Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

چائنا کا ویٹو …انڈیا کی ایک اورذلت آمیز شکست

چائنا کا ویٹو …انڈیا کی ایک اورذلت آمیز شکست

اداریہ (شمارہ 540)

گزشتہ دنوں انڈیا نے اقوام متحدہ میں مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کانام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کی درخواست دائر کی ۔ اس کا مقصد انڈیا کے اپنے مفادات بھی تھے اور پاکستان کو خطرناک دلدل میں دھنسانا بھی تھا کیوں کہ اگر ایسا ہوجاتا تو یہ بات مولانا محمد مسعودازہر سے زیادہ خود ملک پاکستان کے لیے نقصان دہ تھا اور اس طرح انڈیا اور دیگر پاکستان دشمن طاقتوں کو پاکستان پر حسبِ منشا دباؤ بڑھانے کا موقع مل جاتا اور دہشت گردی کے الزام میں گِھرا ہوا پاکستان دہشت گردی کے نئے دباؤ کا شکار ہوجاتا جو پاکستان کے لیے کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں ہے۔

لیکن بھارت کو اس وقت ذلت کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی پیش کی گئی قرارداد کو چین نے ناکافی سمجھتے ہوئے رد کردیا اور یوں بھارت کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔ چنانچہ اس کے بعد سے انڈیا اوروہاں کا میڈیا مولانا محمد مسعودازہر صاحب کے خلاف زہر اگلنے میں لگا ہوا ہے، اور مسلسل ان کے جہادی اور کشمیریوں کے حق میں دیے گئے بیانات کو نشر کر کے یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ ایک دہشت گرد اور انڈیا مخالف شخص ہے اور ایسا شخص انڈیا کے لیے خطرے کی علامت ہے اور اس سے انڈیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔بھارت کے لیے اولا تو یہی شرمناک سی بات ہے کہ وہ ایک نہتے شخص کو ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اپنے لیے اوراپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ دیکھاجائے تو اس میں اصل بات یہ نہیں کہ مولانا کی شخصیت کوئی ماورائی طاقت رکھتی ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ متنازع مسائل میں خود بھارت کی انہتائی کمزور پوزیشن اور اس کے مقابلے میں مولانا جس موقف کے علمبردار ہیں وہ اخلاقی وقانونی طور پر انتہائی مضبوط اور بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے ۔ چنانچہ مولانا کے موقف کی یہی اخلاقی وقانونی وتاریخی برتری ہے جس سے خوف زدہ ہو کر انڈیا اور وہاں کا میڈیا مولانا مسعودازہر صاحب کو اپنے لیے خطرے کی علامت سمجھتا ہے اور جب تک بھارت اپنے کمزور اخلاقی و قانونی موقف پر قائم رہے گا تو وہ اسی طرح مولانا اور ان جیسی شخصیات اور ان کی دعوت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہے گا۔

دوسری طرف انڈیا اور وہاں کا میڈیا ’’چین‘‘ کے خلاف بھی خوب جھاگ اڑا رہا ہے اور اس قضیے کو لے کر چین پر مختلف الزامات لگائے جارہے ہیں اور اسے بھارت مخالف اور بھارت دشمن باور کرایا جارہا ہے۔ خبر کی تفصیلات کے مطابق ’’بھارت کی طرف سے پیش کردہ درخواست کی ڈیڈلائن سے محض چند گھنٹے قبل چین نے اقوام متحدہ کی کمیٹی میں ہندوستانی قرار داد کو ویٹو کردیا۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے درخواست کے ساتھ جیش محمد اور مولانا محمد مسعود ازہر کے پٹھان کوٹ ایئربیس حملے میں ملوث ہونے کے غیر واضح شواہد بھی پیش کیے تھے۔ہندوستان نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ مسعود ازہر کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں نہ ڈالے جانے تک جنوبی ایشیائی ممالک کو اس دہشت گرد گروپ سے خطرہ رہے گا۔واضح رہے کہ رواں سال 2 جنوری کو پٹھان کوٹ حملے کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ کی جانب سے فروری میں اقوام متحدہ کی کمیٹی کومولانا محمد مسعود ازہر کا نام دہشت گروں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جیش محمد کو 2001میں کالعدم قرار دیا گیا تھا، تاہم ممبئی حملوں کے بعد بھی چین مولانامحمد مسعود ازہر کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی ہندوستانی قرارداد کو ویٹو کرچکا ہے۔‘‘

اس تمام صورتحال میں بھارت کا واویلا کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن پاکستان کا اس بارے میں خاموش رویہ اختیار کرنا اور اس پر کوئی بھی تبصرہ نہ کرنا انتہائی حیرت انگیز ہے گویا اس معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں، جبکہ پاکستان اس معاملے میں اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اب نہ معلوم پاکستان کی اس پر خاموشی کو رضامندی سمجھا جائے یا ناراضی؟

نیز اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ دہشت گردی کے نام سے بھارت پاکستان کو پھنسانے کے لیے کوشاں ہے جس کا خود پاکستان کو ادراک کرنا ہوگا اور بھارت دوستی کے نام پر جو جال پھیلا رہا ہے ان سے بچ کر رہنا ہوگا اور اپنے حقیقی دوستوں اور دشمنوں کو پہچاننا ہوگا!

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor