Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’بھارتی جاسوس اور ہماری بزنس مائنڈ حکومت (عبدالحفیظ امیرپوری

بھارتی جاسوس اور ہماری بزنس مائنڈ حکومت

عبدالحفیظ امیرپوری(شمارہ 539)

   

قیام پاکستان کے بعد  بلوچستان کے وطن عزیز میں شامل ہونے یا نہ ہونے پر بلوچستان کی  اس وقت کی قیادت کی رائے تقسیمتھی۔ جس کا فائدہ ہمارے ازلی دشمن  بھارت نے پاکستان کے ان رہنماؤں سے تعلقات بڑھاکر اٹھایا جو پاکستان حکومت سے ناراض تھے۔ ان رہنماؤں میں کچھ پشتون تھے اور کچھ بلوچ اور سندھی۔ اسی لیے قیام پاکستان کے بعد جلد ہی پشتونستان، سندھ دیش اور آزاد بلوچستان کے نعرے لگنے لگے۔ شروع میں پاکستانی علیحدگی پسند رہنماؤں کو بھارتی حکومت کی زبانی کلامی مدد حاصل رہی۔

بھارت نے سب سے پہلے مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسند رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کو ٹھوس امداد فراہم کی۔ بھارتی امداد کے سہارے ہی شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان میں اپنی علیحدگی پسند تحریک کو بڑھاوا دینے میں کامیاب رہا۔ حقیقتاً بنگلہ دیش کے قیام میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا بنیادی کردار رہا۔

پاک افواج نے جب مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندوں کے خلاف کاروائیاں شروع کیں، تو بھارتی حکمران طبقہ وسیع پیمانے پر ان کی مدد کرنے لگا۔ بھارتی صحافی اشوک رائنہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

’’۱۹۷۱ء میں ہر مہینے بھارتی سکیورٹی فورسز نے مکتی باہنی کے ہزارہا  کارکنوں کو عسکری تربیت دی اور انہیں مشرقی پاکستان بھجوایا۔ را، بھارتی فورس اور بھارتی سرحدی فورس نے مل کر سرحد پر کئی تربیتی کیمپ قائم کر لیے تھے۔ مکتی باہنی کے انہی دہشت گردوں نے مشرقی پاکستان میں مخالفوں کے خون سے ہولی کھیلی اور قتل و غارت کا بازار گرم کیا۔‘‘

واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اپنے قیام ۱۹۶۸ سے ہی پاکستان کے خلاف خفیہ سازشیں کرنے میں سرگرم ہے۔ پاکستان کو کمزور ریاست بنائے رکھنا بھارتی حکمران طبقے کا مطلوبہ ہدف ہے۔ قیام پاکستان کے وقت شدت پسند ہندو رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ یہ ملک چھ ماہ بھی نہیں چل سکتا اور دوبارہ ’’بھارت ماتا‘‘ کا حصہ بن جائے گا۔ لیکن بفضل خدا آج بھی ارض پاک قائم و دائم ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت آباد رہے گا۔

صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کی آگ کبھی مدھم اور کبھی تیز ہوتی رہی۔ جس کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ان علیحدگی پسند تحاریک کو جنم دینے میں’’را‘‘ نے اہم کردار ادا کیا۔ ان تحاریک میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب نائن الیون کا بہانہ بنا کر  امریکی افغانستان پر قابض ہوئے اور وہاں انہوں نے حامد کرزائی کو صدر بنا دیا۔  یہ افغان صدر بھارت کے بہت قریب تھا۔ چناچہ بھارتی افغانستان کی تعمیر و ترقی کے بہانے بڑی تعداد میں افغانستان پہنچ گئے۔ انہیں میں بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی کے اہکار بھی شامل تھے۔

بھارتیوں نے پاک افغان سرحد کے نزدیک عسکری تربیتی کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں میں  علیحدگی پسند بلوچ نوجوانوں کو دہشت گرد کاروائیوں کی تربیت دی گئی، نیز جدید ترین اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ یوں یہ بھٹکے ہوئے علیحدگی پسند نوجوان بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، دیگر صوبوں سے آئے ہموطنوں اور پاکستان کے حامی بلوچوں پر قاتلانہ حملے کرنے لگے۔ ان حملوں کی زد میں آکر سینکڑوں پاکستانیوں نے جام شہادت نوش کیا۔

بظاہر حکومت پاکستان بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ایشو اٹھاتی رہتی ہے لیکن اس میں بھی ان کی نیت صرف اپنی ساکھ اور ووٹ بینک کو بڑھانا ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں کبھی اتنی شدت نہیں دکھائی گئی کہ بھارت اپنی ان مذموم حرکات سے باز آجائے۔

حالیہ جاسوس جو بلوچستان سے پکڑا گیا، یہ تقریبا ایک سال پہلے کی بات ہے جب وہ پاکستانی انٹیلیجنس کی نگاہوں میں آیا۔ وہ پاکستان افغانستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں سرگرم عمل تھا۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی ’’آئی ایس آئی‘‘ نے فیصلہ کیا کہ انتہائی چوکسی سے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔ مدعا یہ تھا کہ بھارتی جاسوس کے نیٹ ورک میں شامل سبھی غیر ملکی و ملکی ایجنٹوں تک پہنچا جائے۔ یوں نہایت احتیاط سے اس کی نگرانی شروع ہوگئی۔ رفتہ رفتہ انکشاف ہوا کہ وہ بلوچستان میں کن کن افراد سے ملاقاتیں کرتاہے۔ اس کے ملاقاتیوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔ جب نیٹ ورک کے سب ہی  ارکان طشت ازبام ہو گئے، تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے قبضہ سے مختلف  دستاویز مثلا پاکستانی مقامات اور سرکاری تنصیبات کے نقشے، پاسپوٹ وٖغیرہ برآمد ہوئے۔ ان سے پتا لگا کہ وہ متفرق جعلی نام رکھتا ہے۔ پاسپورٹ میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔ یہ بھارتی ریاست مہارا شڑ کے شہر سانگلی سے جاری ہوا تھا۔

انکشاف ہوا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ ہندو ہے۔ اصل نام کل بھوشن یادو ہے۔ ۱۹۷۰ء  میں بمبئی میں پیدا ہوا۔ ریٹائرڈ اسسٹنٹ پولیس کمشنر، سدھیر یادو کا بیٹا ہے۔ اسکا چچا شبھاش یادو بھی ممبئی پولیس میں رہ چکا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ بھارتی بحریہ کے ادارے، انڈین نیوی انٹیلیجنس ڈائرکٹوریٹ سے وابستہ ہوگیا۔ دوران ملازمت ایرانی بندر گاہ چاہ بھار میں تعینات رہا۔

وسط ۲۰۱۳ء بھوشن یادو کی خدمات بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے  سپرد کر دی گئیں۔ اسے بلوچستان اور سندھ میں مصروف کار علیحدگی پسند، فرقہ وارنہ اور تخریب پسند سیاسی ومذہبی تنظیموںسے  روابط رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ’’را‘‘ چاہتی تھی کہ ان تنظیموں کو ہر قسم کی امداد دی جائے تاکہ وہ مملکت پاکستان کے خلاف زیادہ سے  زیادہ کاروائیا ں کر سکیں۔ لیکن آئی ایس آئی سمیت دیگر خفیہ اداروں نے بھوشن یادو کا نیٹ ورک توڑ کر دشمن کے  مذموم  عزائم خاک میں ملادیے۔ اب تک بھوشن کے دیگر ساتھی بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔

بھوشن یادو سے پوچھ کچھ پر انکشاف ہوا کہ وہ بلوچ لبریشن میں بطور’’ٹریننگ کمانڈر‘‘ کام کررہا تھا۔ یعنی وہ اس علیحدگی پسند تنظیم  میں شامل ہونے والے نوجوانوں کو عسکری تربیت فراہم کر تا تھا۔ اس مقصد کے لیے کل بھوشن ان کو افغانستان لے جاتا جہاں ’’را‘‘ نے تربیتی کیمپ قائم کررکھے ہیں۔ یوں یہ حقیقت بھی ثابت ہوگئی کہ پاکستان دشمن سرگرمیوں میں افغان سر زمین بھی استعمال ہو رہی ہے۔

کیااب بھی پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنا کر اِسے عدم استحکام کا شکار کرنے والے کل بھوشن یادیو کے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر کسی کو شک ہے کہ بھارت پاکستان کا ہمدرد اور اچھا دوست ہے؟؟

کیا اب بھی ہمارے بزنس مائنڈ وزیراعظم اور اِن کی حکومت کے اراکین سرزمینِ پاکستان کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کے ایجنٹوں سے عدم استحکام کا شکار بنانے والے بھارت سے تمام ملکی مفادات اور استحکام کو بالائے طاق رکھ کر اپنی جگری دوستی نبھائیں گے؟؟

کیا ہمارے حکمران اب بھی بھارت سے اپنے ذاتی اور سیاسی تعلقات25دستمبر2015ء کی طرح استوار رکھیں گے؟؟

کیا کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھی وزیراعظم پاکستان سمیت حکومتی اراکین آئندہ بھی اِسی طرح سے بھارت کی پاکستان دشمنی پر مبنی اِس ناپاک حرکت پر لب کشائی نہ کرنے کا روزہ برقرار رکھیں گے؟؟

یا ہمارے بزنس مائنڈ حکمران جن کا بھارت پر اپنے ذاتی اور تجارتی مفادات کے حصول کے خاطر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی اعتماد اور اعتبار ہے۔ وہ موجودہ بھارتی وزیراعظم اور اپنے جگری دوست نریندرمودی سے بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کے حاضر سروس نیول کمانڈر’’ کل بھوشن یادیو‘‘ کے پکڑے جانے پر اْس طرح احتجاج کریں گے؟؟ جس طرح بھارت نے سانحہ ممبئی کے ماسٹر مائنڈ اجمل قصاب کی گرفتاری کا ڈھنڈورا ساری دنیامیں پیٹاتھا؟؟ اور آج بھی بھارت جس طرح واقعہ پٹھان کوٹ پر پوری دنیا میں واویلا مچا رہا ہے اور ساری دنیا کو سر پر اٹھا رہاہے اور پاکستان کے خلاف عالمی فورم پر بھارت میں دہشت گردی کرنے سے متعلق پروپیگنڈاکرکے پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہاہے؟؟

کیا اِس طرح ہمارے وزیراعظم اور اِن کے حکومتی اراکین اور وزراء میں اتنی ہمت ہے کہ وہ بھی بھارتی ایجنسی ’’را ‘‘ کے ایجنٹ کو پکڑے جانے پر عالمی سطح پر بھارت کا چاکِ گریبان کریں گے؟؟ اور بھارت سے زیادہ نہیں تو کم ازکم بھارت کی ہی طرح چیخ چلاکر دنیاکو یہ باور کرا دیں کہ بھارت اپنے ’’ را‘‘ کے ایجنٹوں سے پاکستان میں دہشت گردی کرواتاہے، تاکہ پاکستان عدم استحکام کاشکار رہے اور اِس کی ترقی اور خوشحالی نہ ہو پائے۔

 اے کاش! ہمارے بزنس مائنڈ حکمران کچھ تو ہوش کے ناخن لیں وگرنہ وکی لیکس کے بعد اب پانامہ لیکس نے ان کے کرتوت طشت از بام کر دیے ہیں۔

خدارا! جس ملک کو نچوڑ نچوڑ کر اتنے اثاثے بنا رہے ہو کچھ تو اس ملک کی نمک حلالی کرلو!

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor