Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کشمیر میں جاری ظلم کا راج (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

کشمیر میں جاری ظلم کا راج

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 675)

مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کی مدت مکمل ہونے پر قابض بھارتی حکومت نے وادی میں صدارتی راج کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی میں گورنر راج کی مدت مکمل ہوگئی ہے اور گورنر ستیاپال ملک کی جانب سے مرکز کو رپورٹ ارسال کی گئی جس میں صدارتی راج کی سفارش کی گئی۔ قابض بھارتی حکومت نے گورنر کی سفارشات منظور کرتے ہوئے صدارتی راج نافذ کرنے کی منظوری دے دی، اگر حکومت کی جانب سے انتخابات کا اعلان نہ کیا گیا تو صدارتی راج 6  ماہ تک برقرار رہے گا۔ یاد رہے کہ رواں سال جون میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں کٹھ پتلی حکومت کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کی جس کے بعد وزیراعلیٰ محمودہ مفتی کی حکومت اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھی۔ اسمبلی میں مقررہ نشستیں نہ ہونے پر وادی میں گورنر راج کا نفاذ کیا گیا جس کی مدت اب مکمل ہوگئی ہے۔

گورنر راج کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ڈھونگ بلدیاتی انتخابات کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں 95.73  فیصد کشمیریوں نے بائیکاٹ کر کے بھارت اور دنیا بھر کو واشگاف انداز میں اپنا فیصلہ سنایا۔ میونسپل انتخابات کا ٹرن آؤٹ 4.27  فیصد رہا، اتنا کم ٹرن آؤٹ وادی میں 1951 سے اب تک کم ترین ریکارڈ ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ضلع بارہ مولا میں ایک امیدوار صرف ایک ووٹ لے کر کامیاب ہوا۔

کشمیر میں گورنر راج ہو یا صدارتی راج یا کٹھ پتلی جمہوریت ہر دور میں ظلم کا راج جاری رہتا ہے اور دوسری طرف الحمد للہ مجاہدین غزوۃ الہند اپنے کشمیری بھائیوں کی آخری امید بن کر بھارت کو مکمل طور پر قابض ہونے کی راہ میں سدِّ سکندری بنے کھڑے ہیں اور تحریکِ کشمیر میں الحمدللہ غزوۃ الہند کے مجاہدین کافی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، کسی بھی تحریک کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار مزاحمت کے باقی رہنے پر ہوتا ہے۔ الحمدللہ یہ مزاحمت نہ صرف باقی ہے بلکہ اس میں روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف مجاہدینِ کشمیر اپنی جان کی بازی اور خون دے کر اس تحریک کو جلا بخش رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں میں ہی ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جسے جہادِ کشمیر پر تحفظات ہیں۔ تحریکِ کشمیر کے جانباز مجاہد محمد افضل گورو شہیدؒ کی فکر انگیز اور عملی دعوت سے بھرپور کتاب ’’آئینہ‘‘  سے تحریکِ کشمیر کے متعلق چند اہم اقتباسات پیشِ کر رہے  ہیں:

’’جہاد کشمیر اب ناگزیر بن چکا ہے۔ پچھلے بیس20 سالوں کے دوران بھارت کی سامراجی مکاری، چانکیا کی سیاسی پالیسی، برہمنیت و فرقہ پرستی پر مبنی بیوروکریسی، فوج، خفیہ ادارے وغیرہ ان کے پروگرام و پالیسیاں اور پاکستانی حکمرانوں کا منافقانہ، بزدلانہ رویہ، مسئلہ کشمیر کے متعلق ٹھوس و یقینی پالیسی کا فقدان، نام نہاد کشمیری علیحدگی پسندوں کا جہاد اور شہداء کے مقدس لہو کی توہین و تذلیل کرنا، جہاد کو گاندھی و کرزئی واد، مسخرہ پن، غنڈہ گردی کی طرف دھکیل دینا… وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب عوامل اور حقائق سامنے آتے رہے۔ ان تمام عوامل (Factors) اور وجوہات (Reasons) اور حقائق(Facts) کا تقاضا ہے کہ اب عسکری تحریک مزاحمت (جہاد کشمیر) کو ٹھہر کر ایک نیا رخ، ایک نئی پالیسی، ایک نیا پروگرام مرتب کر کے، قابل فہم، قابل یقین، قابل عمل اور قابل حصول روڈ میپ اور خاکہ تیار کر کے، مقاصد اور اہداف کو ترتیب دے کر عملی میدان میں آنا ہوگا۔

سانحہ شوپیاں، امر ناتھ زمینی معاملہ، پرامن عوامی جلسوں پر گولیاں برسانا، چھوٹے چھوٹے بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا، بچوں کو P.S.A جیسے قانون کے تحت بند کرنا، پانی، جنگل وغیرہ وسائل پر فوجی غاصبانہ قبضہ وغیرہ ان سب کا اصولی، اخلاقی اور شرعی تقاضا اور مطالبہ ہے… ’’جہاد‘‘… عسکری مزاحمت… مکمل مزاحمت… جب تک سامراجی، بھارتی قابض و ظالم فوج کشمیر سے نکل نہ جائے…

اس وقت کشمیر کے چپے چپے، گلی گلی، پہاڑوں و میدانوں میں بھارتی فوج نہ صرف زمین اور زمینی وسائل بلکہ ہمارے مال، جائیداد، ہمارے گھروں اور اہل خانہ پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ یہ لڑائی اب پہنچتے پہنچتے ہماری بیٹی، ماں اور بہن کی عزت وعصمت بچانے کی لڑائی بن چکی ہے، ایمان غیرت سے ہے اگر غیرت نہیں تو ایمان نہیں۔ مسلمان کی جان ایمان میں ہوتی ہے نہ کہ خون میں۔ ایک ہی راستہ عسکری مزاحمت یعنی جہاد، جہاد کی مدد کرنا، جہاد کی حوصلہ افزائی کرنا، جہاد کے لیے تیاری، جہاد کا مکمل ارادہ، جہاد کے شعبے و مرتبے کی واقفیت۔ جہاں مسلمانوں کی جان، عزت، مال وغیرہ غیر محفوظ اور خطرے و خدشات میں گھرے ہوئے ہوں وہاں دو ہی (Option) ہیں، ہجرت یا مزاحمت (جہاد)، ہمارے پاس ہجرت کے لیے مدینہ ہے نہ مدینہ والے۔ لہٰذا دوسرا آپشن یعنی جہاد واحد راستہ ہے۔ جہاد کا ارادہ جہاد ہے۔ جہاد کی تیاری جہاد ہے۔ جہاد کے لیے بچوں اورجوانوں کا حوصلہ بڑھانا جہاد ہے۔ مجاہدین،شہداء اور قیدیوں کے اہل خانہ کی مدد کرنا جہادہے۔ جہاد کے لیے مال دینا جہاد ہے۔ جہاد کو جہاد سمجھنا جہاد ہے۔ (ص۱۴۰تا۱۴۱)

کشمیر کی موجودہ جاری بھارت مخالفت عسکری تحریک جو ۱۹۸۹ء؁ میں شروع ہوئی اس تحریک کا بنیادی محرک دینی ایمانی اور قلبی جذبہ تھا، کشمیری لوگ ہمیشہ شعوری اور غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو ہندوستان سے الگ سمجھتے تھے، ہیںاور رہیں گے یہ احساس و جذبہ بچے سے لیکر بوڑھے تک میں موجود ہے، یہ بیگانگی یا اجنبیت (Alienation) نہیں بلکہ ہماری وجودی حقیقت ہے، ہم بھارت کے ساتھ نہ تاریخی، نہ ثقافتی، نہ تہذیبی و تمدنی، نہ جغرافیائی ،نہ جذباتی اور نہ سیاسی وابستگی اور تعلق رکھتے ہیں۔ بھارت نے 1947 ء میں چانکیہ برہمنی، مکارانہ سیاست کھیل کر اپنی قابض فوج کو کشمیر میں داخل کیا اور تب سے اب تک سامراجی طاقت بن کر ہم پر زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے، فکر کا مقابلہ فکر سے ہوتاہے سیاست کا مقابلہ سیاست سے اور طاقت کا مقابلہ طاقت سے بھارتی قابض فوج اپنی دلّی کے آقاؤں کی خاطر ہم پر جو ظلم و ستم ڈھا رہی ہے اس کا جواب صرف اور صرف طاقت سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں، سیاسی مزاحمت، جمہوری طریقے وغیرہ ان سب کی بھارت سرکار نے دھجیاں اڑا دیں، یہ طریقے اور ان کی طرف عوام کو متوجہ کرنا، گمراہی اور وقت و توانائی کا ضیاع (Wastage) ہے، عسکریت کا جواب صرف عسکریت سے دیاجا سکتا ہے۔

بھارتی قابض فوج کی موجودگی میں کشمیری عوام کی جان عزت اور ان کا مال ہمیشہ غیر محفوظ (Vulnerable) رہے گی اور حقیقت یہی ہے کہ بھارتی قابض فوج کی موجودگی ہی سارے مسئلے کی جڑ اور بنیاد ہے۔ لہٰذا بھارتی سرکار کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بھارتی قابض فوج اور کشمیری عوام زندگی کے کسی مقام، کسی حالت اورکسی وقت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ چاہے زبر دستی طاقت و تکبر کے بل بوتے پر بھارت اپنی فوج کو سو سال تک کشمیر میں رکھے۔ عوام کی بے بسی، کمزوری، زندگی کی بنیادی ضروریات و حاجات میں مصروفیت، خاموشی ان سب باتوں سے بھارتی سرکار اگر یہ غلط تاثر اپنے عوام کو دے رہی ہے کہ کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو وہ خود فریبی (Self deception) کا شکار ہے اور اپنے عوام کو بھی دھوکے اور اندھیرے میں رکھ رہی ہے۔

کشمیر کی نو خیز نسل نہ گاندھی واد اور نہ کرزئی واد کے دھوکے میں آنے والی ہے، بھارتی سرکار کو اس بات کا احساس اور فکر کرنی ہوگی کہ کشمیری نوجوانوں کے پاس صرف اور صرف عسکریت کا واحد راستہ ہے جس سے وہ اپنے مال، جان اور عزت کی حفاظت کر سکتے ہیں اور اچھے مستقبل کی اُمید کر سکتے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کی خوش فہمی اور خود فریبی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے نام نہاد عسکریت و علیحدگی پسندوں کا جو ٹولہ خرید لیا ہے وہ سوچتے ہیں کہ ان مسخروں کے ذریعے نوجوانوں اور کشمیری عوام کو دوبارہ دھوکہ دے سکتے ہیں۔ ان مسخروںاور بزدل و بے ضمیر علیحدگی پسندوں کو عوام نے بہت پہلے سے مسترد (Reject)کردیا ہے۔ اور نوجوانوں، عسکریت پسند مجاہدوں کے ڈر سے انہوں نے بھارتی سرکار کی پناہ لی ہے یا پھر منافق ایجنسیوں کے کارندوں کے ذریعے اپنے آپ کو محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ دونوں طاقتیں ان شاء اللہ بہت جلد ان کی حفاظت سے دستبردار ہو جائیں گی۔ مجاہدین اب دوبارہ دھوکہ نہیں کھانا چاہتے۔ مؤمن ایک ہی سوراخ سے دوبارہ ڈسا نہیں جاتا۔

تحریکِ کشمیر کا مستقبل:

 وادی چنار شہداء کے مقدس لہو سے گرم ہو چکی ہے، اب کوئی شیخ عبداللہ، کشمیری گاندھی یا شاہی امام اس مقدس لہو سے بے وفائی نہیںکر پائے گا… وادی چنار میں ایک خاموش انقلاب شروع ہو چکا۔ شہید آفاق شاہ اپنے اللہ کی محبت اور رضا میں جو شہادت کا ایک نیا باب، نئی ادا اور نیا طریقہ وادی چنا ر میں شروع کیا اب شہید غازی باباؒ جیسے مرشدوں کو ایک نہیں ہزاروں آفاق جیسے مرید ملیں گے، یہ جنگ اب ہمارے ایمان وغیرت، عزت و عصمت کے بقاء کی جنگ ہے، یہ جنگ اب ہماری وجودی جنگ ہے، وجود بحیثیت اہل ایمان، امت اور بحیثیت انسان۔ اس جنگ میں اب سعادت مند اور خوش نصیب ہی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں اب مال جان اور اپنی تمام محبوب چیزوں کی قربانی دینی ہوگی… نفس پرست، دنیا پرست، موقع پرست لوگ رک جائیں گے اور روکنے کی کوشش کریں گے لیکن اہل حق شاعر مشرق کی زبان میں کہیں گے  ؎

یہ دنیا لاکھ روکے گی ان کی نہیں سننا

تو کہنا یہ قتل گاہ ہے مجھے مقتل میں جانے دو

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor