Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

بھارتی درندگی کا سالنامہ (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

بھارتی درندگی کا سالنامہ

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 677)

بین الاقوامی تنظیم برائے انصاف اور انسانی حقوق کی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۸ میں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی عروج پر رہی۔ سال ۲۰۱۸ میں مقبوضہ کشمیر میں ۳۵۵ شہریوں کو شہید کیا گیا ان شہداء میں ۱۰ سالہ بچہ، حاملہ خواتین اور ۳ پی ایچ ڈی اسکالرز بھی شامل ہیں۔ سال ۲۰۱۸ کے دوران تشدد کے بدترین واقعات پیش آئے اور کشمیر کے جنوبی اضلاع شوپیان، کلگام، پلوامہ اوراننت ناگ میں صورتِ حال ابتر رہی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم میڈیا واچ جموں وکشمیر انٹرنیشنل کی  سال ۲۰۱۸ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزی میںبھارت بازی لے گیا۔ بھارت نے  سال ۲۰۱۸ میں ۲ ہزار سے زائد مرتبہ جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ۳۰ سے زائد شہریوں کو شہید کیا، مقبوضہ وادی میں کریک ڈائون کے دوران ۷۵۵ افرادکو شہید، ۱۶ ہزار ۴۳۲ زخمی، ۹ ہزار ۹۰۵ گرفتاریاں، ۹۰۳ خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ ۷۸۸ خواتین کو زندہ جلایا گیا، ۳ ہزار ۲ سو املاک کو تباہ کردیا گیا۔ اس سال کافی سیاسی ہلچل اور غیر متوقع اتھل پتھل بھی ہوئی۔ پی ڈی پی کی کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ کرکے گورنر راج نافذ ہوا اور سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے صدر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ وادی میں گولیوں کی گنگناہٹ، سیاسی جوڑتوڑ، نئے گورنر اور پولیس سربراہ کی تعیناتی، معصوم بچی کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کی داستان دفعہ ۳۵ اے پر یلغار کے خلاف وادی سراپا احتجاج بنی رہی۔

سال ۲۰۱۸ وادی کشمیر میں گزشتہ دہائی کا سب سے خون ریز سال ثابت ہوا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس سال اب تک ایک ہزارکشمیری شہید ہوئے۔ پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان بشیر وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت سے تحریک آزادی میں شدت پیدا ہوئی۔  سال ۲۰۱۸ کے دوران کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے پیلٹ گن کی تباہ کاریاں بھی جاری رہیں۔ پیلٹ وکٹمز ویلفیئر ٹرسٹ کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک پیلٹ گن کے استعمال سے ۴ ہزار سے زیادہ کشمیری بصارت سے محروم ہوچکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز مظاہرین پر حملہ آور ہیں صرف ۱۹ ماہ کی بچی حبا جان کی آنکھیں پیلٹ گن کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوئیں۔ اس واقعے نے دنیا بھر کے حساس دلوں کو ہلا ڈالا۔

پہلی بار اقوام متحدہ نے کشمیر میںانسانی حقوق سے متعلق رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے عام کشمیریوں کے خلاف طاقت کابے جا استعمال کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں جولائی ۲۰۱۶ء سے اپریل ۲۰۱۸ء کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بیان کی گئیں۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں ۱۴۵ عام شہری جاں بحق ہوئے۔

۲۰۱۸ میں ریاست کے خصوصی اسٹیٹس کی ضمانت شناخت دینے والے آرٹیکل ۳۵ اے  کے خاتمے کی کوشش کی گئی۔ اسٹیٹ سبجیکٹ کے نام سے معروف آرٹیکل ۳۵ اے کی حیثیت کے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کیس کی سماعت کررہی ہے۔ اس کے خلاف کشمیر میں زبردست احتجاج کیا گیا۔

 سال ۲۰۱۸ میں ہی کشمیر میں ۱۳ سال کے وقفے کے بعد پنچائتی انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا جن میں عوام کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔ کئی اضلاع میں ووٹنگ کی شرح ۲ فیصد یا اس سے بھی کم رہی ۔ قابل ذکر ہے کہ فوج نے گزشتہ سال جموں کشمیر میں ’’آپریشن آل آئوٹ‘‘ شروع کیا، جس کے تحت نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ تیزکردیا گیا۔

انٹرنیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس اور سائوتھ ایشیا سینٹر فار پیس اینڈ ہیومن رائٹس نے کشمیری جیلوں اورعقوبت خانوںمیں سڑنے والے کشمیریوں کے بارے میں اپنی انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ان قیدیوں سے ان کے مذہب اور تعلقات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت انڈیا نے جموں اور کشمیر کے لوگوں پر جنگ مسلط کردی ہے اور معمول کے تمام ضابطوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ کشمیریوں کو اپنے جائز اور بنیادی قانونی حقوق مانگنے پر سزا دی جا رہی ہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو کچلنے کے لئے ظلم، جبر اور تمام دوسرے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ ہزاروں قیدیوں کو غائب کردیا گیا ہے بیشتر قیدیوں کو ناجائز حراست میں رکھا گیا ہے۔

بھارت نے کشمیریوں کو جھکانے کے لئے ہر ممکنہ حد تک خطرناک ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، گولیوں، چھروں، آنسو گیس، مرچ کے گولوں، عقوبت خانے، این آئی اے جیسے بے رحم انٹیلی جنس اداروں اور تہاڑ جیل کے باوجود کشمیریوں کی حق خود داریت کی جدوجہد دبانے میں بھارت اب تک ناکام رہا ہے۔ حال ہی میں کشمیر میں پچاس سال  میں پہلی بار گورنر راج لگایا گیاہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں درندگی کی انتہا اور انسانی حقوق کی شدید پامالی کے بارے میں ۲۹ سال کی رپورٹ شائع کردی۔ رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۹ء تا ۲۰۱۸ تک بھارتی حکومت اور اُس کی خفیہ ایجنسی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کا قتل عام کیا جن میں ۹۴ ہزار ۹سو ۲۲ افراد کو مختلف جعلی مقابلوں میں مارا گیا۔ مختلف علاقوں میں ۷ ہزار سے زائد گمنام قبروں کا بھی انکشاف ہوا، حراست کے دوران مختلف عقوبت خانوں میں اذیت دے کر ۷ ہزار ۱ سو افراد کو قتل کیا۔ رپورٹ کے مطابق بے گناہ افراد کو گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں ڈالا گیا ہے جن کی تعداد ۱ لاکھ ۴۳ ہزار ۳۶۴ افراد جو اس وقت مختلف جیلوں میں سزاکاٹ رہے ہیں جبکہ ۲۲  ہزار ۸۶۶ خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ ۱ لاکھ ۷ ہزار ۶۹۷ بچے یتیم ہوئے، ۱۱ ہزار ۴۳ خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ ۱ لاکھ  ۸۶ ہزار ۶۴ مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرکے اربوں روپے کا نقصان کیا۔

کشمیر کا مسئلہ اگر صرف جغرافیائی یا زمینی سرحدوں کا معاملہ ہوتا تو شاید اب تک حل ہو چکا ہوتا، حل نہ بھی ہوتا تو پس منظر میں جا چکا ہوتا یا پھر کسی حد تک فراموش کر دیا جاتا، لیکن کشمیر کا معاملہ بالکل مختلف ہے، یہ تقریباً ستر ہزار مربع میل پر محیط علاقہ ہے جہاں ڈیڑھ کروڑ سے زائد زندہ انسان بستے ہیں، ان میں سے ایک کروڑ سے زائد کشمیری مقبوضہ کشمیر میں بستے ہیں، جنہیں ستر برس سے غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبورکر دیا گیا ہے، یہ لوگ انسان ہیں، انسان اپنا دفاع، اپنی سوچ، اپنا دل، اپنے جذبات رکھتا ہے، اسے حیوانوں کی طرح کسی باڑے میں بند کرکے نہیں رکھا جاسکتا، انھیں زیادہ لمبے عرصے تک غلام بھی نہیں بنایا جا سکتا، ان کے ہونٹوں پر تالے بھی نہیں ڈالے جا سکتے ۔

اقوام متحدہ سمیت کوئی بھی عالمی ادارہ بھارت کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کشمیریوں پر ہونیوالے انسانیت سوز مظالم پر اپنے لبوں پر سکوت کی مہر لگا رکھی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ عالمی طاقتیں اگر بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کرانے پر مجبور کرتیں تو جنوبی ایشیاء کا یہ اہم اور حساس معاملہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔ اقوام متحدہ نے بھی جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ اسلامی ممالک انڈونیشیا اور سوڈان کو تقسیم کرنے کے لیے یہ عالمی ادارہ خاصا متحرک رہا مگر مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے حوالے سے دوہرے معیارات اور منافقانہ پالیسیوں سے کام لیتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اشارہ ابرو پر مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں عیسائی ریاست قائم کر دی گئیں، اسی طرح افغانستان اور عراق میں امریکی و نیٹو افواج کو لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے کا پروانہ بھی اقوام متحدہ نے دیا، آج اس انسانی حقوق کے چیمپئن عالمی ادارے کو مقبوضہ کشمیر و فلسطین میں بھارتی و اسرائیلی مظالم کیوں دکھائی نہیں دیتے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online