Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حوروں کا دلہا… زر محمد شہیدؒ (حبیب الحق)

حوروں کا دلہا… زر محمد شہیدؒ

حبیب الحق (شمارہ 540)

وہ دسمبر2000؁ء کی ایک یخ بستہ رات تھی ہم چند ساتھی اپنے جیش محمدؐ کے علاقائی دفتر میں بیٹھے حضرت امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ کا بابری مسجد والا بیان سن رہے تھے کہ اتنے میں ایک نوجوان جسکی عمر غالباً17یا18سال کی ہوگی ہمارے دفتر کے سامنے سے گزرتے ہوئے اچانک رک گیا۔ چند منٹ بعد وہ دفتر میں داخل ہو کر ایک کونے میں بیٹھ گیا ۔اسکی آنکھیں نشہ کرنے کی وجہ سے مرجھائی ہوئی تھی غالباً وہ اس وقت بھی نشے کی حالت میں تھا ۔بہر حال میں بھی اسکو خاموشی سے دیکھتا رہا ۔دوسری طرف امیر المجاہدین حفظہ اللہ بابری مسجد کا رونا رو رہے تھے، مسلمانوں کی غیرت کو جھنجھوڑ رہے تھے ۔کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا تذکرہ ہورہا تھا۔ میں بغور اس نوجوان کو دیکھتا رہا ۔کچھ دیر قبل جو آنکھیں مرجھائی ہوئی تھی اب ان آنکھوں سے آنسو چھلکتا ہوا میں دیکھ رہا تھا۔ اب اس سے نشے کا خمار اتر چکا تھا ۔بیان ختم ہوا اور وہ خاموشی سے اپنی آنکھوں میں انتقام کی آگ لیکر نکل گیا ۔اس کے جانے کے بعد میں نے ساتھیوں سے اس کے بارے میں استفسار کیا تو ساتھیوں نے بتایا کہ اس کا نام زر محمد ہے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے اور یہ غلط لڑکوں کی صحبت میں بیٹھ بیٹھ کر نشہ کرنے لگ گیا ہے جسکی وجہ سے اس کی والدہ کافی پریشان ہے ۔بہر حال ہم اس کے لئے راہ راست کی دعا ہی کرسکتے تھے جو ہم نے کی۔ دوسرے دن مغرب کے بعد ہم حسب سابق اپنے دفتر میں بیتھے ہوئے تھے کہ زر محمد دفتر میں داخل ہوئے ۔لیکن آج وہ نشے کی حالت میں نہیں تھا ۔اس کا وہ خوبصورت چہرہ تنا ہوا سینہ، بلوری آنکھیںآج بھی آنکھوں کے سامنے ہے ۔دعا سلام کے بعد کہنے لگا کہ مجھے جہاد پر بھیج دیجئے میں نے بابری مسجد کا انتقام لینا ہے، اس کے اس اچانک فیصلے پر ہم حیران رہ گئے ۔کہاں دنیا کے دلدل میں پھنسا ہوا وہ نوجوان آج جہاد پر جانے کی بات کر رہا تھا ۔

بے شک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں ہدایت سے نواز دیتے ہیں خیر ہم نے اس سے تیاری کا کہا ۔اگلے دن ہم نے اسکو دیگر 2ساتھیوں سمیت مدرسہ سید احمد شہیدؒ بالاکوٹ روانہ کر دیا ۔معسکر میں ابتدائی اور بڑی تربیت حاصل کرنے کے بعد کشمیر بارڈر پر پہنچا ۔تقریباً7مہینے تک وادی میں داخل ہونے کا انتظار کرتے رہے۔

اس دوران ایک بار پھر دسمبر کا مہینہ آیا سردی بڑھ گئی اور نوبت برف باری تک پہنچی، ایسے حالات میں بارڈر کراس کرنا مزید مشکل ہوگیا چنانچہ سمبر2001؁ء کے آخر میں زمہ دار حضرات نے رخصت دیکرواپس کراچی بھیج دیا ۔بھجے دل اور شہادت کا آرمان لیئے نہ چاہتے ہوئے بھی آخر واپس آگئے ۔کیونکہ ذمہ دار کا حکم تھا اور ذمہ دار کی اطاعت سے وہ بخوبی واقف تھا ۔کراچی پہنچ کر وہ دعوت جہاد دینے میں لگ گیا اور بہت بے صبری سے موسم سرما ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے ۔اکثر کہتا تھا کہ زندگی تو جہاد کی ہے دنیا تو دلدل ہے جو اس میں پھنس گیا اس کو موت کے سوا کوئی اس دلدل سے نہیں نکال سکتا ۔والدہ محترمہ نے زر محمد کے لئے رشتہ بھی دیکھ لیا اور منگنی بھی ہوگئی ۔لیکن وہ تو حوروں سے منگنی کر چکا تھا، وہ اپنی جان اللہ کو بیچ چکا تھا ۔دنیا سے دل اچاٹ ہو گیا تھا ۔ایک ہی تڑپ تھی کب موسم سرما ختم ہو اور میں وادی میں داخل ہو کر ہندو بنیا سے اپنی مائوں بہنوں کا انتقام لوں، اسی انتظار میں تقریباً4مہینے گزر گئے۔ سردی کی شدت کم ہوئی، برف بھی پگھلنے لگی، زر محمد نے دوبارہ سفر کی تیاری پکڑ لی اور اپریل2002؁ء دوبارہ لانچنگ کے لئے باردڑ پر پہنچے، اس بار اللہ نے خصوصی نصرت فرمائی انتظار کرنے کی زیادہ نوبت نہ آئی تین، چار دن کے اندر ہی لانچنگ کا انتظام ہوگیا ، اور پھر اپریل کی25تاریخ کو خونی لکیر عبور کرکے اپنے دیگرپانچ ساتھیوں سمیت مقبوضہ وادی میں داخل ہوگیا ۔ایک سال سے شہادت کے لئے تڑپنے والا آج شہادت کی دہلیز پر پہنچ چکا تھا، وادی میں صرف2دن کا سفر ہی طے ہوا تھا کہ ایک مقام پر پہنچے جہاں ایک پختہ سڑک تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ سڑک انڈین آرمی کی آمدورفت کے لئے استعمال ہوتی ہے، چلتے چلتے زر محمد اس مقام پر رک کر کچھ تلاش کرنے لگتا ہے، یہ بات اس گروپ میں شامل ایک مجاہد نے جو کراچی کا ہی تھا بتائی، ساتھیوں نے پوچھا کیا ڈھونڈ رہے ہو۔کہنا لگا میں نے یہاں کاروائی کرنی ہے چھپنے کے لئے محفوظ مقام دیکھ رہا ہوں ۔ساتھیوں نے کہا کہ پہلے مقام پر پہنچ جائیں پھر کاروائیاں کریں گے ۔لیکن اس نے کہا کہ میرا دل بغیر کاروائی کے آگے جانے کے لئے مطمئن نہیں ہورہا ہے، ساتھیوں نے کہا کہ پتہ نہیں یہاں کتنا انتظار کرنا پڑے گا انڈین آرمی کا ۔اس نے کہا آج عصر کا وقت ہے کل شام تک انتظار کرتا ہوں کاروائی ہوگئی تو ٹھیک نہیں تو آگے چلیں گے ۔دیگر مجاہد ساتھیوں کو زر محمد کے فیصلے کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے ۔ابھی تلاش تھی محفوظ پناہ گاہ کی ۔جلد ہی انہیں سڑک سے زرا ہٹ کر ایک خالی سیورج لائن نظر آئی ۔اب طے یہ ہوا کہ باقی4ساتھی سامنے پہاڑ پر چلے جائیں گے اور وہی پھر کل شام تک انتظار کرینگے اور زر محمد سڑک کنارے سیورج لائن میں چھپ کر کاروائی کا انتظار کرے گا ۔واپس آنے والا مجاہد ساتھی بتاتا ہے کہ ہم 4ساتھی پہاڑ پر چڑھ گئے اور زر محمد سیورج لائن میں پانی کی ایک بوتل اور خشک میوہ جات لیکر دشمن کی آمد کا انتظار کرنے لگا ۔مغرب اور عشاء کی نماز تیمم کرکے اسی سیورج لائن میں ادا کی ۔پوری رات ذکر و اذکار اور عبادت میں گزاری فجر کی نماز بھی اسی جگہ اداکی ۔ہم پہاڑ پر بیٹھ کر انتظار کرتے رہے تقریباً9اور دس بجے کے درمیان غیر متوقع طور پر انڈیم آرمی کا ایک قافلہ اسی طرف آتا ہوا دکھائی دیا ہم نے زر محمد کی کامیابی کے لئے دعائیں شروع کردی ۔قافلہ قریب آتا گیا جو غالباً4گاڑیوں پر مشتمل تھا ۔تین گاڑیاں سیورج لائن کے قریب سے گزر گئی جیسے ہی چوتھی گاڑی گزری زر محمد اچانک سیورج لائن سے نکل آیا گرنیڈ کی پن وہ پہلے ہی نکال چکا تھا ۔بجلی کی سی چمک کی طرح گرنیڈ آخری فوجی ٹرک میں پھینک دیا ۔چند ہی سیکنڈوں میں ایک زور دار دھماکا ہوا ۔ٹرک مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا جس میں سوار تمام فوجی خاک و خون میں تڑپ رہے تھے ۔دوسری گاڑی سے بوکھلائے ہوئے گائے کے پجاریوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی ۔چونکہ زر محمد بالکل دشمن کے نشانے پر تھا اس لئے سینے پر گولیوں کے کئی برسٹ کھا کر لیلائے شہادت کے آغوش میں چلا گیا ۔زر محمد عرف سیف اللہ تریالی اب زر محمد شہیدؒ بن چکا تھا

آئے تھے مثل بلبل، سیر گلشن کر چلے

سنبھال مالی باغ اپنا ہم مسافر گھر چلے

زر محمد شہیدؒ کے بڑے بھائی زر ملک نے بتایا کہ زر محمد کو پچپن ہی سے جہاد اور شہادت کا شوق تھا ۔اپنی والدہ سے اکثر کہا کرتے تھے کہ میں جہاد میں شہید ہونگا گھر پر نہیں مرونگا ۔ زر محمد شہید کے ماموں نے بتایا کہ مجھے کہا کرتا تھا کہ میں کافروں سے جہاد کرونگا اور شہید ہوجائونگا۔ زر محمد شہید کے بھائی نے ایک واقعہ سنایا کہ ہمارے چچا کے گھر کے سامنے ایک بہت بڑا کڈھا تھا جس میں پانی جمع تھا لوگ اس میں آکر نہاتے تھے ۔ایک مرتبہ میں اور زر محمد شہیدؒ اس کے کنارے بیٹھ کر لوگوں کو نہاتا ہوئے دیکھ رہے تھے ۔کچھ دیر بعد جب لوگ اس کڈھے میں سے نہا کر چلے گئے تو میں اور زر محمد ؒ اس کڈھے میں کود گئے، اس وقت میری عمر10اور زر محمد کی عمر9سال تھی ۔ہمیں تیرنا تو آتا نہیں تھا لیکن لوگوں کی دیکھا دیکھی اس میں کود گئے اب ہم اس میں ڈوبنے لگے اتنی دیر میں وہاں سے ایک ڈاکیا گزرا اس نے پانی میں میرا سر دیکھ لیا مجھے اس نے پانی میں کود کر بچا لیا اتنے میں زر محمد کا سر بھی نظر آیا اور اسکو بھی پانی سے نکال کر ہمارے گھر ہمیں لے گیا۔۔اس وقت اگر وہ ڈاکیا نہ آتا تو یقینا بچنا ناممکن تھا ۔۔۔لیکن زر محمد کی موت اس پانی کے کڈھے میں نہیں بلکہ کشمیر کی وادی میں شہادت کی صورت میں اللہ نے لکھ لی تھی۔شہادت کے بعد والدہ نے خواب میں دیکھا کہ سر سبز و شاداب باغات میں ٹہل رہا ہے ۔یقیناً وہ جنت میں داخل ہوچکا تھا

آج زر محمد شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے14سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کی یادیں آج بھی ہمارے دلوں میں بسی ہوئی ہیں، شہید کے علاقہ میں شہید کی یاد میں سالانہ جہادی جلسے کا اہتمام ہوتا ہے۔

زر محمد شہیدؒ نے اپنی والدہ محترمہ کے نام مختصر وصیت نامہ تحریر فرمایا ،جو ہم قارئین کی نظر کرتے ہیں ۔

محترمہ والدہ صاحبہ!

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

بعد از سلام عرض ہے کہ امید ہے آپ خیریت سے ہونگی اور گھر میںبھی ساری خیر و خیریت ہوگی ۔ضروری عرض ہے کہ میں فاروڈ کہوٹہ سے لانچ ہو رہا ہوں ۔آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے میرے مقصد(شہادت) میں کامیاب کرے ۔اور اپنے رضا ولے بندوں میں داخل فرمادیں ۔

اور آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی نماز، روزہ کی پابندی کریں اور گھر والوں کو بھی پابند کروائیں ،اور آپ کو ترغیب دیتا ہوں کہ میرے دوسرے بھائیوں کو بھی تربیت کے لئے روانہ کریں اور میرے بعد کوئی مجاہد گھر آئے تو ان کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا، اور ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا تاکہ آپ کا بھی جہاد میں حصہ ہوجائے۔

اور آخر میں تمام گھروالوں ، رشتہ داروں اور تمام دوستوں کو سلام کہنا میں بھی آپ لوگوں کے لئے دعا گو ہوں۔

والسلام

آپ کا بیٹا زر محمد عرف سیف اللہ تریالی

جماعتی وفد جب شہید کے گھر آیا تو شہید کی والدہ نے والہانہ محبت اور شفقت کا معاملہ فرمایا اور آج تک مجاہدین کے ساتھ محبت اور شفقت والا تعلق قائم ہے۔علاقے میں زر محمد شہید کے یاد میں ہونے والے جلسے کے آخر میں شہید کی والدہ کے افراد پر جماعتی مہمان اور مجاہدین شہید کے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔شہید کی والدہ چائے اور بسکٹس سے تواضع کرتی ہے ۔اب تک شہید کے گھر تشریف لانے والے مجاہدین اور علماء میں شہید اسلام حضرت مولانا مقصود شہیدرحمہ اللہ، حضرت مولانا عطاء اللہ سکھروی حفظہ اللہ (اللہ حضرت کو جلد رہائی نصیب فرمائیں) حضرت مولانا الیاس قاسمی صاحب حفظہ اللہ، حضرت مولانا استاد عبدالرشید صاحب اور حضرت مولانا محمد عمیر صاحب شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ زر محمد شہیدؒ کی شہادت کو قبول فرمائیں اور ہمیں بھی شہید کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor