ان این جی اوز کے خلاف کیا قدم اُٹھا سکتے ہیں اس لئے عوام خود ہی ایسی تمام نام نہاد این جی اوز کا بائکاٹ کریں تاکہ اس ناسور سے بچا جا سکے۔

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor