Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رجب کا مہینہ… فضیلت اور برکات (ملاقات۔۔۔۔۔محمد فیض اللہ جاوید)

رجب کا مہینہ… فضیلت اور برکات

ملاقات۔۔۔۔۔محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 540)

ایک عام زندگی میں جب ہمیں کوئی تکلیف کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ہم یہ جاننے کی کوشش ضرور کرتے ہیں کہ آخر ہم کس وجہ سے اس تکلیف کا شکار ہوئے۔ کون سی ایسی غلطی ہم سے سرزد ہوئی جسکی وجہ سے ہمیں یہ مصیبت اٹھانی پڑی۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جب تکلیف اور مصیبت اجتماعی ہو جائے اور اس سے دنیا کا بیشتر خطہ متاثر ہونے لگے تو ہم اس تباہی کے اسباب پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ہم مسلمان ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی مذہب اس وقت حق پر اور خدائے وحدہ لا شریک تک پہنچانے والا ہے تو وہ صرف اور صرف مذہب اسلام ہے۔ یہ جاننے کے بعد اب اس بات پر توجہ کریں کہ اس حقیقت کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دنیا میں ان سچے مذہب ’’ اسلام ‘‘کے نام لیواؤں کا غلبہ ہوتا۔ دنیا کے اکثر خطے پر ان کی حکمرانی ہوتی۔ مسلمان جہاں کہیں بھی دنیا میں بستے ، ان کی جان و مال، عزت و آبرو سلامت ہوتی، اور انہیں کفار کے سامنے مغلوب نہ ہونا پڑتا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج سب کچھ اس کے برعکس ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مسلمان ہر جگہ مغلوب ہیں، ان کی عزت نیلام ہو رہی ہے، ان کا مال محفوظ نہیں ہے، ان کا خون پانی سے زیادہ سستا کر دیا گیا ہے، کہیں انہیں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں تو کہیں انہیں بھوکا پیاسا رکھ کر بوند بوند کے لئے تڑپایا جا رہا ہے، کہیں اپنے گھر سے در بدر کیے جا رہا ہے تو کہیں اندھیری کوٹھڑیوں میں ان کا مدفن بنایا جا رہا ہے۔

کیا کسی نے کبھی سوچا کہ آخر آج ایسی کیا غلطی ہم سے سرزد ہو گئی جس کی وجہ سے آفت در آفت میں ہم مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں؟ آئیے چند لمحے بیٹھ کر سوچتے ہیں شاید کہ ہماری سمجھ میں بات آ جائے۔کیا یہ سب اس وجہ سے کہ مسلمان قوم کم تعداد میں ہے؟ نہیں مسلمان آج پہلے سے کثیر تعداد میں ہیں۔ نمازیں بھی پڑھتے ہیں،پہلے سے زیادہ تعداد میں روزے بھی رکھتے ہیں، زکوۃ بھی دیتے ہیں، حج کرنے والوں کی تعداد میں بھی ہر سال مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، پھر آخر کیا وجہ ہے وہ کون سا اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے جو ہم سے چھوٹ رہا ہے، جسکی وجہ سے آج ہم پستی اور ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتے چلے جا رہے ہیں؟اس کا جواب ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ میں واضح ملتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اذا ترکتم الجہاد لسلط اللہ علیکم ذلاّ ( الحدیث)

جب تم جہاد ترک کر دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت اور محکومی مسلط کر دے گا۔

یہ ہے وہ حقیقت، وہ سبب، وہ وجہ… جسکی وجہ سے آج مسلمان زوال پذیر ہیں، جب تک مسلمان قوم میں جہاد کی شمعیں روشن رہیں، اسے مضبوطی سے تھامے رہنے والے موجود رہے، اسلام مضبوط رہا۔ اسلام دنیا کا سب سے نمایاں اور بالاتر مذہب رہا۔ مسلمان اس دنیا میں پر امن و سکون اور محفوظ رہے۔ لیکن جب مسلمانوں نے قرآن سے دوری اختیار کر لی، قرآن کے سب سے مفصل اور واضح ترین پیغام کو’’ فرسودہ‘‘ اور ’’ وقت کی ضرورت ‘‘جیسے خطابات سے نوازا گیا تو  مسلمانوں پر ذلت مسلط کر دی گئی، وہ پستیوں میں گرتے چلے گئے۔ اسلامی سلطنتیں تار تار ہوتی چلی گئیں اور مسلمان مغلوب ہوتے گئے۔ کفار کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب اوردبدبا جیسے جیسے دور ہوتا گیا وہ ہم پر بھیڑیوں کی طرح چاروں طرف سے ٹوٹ پڑے، انہوں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور اس اہم فریضے کو بھلانے کے لئے نہ دن دیکھا نہ رات اور نہ ہی آرام و راحت کا خیال کیا۔ مسلسل اس کوشش میں مصروف عمل رہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے دل و دماغ سے قتال فی سبیل اللہ کی عظمت کو نکال دیا جائے، انہیں بھلا دیا جائے کہ قتال اللہ کا حکم  ہے، قتال صرف ایک خاص وقت کی ضرورت تھا اب کسی پر جہاد و قتال فرض نہیں۔ اور افسوس کے ساتھ اس کڑوی سچائی کو قبول کرنا پڑتا ہے کہ کفار نے مسلمانوں کے دلوں سے نہ صرف اس کی  عظمت کو نکال دیا ہے بلکہ اس کے حقیقی معنی اور روح تک کو بدل دیا ہے۔ آج کا مسلمان جہاد کو اسلام کے لئے ( نعوذباللہ) فتنہ اور نقصان دہ قرار دینے لگا ہے۔آج اگر مسلمانوں نے اپنی عظمت اور شان و شوکت کو بحال کرنا ہے، کلمہ اسلام کی سربلندی چاہنی ہے تو مسلمانوں کے دل و دماغ میں یہ بات ذہن نشین کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا یہ شرعی فریضہ ہے، اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کسی کے سامنے اس فریضے کوثابت کرتے ہوئے شرمندہ نہ ہوں جس کو اللہ رب العالمین نے اسلام کی بلندی اور چوٹی قرار دیا ہے، اور اس کے چھوڑنے پر وہ ذلت و رسوائی اور بے بسی مرتب کی ہے جس کا امت محمدیہ آج شکار ہے۔

امیر المجاہدین حضرت مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ کی مایہ ناز تفسیر ’’ فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد عربی ‘‘ کے تعارف میں حضرت اقدس مولنا طلحہ السیف صاحب رقمطراز ہیں :

’’ قران مجید میں جو احکام و فرائض ذکر کئے گئے ہیں ان میں سب سے کثرت کے ساتھ اور سب سے مفصّل بیان کیا جانے والا حکم ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ جہاں تک کثرت کا تعلق ہے تو یہ بات قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والے کسی شخص پر مخفی نہیں ہوسکتی کہ جس قدر آیات ’’جہاد‘‘ کے بارے میں نازل ہوئیں اتنی اور کسی حکم کے بارے میں نہیں آئیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ان سب کے بارے میں نازل شدہ آیات کو دیکھا جائے اور جہاد کے بارے میں منزّل آیات کی تعداد گنی جائے تو بات بہت وضاحت کے ساتھ سمجھ میں آجائے گی۔ زیر تفسیر میں قرآن مجید کی انہی آیاتِ جہاد کو جمع کیا گیا ہے اور ان کی تفسیر لکھی گئی ہے۔ یہ وہ آیات ہیں جن کی نص میں ہی حکم جہاد وارد ہوا ہے یا ربط جلی سے ان کا تعلق حکم جہاد سے ثابت ہوا ہے۔ ان آیات کی تعداد ۵۵۸ ہے اور ان کے ساتھ اگران آیات کو بھی جوڑ لیا جائے جن میں حکم جہاد کے نزول سے پہلے اشاراتِ جہاد آئے یا جن کا تعلق بطریق ربط خفی اور ربط اخفی حکم جہاد سے جڑتا ہے تو یہ تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہوجاتی ہے۔ اتنی آیات دیگر احکام میں سے کسی کے بارے میں بھی وارد نہیں ہوئیں۔

اور جہاں تک تفصیل کا تعلق ہے تو ’’جہاد‘‘ کو دیگر احکام میں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کی جتنی جزوی تفا صیل اور ذیلی احکام قرآن مجید میں بیان ہوئے اتنے کسی اور حکم اور فریضے کے نہیں ہوئے۔ مثلاً آپ نماز کو لے لیجئے، بلاشبہ اسلام کے احکام میں وہ ایک خاص ترین مقام کا حامل فریضہ ہے، جس کی سخت تاکید وارد ہے اور ترک پر شدید ترین وعیدات ہیں، ائمہ اسلام کی اکثریت کے نزدیک تارک صلوٰۃ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، بایں ہمہ تمام قرآن مجید میں پانچ فرض نمازوں کی رکعات کی تعداد ، نماز کے داخلی  فرائض، نماز کے مفسدات وغیرہ بنیادی تفاصیل بھی مذکور نہیں بلکہ یہ تمام باتیں حدیث رسول ﷺ سے معلوم ہوتی ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کہ اس کی فرضیت کا ذکر قرآن میں جابجا ہے۔ مگر اس کی مقادیر اور دیگر اہم مسائل قرآن مجید میں وارد نہیں ہوئے بلکہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتے ہیں، اسی طرح معاملہ ہے حج کا اور صوم کا بھی۔ مگر جب ہم قرآن مجید میں حکم جہاد کو پڑھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ میدان جہاد میں مومن کو اجتماعی اور انفرادی طور پر پیش آنے والے اکثر حالات اور احکام جزئیہ قرآن مجید نے تفصیل کے ساتھ بیان کردئیے۔

کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں :

جن لوگوں نے جہاد سے پہلو تہی کی تھی انہیں منافق قرار دے دیا گیا اور اہل ایمان کی صفوں سے نکال دیا گیا، اس موضوع پر آیات کی تعداد سو سے بھی زائد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ایمان کو سچا اور انہیں دعوائے ایمان میں صادق قرار دیا جنہوں نے جہاد کو اپنے ایمان و عمل کا حصہ بنایا۔

انما المومنون الذین آمنو باللہ و رسولہ ثم لم یرتابواوجاہدو باموالہم و انفسہم فی سبیل اللہ اولٰئک ہم الصادقون (الحجرات)

اور جن لوگوں نے جہاد سے رخصت مانگی، بہانے کئے اور اعراض کا طرز عمل اپنایا انہیں صرف زبان کا مسلمان قرار دے کر ان کے ایمان کی نفی کر دی گئی۔

انما یستاذنک الذین لا یومنون باللہ،(التوبہ)

    ( تعارف فتح الجوادعربی)

کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ جس فریضہ کو قرآن نے اتنی اہمیت دی، اسے تفصیل سے بیان کیا، اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ آج ہم قرآن مقدس کے نام لیوا اسے چھوڑے بیٹھے ہیں۔ اور یہ بات طے ہے جو قرآنی احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے، چاہے وہ جیسا بھی حکم ہو، وہ نقصان اٹھاتا ہے، اسے ذلتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر مسلم معاشرے سے پردہ غائب ہوا، تو بے حیائی اور بدنظری کی وبا پھوٹ پڑی، رشوت خوری کا ناسور پھیلا تو امانت و دیانت کے حسین پھول مرجھا گئے، سود خوری جیسی لعنت نے پر نکالے تو انسانی اقدار اور اخلاص و محبت نابود ہو گئے اور حلال و حرام کی تمیز اٹھ گئی، نمازوں سے غفلت عام ہوئی تو معاشرے سے اطمینان اور سکون چھن گیا اور جہاد سے روگردانی کا جرم سرزد ہوا اور اب تک مسلسل ہو رہا ہے تو اسلام دشمن طاقتوں کے ہر تیر کا نشانہ مسلمان ہی بن رہے ہیں۔ اور یہ تب تک بنتے رہیں گے جب تک قرآن پر صحیح معنوں پر عمل پیرا ہو کر وہ سچے دین کے داعی نہیں بن جاتے۔ یاد رکھیے جو قوم گمراہی اور بد بختی کے دہانے پر کھڑی ہو… اسے اگر کوئی بچا سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف قرآن ہے۔

 ان حالات میں امت مسلمہ کو قرآن اور جہاد کی طرف بلانا کتنا ضروری ہے یہ واضح ہو چکا ہو گا اور الحمد للہ امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ نے اس میدان میں بھی اپنے سینے میں محفوظ ’’ وراثت نبوت‘‘ کا حق ادا کرتے ہوئے ’’ دورات تفسیر آیات الجہاد‘‘ کا عظیم و مبارک سلسلے کا آغاز فرمایا جو اب تک ہزاروں مسلمانوں کو قرآن کے دامن سے وابستہ کرنے اور جہاد جیسے عظیم الشان فریضے کے احیاء میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور الحمد للہ اب یہ مبارک سلسلہ وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

مسلمانوں کو قرآن کو یہ بھولا سبق یاد دلانے کے لئے دورات تفسیر یوںتو سال بھر مرکز عثمانؓ و علیؓ بہاولپور میں ہر ماہ ایمانی بہاریں لٹاتے رہتے ہیں مگر رجب اور شعبان کے مہینوں میں طلبہ و فضلائے دینی مدارس کیلئے ملک بھر کے بڑے بڑے شہروں میں ان کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے کیونکہ اس پیغام کے اصل مخاطب اور ترجمان یہی صاحبان علم ہیں جنہوں نے ان علوم کی ترویج و اشاعت کرنی ہے۔

 اگر اس اہم فریضہ سے صحیح معنی میں واقفیت حاصل کر لی جائے، اور اس سے متعلق قرآنی احکامات سیکھ لئے جائیں تو اس سے دو اہم فوائد حاصل ہوتے ہیں(۱) یہ کہ خوداس فریضے کی اہمیت دلوں میں جاگزیں ہو جاتی ہے اور اس پر عمل کرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے(۲) یہ کہ اسلام کے دیگر فرائض کی اہمیت بدرجہ اولیٰ دلوں میں جاگزیں ہو جاتی ہے اور ان پر عمل کرنا، ان کا سیکھنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ جو آدمی اللہ کی راہ میں جان لٹانے کیلئے تیار ہو جائے اس کیلئے دیگراحکام پورا کرنا اللہ تعالیٰ بہت آسان اور سہل فرما دیتے ہیں۔

ان دورات میں ملک بھر کے جید علماء کرام دروس دیتے ہیں۔ جن میں چند ایک کے نام یہ ہیں :

حضرت مفتی عبد الرؤف اصغر صاحب، حضرت مولنا طلحہ السیف صاحب، حضرت مولنا محمد عمار صاحب، حضرت مفتی محمد منصور احمد صاحب، حضرت مفتی اصغر خان صاحب، حضرت قاری صادق صاحب، حضرت مولنا گلاب شاہ صاحب، حضرت مولنا عطاء اللہ صاحب، حضرت مفتی رفیق احمد صاحب، حضرت مولنا مامون اقبال صاحب، حضرت مولنا مدثر جمال تونسوی صاحب وغیرہ ایک خاص نصاب کے تحت دورہ تفسیرآیات الجہاد کا درس دیں گے۔ یہ نصاب حضرت امیر المجاہدین مولنا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کا مرتب کردہ ہے۔

اس دورہ میں آپ جان پائیں گے :

(۱)آیات جہاد کا مکمل ترجمہ اور مشہور و معتبرمفسرین کے اقوال ۔ہر سورۃ کے شروع میں ایک مربوط خلاصہ جس میں ہر آیت جہاد کے مضمون کو مختصر الفاط میں بیان کیا جائے گا۔

(۲)ہر آیت کے معارف اور مسائل کا جامع خلاصہ

قرآن مجید میں وارد نبی کریم ﷺ کا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جنگی مہمات کا مفصل احوال۔

(۳)ہر آیت کے مضمون کے ذکر کے بعد اس کے مماثل ان دیگر آیات کا ذکر جن میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔

(۴)قرآن کے جہادی واقعات کی عصر حاضر کی جہادی تحریکات پر تطبیق اور قرآنی اصولوں کی روشنی میں عصر حاضر کے شرعی جہاد کا جائزہ۔تاکہ اہل باطل کے وساوس کا رد ہو اور اہل ایمان ان جاری تحریکات جہاد کے شرعی مقام سے باخبر ہو سکیں۔

 (۵)جہاد کے بارے میں پھیلائے گئے شبہات و تلبیسات کا مدلل و مبرہن جواب۔

(۶)خاص موضوعات کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے ان سے متعلق صحیح احادیث کے مجموعات کا بیان۔ مثلاً فضائل اسلحہ سے متعلق احادیث صحیحہ کامجموعہ، اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ، بیعت علی الجہاد اور لزوم جماعت کی اہمیت اور تاکید وغیرہ کئی موضوعات پر احادیث مبارکہ کے مجموعات کا تفصیلی تذکرہ۔

(۷)اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ جسکی آپ تمنا کر سکتے ہیں۔ جہادی علوم کا مفصل بیان، علمی نکات کا انبار، جہاد کے خلاف پھیلائے گئے ہر وسوسے کا شافی جواب، اسلام کے جنگی قوانین پر مفصل بحث اور موجودہ صورتحال  میں جہاد ممکن ہے یا نہیں جیسے سوالات ، سورۃ انفال اور سورۃ توبہ میں اس زمانے کے مسلمانوں کے لئے کون سے اسباق ہیں اور کیا غیر جہادی اسلام قابل قبول ہے؟ اس طرح کے ہر سوال کے جواب کی تسلی کروائی جائے گی۔دورات تفسیر کا شیڈول آپ ’’ الرحمت ‘‘ کے اخبار اور رسائل میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

دینی مدارس کے فضلائے کرام اور طلبہ عزیز سے دل کی گہرائیوں سے یہ گزارش ہے کہ پورے اخلاص اورہمت کے ساتھ ہر ساتھی خود بھی ان میں شرکت کی بھر پور کوشش کرے اور اپنے حلقہ تعلقات میں اس کی موثر دعوت بھی چلائے ،اس کا نفع چھ دنوں کے پر رونق ،پر بہار ایمانی و جہادی تعلیمی حلقوں میں شرکت سے خود ہی محسوس ہو جائے گا۔

ان شاء اللہ …

تو پھر آئیے… دیر کس بات کی… آج پختہ عزم و ارادہ کر لیں اور شامل ہو جائیں اس جہادی قافلے میں … اور قرآن کے اس بھولے ہوئے سبق کو دہرا کر کفار کو بتا دیں کہ ہم اپنی جہادی تعلیمات کو بھولے نہیں ہیں۔ہم آج بھی ایوبی اور غزنوی بن سکتے ہیں اور کفار کو مغلوب کر سکتے ہیں۔ انشاء اللہ

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor