Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’جزبہ خلوت گاہِ حق آرام نیست (پروفیسر حمزہ نعیم )

جزبہ خلوت گاہِ حق آرام نیست

پروفیسر حمزہ نعیم (شمارہ 540)

شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اس آیت ۱۷۷(سورۃ البقرۃ) کی تفسیر میں عجیب نکتے بیان فرمائے ہیں۔ فرماتے ہیں اس آیت پر سورۃ بقرہ نصف ہوتی ہے اس سے پہلے کے نصف میں امت دعوت یہود و نصاریٰ وغیرہ کو خطاب و عتاب تھا اور اب آخر سورت تک امت اجابت کو خطاب ہے، ان کو عبادات، معاملات اور معاشرت وغیرہ کے احکام کی تعلیم و تلقین ہے اور فرمایا: صحابہ کو دیکھو ، ہر خیر میں کامل اور صادق ہیں، ایمان میں کامل،اخلاق میں کامل اور اعمال میں بھی صادق اور کامل ہیں۔ اس آیت میں چھ چیزیں بیان ہوئیں ۔ایمان کی پانچ بنیادیں، اس کے بعد مال کا خرچ کرنا، نماز ، زکوۃ، وعدے اور عہد کا پورا کرنا اور صبر کرنا سختی ، تکلیف اور جنگ و جہاد کے وقت…

جس کسی نے ان چھ چیزوں کو مکمل کر لیا وہ اَبرار میں داخل ہو گیا اور اَصحاب رسول رضی اللہ عنہم سب کے سب ان سب میں کامل اور اَبرار میں داخل ہیں۔ اس آیت کے آغاز میں واضح فرما دیا کہ نجات کے لئے فقط استقبال قبلہ کافی نہیں ہاں، استقبال قبلہ اور ادائے نماز اعمال اسلام میں سے ایک اہم جزء ہے۔اصل نیکی اور خوبی اپنے دلوں کو اللہ کی طرف پھیرنا ہے۔ جب یہ ہو گیا تو سب احکام و اعمال آسان ہو جائیں گے۔ اور عقائد کی درستی تو اول بنیاد ہے اس کے بغیر سب بیکار محض ہے۔ اگر عقائد خمسہ درست نہیں تو عبادت ، اچھے معاملات، اچھے اخلاق اور اچھی معاشرت سب اکارت جائیں گے۔ ممکن ہے دنیا میں ان اچھی صفات کا اچھا بدلہ مل جائے مگر درست عقائد جن کا ذکر اس آیت میں ہوا وہ نہ ہوئے تو اچھے اخلاق، اچھی معاشرت، اور اچھے معاملات سب بے کار ہوں گے۔ یہ خالق کا فیصلہ ہے۔ کسی دنیوی حاکم یا کسی دنیوی عدالت کا نہیں۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ یہاں تک حقوق العباد کا بیان ہوا۔ اب حقوق اللہ کے بیان میں فرمایا : اَقام الصلوۃ وآتیٰ الزکوۃ…

گویا پہلے جو صدقات اور مصارف مال کا ذکر ہوا وہ حقوق العباد کے سلسلے میں تھا۔ اب ایتاء زکوۃ اللہ تعالیٰ کی ادائیگی حق کے سلسلے میں لایا گیا۔ آیت کے اگلے حصہ میں ان خصال عالیہ کا ذکر ہے جو بندہ خود اپنے اوپر لازم کر لے جیسے کسی کے ساتھ کوئی عہد کیا ہے، نذر مانی ہے۔اس عہد اور نذر کو پورا کرنا ضروری ہے۔ پھر خصوصی اہتمام کے ساتھ صبر کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ مصائب تین قسم کے ہوتے ہیں:مالی، بدنی اور جانی…تنگدستی مالی مصیبت ہے، مرض بدنی مصیبت ہے اور جہاد میں بہ ظاہر جان کا خطرہ ہوتا ہے لہٰذا اس پر صبر کرنا گویا جانی مصیبت پر صبر کرنا ہے۔ تینوں مصیبتوں میں صبر کرنے والا صابر کامل ہے۔ اگر یہ نہیں تو صبر کامل نہیں…لائق فکر بات یہ ہے کہ جب اللہ جل جلالہ نے خالی استقبال قبلہ کو لیس البر فرما دیا کہ جب عقائد و اعمال اہل قبلہ، اہل اسلام کے نہیں تو صرف استقبال قبلہ کیسے کافی ہو سکتا ہے، اہل قبلہ کہلانا اور مردم شماری میں اہل اسلام اور کلمہ گو کہلانا کب نفع دے سکتا ہے؟ اسی لئے تو اللہ پاک نے کئی مقامات پر قرآن کریم میں واضح فرمایا اور اعلان فرمایا کہ تم کو صحابہ جیسا ایمان لانا ہو گا، صحابہ جیسا عمل کرنا ہو گا۔ اگر اس کسوٹی پر پورے اترو گے تو کھرے ورنہ کھوٹے کہلاؤ گے۔ اور کھوٹا سکہ ممکن ہے دنیا میں چل جائے، اس کا کھوٹ پکڑا نہ جائے، وہ کھروں میں گھل مل جائے مگر اصدق الصادقین ،احسن القائلین ، رب العالمین کے ہاں کھوٹ کو چھپانا ہرگز ممکن نہ ہو گا۔ اپنے ہی فائدے کی بات یہ ہے کہ اللہ اور رسول کو حق مان کر اصحاب رسول کو حق مان کر اصحاب رسول کے نقوش قدم پر چلا جائے۔ یہی معیار اللہ نے دیا ہے ۔وہ بے نیاز ہے اسے کبھی کسی طور پر کسی کی محتاجی نہیں ۔اگر اس نے اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دی ہے تو یہود و نصاری ، ہنود اور مجوس بلکہ دنیا کے ہر نظریے والوں کو اس دعوت پر ٹھنڈے دل سے غور کر کے اسلام قبول کرنا ہو گا۔ اور جن خوش نصیبوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی ہے ان کو کسوٹی پر اترنا ہو گا۔ اسی میں فائدہ ہے کہ دل کی گہرائیوں سے اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کو معیار حق مان کر ان کے احترام اور ان سے دلی محبت کے ساتھ ان کے قدم بہ قدم چلنا ہو گا۔

قرآن پاک میں جگہ بہ جگہ اہل ایمان، اہل شکر، اہل ہدایت کو قلیل بتایا گیا ہے۔ مگر کسی پر کوئی زبردستی نہیں۔ حضرت تھانویؒ نے لکھا ہے: یھدی من یشاء کا یہ معنی بھی ہے کہ جو کوئی ہدایت چاہتا ہے اسے اللہ ہدایت دے دیتا ہے۔ دوسرے مقام پر خود اللہ پاک نے فرمایا : من شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر جو کوئی چاہے ایمان لائے اور جو کوئی چاہے کافر بنے۔ حضرت ڈاکٹر عبد الحیّ عارفی رحمہ اللہ سے سنا، فرمایا کرتے تھے:’’تم خود اللہ سے مانگ لو۔ یا اللہ مجھ سے گناہ نہیں چھوٹتا، ہدایت والا عمل نہیں ہوتا، تو ہی مجھ سے گناہ چھڑوا دے۔ آپ قادر مطلق ہیں آپ چھڑوا سکتے ہیں میں نے آپ سے عرض کر دیا ہے۔ ورنہ یوم حساب مجھ سے جواب طلب نہ کیجئے گا۔ فرمایا اگر تم نے یہ کر لیا اور دلی توجہ اور ندامت کے ساتھ کر لیا تو تم بری الذمہ ہو جاؤ گے‘‘… اپنا ہی بھلا اور فائدہ اسی میں ہے کہ رجوع الی اللہ کر لیا جائے۔

ہیچ کنجے بے دادو بیدام نیست

جزبہ خلوت گاہِ حق آرام نیست

 

٭…٭…٭

 

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor