Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’ایک حقیقی وارثِ نبیﷺکا ورثۃ الانبیاء سے خطاب (۱) (عبدالحفیظ امیرپوری

ایک حقیقی وارثِ نبیﷺکا ورثۃ الانبیاء سے خطاب (۱)

عبدالحفیظ امیرپوری(شمارہ 540)

   

مدارس میں درس نظامی کے اسباق اختتامی مراحل میں ہیں۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں ختم بخاری ومشکواۃ شریف کی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں اور درس نظامی سے سند فراغت حاصل کرنے والے طلباء کی دستار بندی ہو رہی ہے۔ دستار بندی کے بعد ایک طالب علم کو ’’عالم‘‘ کا خطاب دیا جاتاہے اور علماء کا اللہ اور اس کے رسولﷺکے نزدیک کتنا اعزاز ہے، اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ’’العلماء ورثۃ الانبیائ‘‘ کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔

درس نظامی سے فراغت حاصل کرنے والے اور سر پر دستارِ فضیلت رکھنے سے کیا کوئی ’’وارثِ نبی‘‘ بن جاتا ہے اور ’’وارثِ نبی‘‘ کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں؟ اس پر پچھلے دنوں اہل حق کی جماعت جیش محمدﷺکے شعبہ المرابطون کے زیر اہتمام سالانہ تقریری مقابلے کے شرکائ، اس امت کے حقیقی مستقبل دینی علوم کے طلباء سے امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کے برادر صغیر حضرت مولانا طلحۃ السیف صاحب مد ظلہ نے خطاب فرمایا۔ حضرت کا یہ خطاب طالب علم سے ’’علمائ‘‘ کی صف میں شامل ہونے والوں کے لیے حقیقی مشعل راہ ہے۔ اپنے طالب علم بھائیوں کے لیے دستار فضیلت کی مبارکباد کے ساتھ حضرت کے خطاب کے مندرجات تحفتاً پیش ہیں۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ آپکو حقیقی وارثِ نبیﷺبنائے اور اپنی اس بھاری ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

’’اللہ تبارک وتعالی نے انبیاء کرام کی ذات مبارکہ کو امت کے لیے روشن مثال بنایا۔ جب کوئی زمانہ بغیر نبی کے گزرتا ہے۔ جس میں اللہ تبارک وتعالی کا نبی زمین پر موجود نہیں ہوتا تو زمین پر فتنے آیا کرتے ہیں۔ ایسے فتنے جو ایمان کے قاتل ہوا کرتے ہیں۔ ایسے فتنے جن میں پڑنے والا انسان حق و باطل کی تمیز کھو دیتا ہے۔ غلط اور صحیح کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالی کا صدیوں سے یہ نظام رہا ہے کہ ایسے موقع پر اللہ تعالی اپنے کسی برگزیدہ بندے کو نبوت ورسالت سے سرفراز فرما کر انسانوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا کرتے ہیں، جو آکر امت کو ٖغلط اور صحیح، حق اور باطل بتاتے ہیں۔ کم و بیش ایک لاکھ  چوبیس ہزار انبیاء اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسی نظام کے تحت آتے رہے۔

اسی نظام کے تحت ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفیﷺبھی تشریف لائے اور پھر آپﷺکی آمد کے ساتھ ہی نبوت کے دروازے کو تالا لگا دیا گیا۔ اللہ تبارک وتعالی نے نبی کریمﷺپر مہر لگا کر بھیجا کہ آپﷺوہ تاجدار رسالت ہیں کہ آپﷺکے بعد اب نبوت کا تاج کسی اور کے سر پر نہیں رکھا جائے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے صدیوں سے چلتے اس نظام کو آپﷺپر ختم فرمادیا اور پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک وقت موعود پر آپﷺکو اپنے پاس بلا لیا ۔اب یہ اللہ تعالی کے علم میں ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ اب آپﷺکے بعد قیامت تک جب بھی حق و باطل، غلط اور صحیح کو آپس میں ملایا جائے گا تو اس کی تمیز کے لیے کو ئی نبی نہیں آئے گا۔

آقاﷺدنیا سے تشریف لے گئے اور فتنوں کی آمد کا بھی بتا گئے کہ میرے بعد فلاں فلاں اور یہ یہ فتنے آئیں گے۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہﷺ! ان فتنوں کے آگے رکاوٹ کون بنے گا؟ ان سے نجات کیسے ہو گی؟ فرمایا کہ میں نے زمین پر اپنے نائب اور وارث چھوڑے ہیں، ان وارثوں کی جماعت قیامت تک چلتی رہے گی۔ جب تک ان میں ایک فرد بھی روئے زمین پر رہے گا تب تک قیامت نہیں آئے گی۔ پوچھا گیا کہ وہ ورثاء اور آپﷺکے نائبین کون ہیں؟ فرمایا: میری وراثت علم اور  میری سیرت ہے۔ قیامت تک میرے علم اور میری سیرت کو تھامنے والی جماعت اس زمین پر رہے گی۔ وہ نبی نہیں ہونگے لیکن نبوت ولا کام کریں گے۔ یوں اللہ کے نبیﷺکے علم و سیرت کے حاملین اب محمد الرسول اللہﷺکے نائب اور وارث بن گئے۔ اب محمد الرسول اللہﷺکے علم اور سیرت کو اپنانے والے ان کے خلیفہ اور وارث قیامت تک ان کا کام پورا کریں گے۔ اب اللہ رب العزت نے زمین کو یہ نظام دے دیا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ اور ان کے رسولﷺکے نزدیک نبی کا وارث اور خلیفہ صرف وہ شخص ہے جس نے نبی کے علم کو بھی تھاما ہو اور سیرت کو بھی۔ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہیں تو وہ نبیﷺکا وارث اور خلیفہ کہلانے کا حق دار بھی نہیں۔ اگر کسی کے پاس علم ہو اور نبیﷺوالی سیرت نہ ہو تو وہ لوگوں کے سامنے تو ہوسکتا ہے ’’عالم‘‘ ہو اور لوگ اس کی عزت وتکریم کریں لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺکے ہا ں وہ اس گدھے سے بھی بدتر ہے جس پر بوجھ لادا گیا ہو۔ اگر عالم کتابوں کا بوجھ اٹھا لے لیکن اس علم پر عمل نہ کرے۔ علم کی نسبت تو اپنی ذات کے ساتھ لگالے لیکن صاحبِ علم محمد الرسولﷺ،چشمۂ علمﷺ، منبعِ علمﷺ کی زندگی کو نہیں اپناتا تو اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے بے عمل عالم کو انسانوں میں ہی شمار نہیں فرماتے۔ قرآن مجید میں ایسے بے عمل عالم کو کہیں ’’کمثل الحمار‘‘ فرمایا اور کہیں ’’کمثل الکلب‘‘  فرمایا۔

واضح ہو گیا کہ اب جو شخص اور جو جماعت ان دونوں نسبتوں علم اور سیرت کو اپنائے گی، وہی نبی کا وارث کہلانے کی حقدار ہوگی۔

آپﷺجب دنیا سے تشریف لے گئے تو دین اسلا م ابھی جزیرۃ العرب تک بھی مکمل طور پر نہیں پھیلا تھا۔ آپﷺاپنے ورثاء کو اپنا علم قرآن مجید اور اپنی سیرت دے گئے کہ اب میرے ورثاء قیامت تک اس قرآن اور میری سیرت کو دیکھ کر رہنمائی حاصل کریں گے اور اس کے نظام کو پوری دنیا پر نافذ کریں گے۔

قرآن مجید میں جہاں نماز، روزہ،حج، زکوۃ اور دیگر عبادات کا ذکر ہے۔ وہیں ایک اور فریضہ بھی ہے جسے قرآن  ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ سے یاد کرواتا ہے کہ اب قیامت تک نظام، عبادات، طریقہ، بندگی، سلیقہ قرآن والا چلے گا۔ اگر دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی اور نظام، عبات یا طریقہ ہے تو اسے ختم کر کے قرآن والا نظام چلا نا ہوگا اور اسے پوری دنیا پر نافذ کرنا ہو گا۔

اے ورثۃ الانبیاء نبیﷺکی سیرت کو دیکھو! جب پوری کائنات میں کوئی انسان بھی آپﷺکے ساتھ نہیں تھا، آپﷺکا ہمنوا نہیںتھا، آپﷺکو حکم ہوتا ہے کہ آپﷺاپنی زبان مبارک سے قرآن کے نظام کی حقانیت کا اعلا ن کریں اور قرآن کے علاوہ باقی ہر نظام کی نفی فرما دیں تو آپﷺ نے بلا خوف وخطر اعلان فرمایا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کہ نظام صرف اللہ کا پسند کردہ ہی چلے گا، اس کے علاوہ کوئی نہیں اور اس اعلان کے بعد آپﷺ پر پتھر برس رہے ہیں۔ اپنے بیگانے ہو رہے ہیں۔ ہر قسم کی تکالیف جسمانی، روحانی دی جا رہی ہے لیکن آپﷺاللہ کے حکم پر اللہ کا کلمہ بلند فرمارہے ہیں۔ ڈرانے دھمکانے سے مایوس ہو کر اللہ کے رسولﷺکو ہر قسم کا لالچ دیا جا رہا ہے لیکن اللہ کے رسولﷺڈٹے کھڑے ہیں۔

یہ ورثۃ الانبیاء کی تربیت تھی کہ اس نظام اور کلمہ کو بلند کرنے پر، پہلے پہل تمہیں ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش ہوگی۔ اگر تم ثابت  قدم رہے تو پھر تمہیں لالچ دی جائے گی۔ اگر تم ان کی لالچ میں بھی نہیں آئے تو تم واقعی حقیقی ورثۃ الانبیاء کہلانے کے حق دار ہو۔

اب اگر آج ورثۃ الانبیاء میں سے کسی وارث کے سر پر تلوار رکھ کر کہا جائے کہ محمد الرسولﷺکے  دین میں سے تھوڑی سی کمی کردو! ورنہ ماردیں گے۔ سود میں گنجائش نکالو! پردے میں گنجائش نکالو! جہاد میں گنجائش نکالو! اللہ کے نبی جن احکام کا جو مطلب اور وقت بتا کر گئے، ان کے معنی بدل ڈالو! ان کے مفاہم، ان کے اوقات بدل ڈالو! اگر وہ وارث اپنے جان ومال کے خوف کی وجہ سے ایسا کرتا ہے وہ کچھ بھی بن جائے محمد الرسول اللہﷺکا وارث نہیںبن سکتا۔ اگر کوئی آدمی لالچ کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، وہ کچھ بھی بن جائے محمد الرسول اللہﷺکا وارث نہیںبن سکتا۔کیونکہ دین کی خاطر اس سر زمین پر سب سے پہلا خون کا قطرہ خود محمد الرسول اللہﷺ کا گرا ہے۔ اگر کسی خوف و لالچ اور مصلحت کی خاطر دین میں کمی کی گنجائش ہوتی تو محمد الرسول اللہﷺکی زندگی اور خون سے بہتر کسی کی زندگی اور خون نہیں ہو سکتا۔

آپﷺنے اگر اپنے وارثوں سے مال مانگا، تو سب سے پہلے اس دین کی خاطر اپنا مال لگایا۔ اس دین کی حفاظت کے لیے اگر اپنے وارثوں سے اولاد مانگی تو اس دین کے لیے سب سے پہلے قربان ہونے والے اور سب سے پہلے شہید ہونے والے آپﷺکے ربیب حضرت خدیجہؓ کے بیٹے حضرت خالد بن ابی ہالہ تھے۔

اس طرح آپﷺنے اپنے ورثاء کے لیے کڑا معیار رکھا کہ نبیﷺکا وارث وہ ہوگا جو اس دین کے لیے اپنا مال بھی پیش کرے گا، زخم بھی کھائے گا، اپنا خون بھی بہائے گا اور اپنی اولاد کو بھی اس دین پر قربان کرے گا۔

(جاری ہے)

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor