Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

لائن آف کنٹرول پر بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت (اداریہ)

لائن آف کنٹرول پر بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت

اداریہ (شمارہ 675)

بھارت کا رویہ شروع سے ہی ایک پڑوسی کے بجائے ایک دشمن کا سارہا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر میں تواس کی افواج اور سیکیورٹی اداروں کی طرف سے ھائیوں پر مشتمل ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہی ہے اور وہ ضداور ہٹ دھرمی کی حدود کو بھی کراس کرچکا ہے مگر پاکستان کے ساتھ لگی سرحدات پر بھی بھارت کی طرف سے وقتا فوقتا شورش اور گولہ باری جاری رہتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے ہر مہینے متعدد افراد شہید اوراپاہج اور آبادی کا لاکھوں کا نقصان ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے اب تو کئی سرحدی علاقے آبادی سے تقریباً خالی ہوچکے ہیں۔

حالانکہ پاکستان کے حکمران مسلسل دوستی اور امن کا ہاتھ بڑھانے کا سلسلہ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں مگر دوسری طرف اس کا جواب لائن آف کنڑول پر مسلسل گولہ باری کر کے دِیا جا رہا ہے۔حتی کہ ابھی شمسی سال کے اختتام پر بھی بھارت کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرتے ہوئے شاہ کوٹ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شہری شہید اور 9افراد زخمی ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی پر رہنے والے شہریوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں آسیہ بی بی نامی شہری شہید اور 9افراد زخمی ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی سے زخمیوں میں 3بچے اور 2خواتین بھی شامل ہیں، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے بھارتی فوج کی شہری آبادی پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی پر فائرنگ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بھارتی اَفواج نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے، ہم بھی بھارتی جارحیت کا موثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ رواں ماہ 18 دسمبر کو بھی بھارتی فوج نے راولا کوٹ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں دو شہری 16 سالہ محمد عدنان اور 47 سالہ محمد رشید زخمی ہوگئے تھے۔اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سالوں میں کے مقابلے میں بھارت نے امسال زیادہ جارحیت دکھائی اسی وجہ سے 2017 اور 2018 میں سیز فائر کی متعدد بار خلاف ورزی کی گئی۔پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سیزفائرکی خلاف ورزی کاگراف تیزی سے اوپرگیاہے، رواں سال اب تک 55 شہری شہید اور 300سے زائد زخمی ہوئے۔

بھارت کی اس جارحیت کے جواب میں بھارتی ہائی کمشنر کی دفتر طلبی تو اپنی جگہ درست اِقدام ہے مگر یہ مسئلہ کا حل نہیں بلکہ بھارت کو اسی کی زبان میں منہ توڑ جواب کی ضرورت ہے۔ ورنہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی یہ دہشت گردی کم نہیں ہو گی بلکہ اور طول پکڑے گی۔ جو بھوت باتیں نہ مانیں تو انہیں پھر لاتوں سے ہی سمجھاجاتا ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor