Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بھارتی سیاست اور مسلم دشمنی کا ہتھیار (اداریہ)

بھارتی سیاست اور مسلم دشمنی کا ہتھیار

اداریہ (شمارہ 676)

بھارت خود کو منی سپرپاور اور دنیا میںسیکولرازم کے سب سے بڑے علَمبردار کے طور پر باور کراتا ہے، جو حقیقت سے کہیں دور، محض ایک پروپیگنڈہ دکھائی دیتا ہے ، اور بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلم دشمنی کو جس طرح پروان چڑھایا جاتا ہے اور بھارت سرکار مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ کررہی ہے، وہ بھارت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے اور اس کی اصل حقیقت عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔

چنانچہ جب یہ اندازہ لگایاجاتاتھا کہ بھارت میں مختلف سیاسی جماعتیں حکومت میں آنے کے لیے سب سے زیادہ ’’مسلم دشمنی‘‘ کاکارڈ استعمال کرتی ہیں۔ یہ حقیقت اب اتنی عیاں ہوچکی ہے کہ خود وہاں کے نامور افراد اس کا اعتراف کررہے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں مودی کے سابق وزیر سبرا منین سوامی نے الیکشن جیتنے کاسادہ سا فارمولا میڈیا کو بتایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ’’معیشت اور کارکردگی پر کبھی الیکشن نہیں جیتے جاتے، الیکشن جیتنے کے لیئے جذبات کو ابھارنا ہوتا ہے۔ ہندتوا کو مضبوط کرو، ہندوؤں کو متحد کرو، مسلمانوں کو سنی وہابی، شیعہ بوہرہ اور 3 طلاق کے معاملے میں مسلم مرد اور عورت کو تقسیم کرو، ہم الیکشن جیتیں گے۔‘‘

دیکھا جائے تو یہی بی جے پی کا اصل مقصد اور ماٹو ہے۔ وہ اسی اصول کے تحت اقتدار میں آتے ہیں اوراسی مقصد کے لیے سیاسی ہتھیار استعمال کرتے ہیں، پھر اگر اقتدار میں آجائیں تو حکومتی طاقت بھی مسلمانوں کے خلاف بروئے کار لاتے ہیں اور اگر اقتدار نہ ملے تو دنگا فساد کرکے مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ بھارت کی کسی سیاسی جماعت نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مستقل کے بارے کبھی اچھا نہیں سوچا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ۷۱ برسوں سے مسلمانوں کی حالت زارہوچکی ہے۔بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی 94.9 فیصد خطِ افلاس سے نیچے اور شہری علاقوں میں 61.1 فیصد خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بی جے پی اور کانگرس سمیت تمام سیکولر پارٹیاں انڈین آرمی،خفیہ ادارے،پولیس ،میڈیا اور عدلیہ کا بڑا حصہ انہیں مشکوک سمجھتا ہے۔ عام سہولیات کی فراوانی تو دور کی بات، اپنے آبائی علاقوں کے باہر کرائے پر دکان یا مکان دیا جانا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ گائے کے نام پر کسی پر بھی جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔فساد کے دوران ایک ہی دن میں سینکڑوں افراد بدترین تشدد اور قتل عام کا نشانہ بنادیے جاتے ہیں، سینکڑوں زندہ جسموں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا جاتا ہے، عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی ہے۔ نہ گھر محفوظ ہے اور نہ چار دیواری کا تقدس۔ آج بھی انڈیا بھر کی جیلوں میں مظلوم و مجبور مسلمان سب سے زیادہ تناسب میں موجود ہیں جنہیں صرف اور صرف اسلام دشمنی کے بنا پر قید و بند کی صعوبتوں میں رکھا جاتا ہے۔

اب جب کہ بھارتی سیاست کا یہ مکروہ چہرہ بالکل عیاں ہوچکا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارتی مسلمان اپنی الگ شناخت اور اپنی الگ ساکھ برقرار رکھنے کے لئے بی جے پی اور کانگریس جیسی مسلم دشمن جماعتوں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ اپنی ایمانی طاقت کے بل بوتے اپنی سماجی اور سیاسی شناخت مضبوط بنائیں، تاکہ بھارت کے متعصب ہندو ان کے خلاف ایسے پروپیگنڈے کرنے سے پہلے سو بار سوچیں اور پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کے حقوق کے لیے توانا آواز بنے اور مسلماوں کے خلاف بھارتی سیاسی چالوں کا اسی کی زبان میں جواب دے، بھارت کی گیڈر بھبکیاں اس بات کی غماز ہیں کہ وہ اندر ہی اندر خوف سے بہت ہی زیادہ کانپ رہا ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor