Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

موذی حکومت اور اس کی کارستانیاں (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

موذی حکومت اور اس کی کارستانیاں

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 632)

نریندرموذی کے برسر اقتدار آتے ہی یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ بھارتی انتہاء پسند قیادت اب اپنا آپ دکھائے گی۔ اس وقت بھارت کے اندر چلنے والے مسلم کش فسادات اور دودسری طرف کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر جوکچھ ہو رہا ہے بھارت سے یہ ہی توقع تھی۔ یہ کوئی انہونی صورتحال نہیں ہے، انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے، اس نے پاکستان اور مسلمانوں کے وجود کو اول روز سے ہی تسلیم نہیں کیا۔

بھارت کا اصل چہرہ ویسے تو دنیا کی نظروں سے ڈھکا چھپا نہیں۔ سیکولر اور جمہوری ملک ہونے کے دعویدار اس مُوذی ملک کی کارستانیاں اب دنیا کے سامنے ظاہر ہو چکی ہیں۔ یہ ایسا مُوذی ہے کہ یہ نہ خود اپنے ملک میں رہنے والے غیر ہندوؤں کو امن و امان میں رہتا دیکھ سکتا  ہے اور نہ ہی اپنے ہمسایوں کو۔

1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت ایک اندازے کے مطابق تقریباً دس لاکھ مسلمان پاکستان ہجرت کر آئے تھے، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت بھارت ہی میں رہ گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی مسلمان بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ اس وقت بھارت کی ایک ارب سے زیادہ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تیرہ کروڑ اسی لاکھ کے قریب ہے یعنی مسلمان بھارت کی کل آبادی کا تیرہ فیصد ہیں جو کہ اسلامی دنیا میں صرف پاکستان اور انڈونیشیا سے کم ہیں۔ لیکن اتنی بڑی عددی طاقت رکھنے کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کی حالت انتہائی پسماندہ ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں سے بھی بدتر ہے۔ اس کی واحد وجہ بھارت کے انتہا پسند ہندو ؤں کا اب تک مسلمانوںکو دل سے قبول نہ کرنا ہے۔

ان انتہا پسند ہندوؤں کے خیال میں ہندوستان کو ہندو راشٹریا بنانے کا جو خواب تھا وہ تقسیم ملک کی وجہ سے چکنا چور ہو گیا، جس کا ذمے دار وہ مسلم لیگی اور کانگریسی کی تفریق کیے بغیر علی الاطلاق مسلمانوں کو سمجھتے ہیں۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ان انتہا پسند ٹولے کے اکثر قائدین جاہل نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان اعلیٰ تعلیم یافتہ آثار قدیمہ کے ماہرین کا ہی کمال تھا کہ انھوں نے ایودھیا کی شہید بابری مسجد کی بنیادوں سے رام کی مورتی ’’برآمد‘‘ کر لی تھی، جسے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد دنیا بھر کے ماہرین نے نہ صرف جھٹلایا بلکہ مضحکہ اڑایا تھا۔

یہ خونی فسادات جو آج  ہو رہے ہیں یہ نئے نہیں ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اس دہشت گردی کے مظاہرے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت سنبھالنے کے بعد سے ہی فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بھارتی ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلم طبقے کے خلاف کاروائیوں میں شدت آچکی ہے۔

واضح رہے کہ مُوذی حکومت کے قیام کے بعد کی گئی ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے بڑے کم وبیش پندرہ سو فسادات رونما ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود مُوذی حکومت پر خاموشی چھائی ہوئی ہے تاہم بھارت میں مسلم کش فسادات کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ ان دنگوں میں مارنے جانے والے مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ اب تک کے اعدادوشمار کچھ یہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ بھارتی متعصب پولیس ہی نہیں بلکہ حکومت اور اس کے کل پرزے بھی مسلمانوں کے خلاف ہی کام کرتے ہیں۔ اب تک کے اعدادوشمار پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں بھی سب سے زیادہ مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کے مکانات جلائے جاتے ہیں کاروبار تباہ کئے جاتے ہیں وہ بھی مسلمان ہوتے ہیں اور سب سے  زیادہ گرفتاریاں بھی مسلمانوں کی ہی ہوتی ہیں۔

موذی حکومت میں ہندوفرقہ پرستوں کو یہ معلوم ہے کہ وہ چاہیں جتنا بھی تصادم کروا دیں، دنگا فساد پرپاکریں۔ گؤ رکھشا کے بہانے بے گناہ مسلمانوں کی جانیں لے  لیں۔گھر واپسی کے نام پر مسلم طبقے ودیگراقلیتوں کو جبراً تبدیلی مذاہب کروالیں۔ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی بلکہ الٹا ان کے ستم کانشانہ بننے والے طبقوں کی زندگیاں مزید اجیرن بنادی جائیں گی۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کاس گنج لکھنو میں مسلمانوں کی ۲۷ دکانوں کو آگ لگائی گئی اور چھ مسجدوں کو نقصان پہنچایا گیا اور انہیں جلایا بھی گیا۔ مسلمانوں کی کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی، الٹا متأثرین کے خلاف نہ جانے کن کن دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ جن  ۱۲۷ افراد کو حراست میں لیا گیا ان میں سے ۸۷ مسلمان ہیں۔ یہ سوال ہے کہ مسلم نوجوانوں کو کس الزام میں گرفتارکیا گیا ہے جب کہ اکثریتی فرقے کو کوئی نقصان ہوا ہی نہیں۔

کاس گنج فساد کے بارے  میں یہ کہاجارہا ہے کہ یہ مظفر نگر فسادات کا ’’ایکشن ری پلے‘‘ تو نہیں۔ کاس گنج اترپردیش کے کے دارالحکومت سے ۳۴۰ کلومیٹر دور ایک علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے اور باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت اس مسلم علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی متعصب میڈیا نے اس پورے واقعے میں جس غیر ذمہ دارانہ بلکہ جانبدارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی جارہی ہے۔ سوشل  میڈیا  پر بھی ایسی ویڈیوز دکھائی گئیں جن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے اور یہ تأثر دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ وہ حملہ آور پاکستانی تھے۔ کاس گنج لکھنو میں مسلمانوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ، پولیس کے غیر قانونی چھاپے اور بے گناہ مسلمانوں کی اندھا دھند گرفتاریاں اور ان فسادیوں، حملہ آوروں کو کوئی ذکر نہیں جوفساد کی اصل وجہ بنے۔

مذکورہ حالات ووقعات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کاس گنج میں بھی مظفر نگر فسادات کی طرح کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ تأثردیا جارہا ہے کہ فساد کی وجہ ’’وندے ماترم‘‘ اور ’’بہارت ماتا کی جے‘‘ پر مسلمانوں پر اعتراض ہے۔ کوئی یہ نہیں بتارہا کہ کاس گنج کے مسلم اکثریتی علاقہ میں ہندو حملہ آور یہ نعرہ لگارہے تھے کہ ’’ہندوستان میں رہنا ہے تو بھارت ماتا کہنا ہے ورنہ پاکستان جانا ہے‘‘ کاس گنج فساد مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق بے جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے، اس کا اعتراف از خود مرکزی وزارت داخلہ نے کیا۔ وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ان ریاستوں میں فرقہ وارانہ لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں سال ۲۰۱۷ء میں فرقہ وارانہ تشدد کے  کل ۱۹۵ کیس درج ہوئے۔ ۲۰۱۶ء  میں ۱۰۱ تھے۔ اترپردیش میں ۲۰۱۶ء کے مقابلے میں ۲۰۱۷ء میں فرقہ وارانہ تشدد دوگنا بڑھا۔ یہ اعداد وشمار اس ریاست اترپردیش کے ہیں جہاں یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ ہیں اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں رام راج ہے۔

وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راجستھان میں ۲۰۱۷ میں کل ۹۱ فرقہ وارانہ تشدد ہوئے۔ ۲۰۱۶ میں ۶۵ تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے اور گزشتہ سال یہ تعداد بڑھ کر ۸۵ ہوگئی تھی۔ گجرات اسمبلی الیکشن نے بی جے پی کی قیادت کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ امیت شاہ اور  مودی کے ایڑی چوٹی کازور لگانے کے باوجود پارٹی یہاں اپنی سابقہ پوزیشن بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ حکومت تو بن گئی مگر نشستوں کی تعداد ۹۹ تک محدود ہوگئی۔ ابھی بی جے پی اسی صدمے سے باہر نہیں آئی تھی کہ راجستان میں بھی دھول چاٹنی پڑی جسے پارلیمانی اور ایک اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں ان  کی پارٹی کو شکست ہوگئی اور یہ نشستیں کانگرس نے چھین لیں۔ مغربی بنگال میں بھی طویل عرصہ سے قبضہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہاں بھگوا جماعت کو ضمنی الیکشن میں کم وبیش ۴ لاکھ ووٹوں سے ہزیمت اٹھانا پڑی۔ کرناٹک جہاں کانگریس برسراقتدار ہے، وہاں بھی بی جے پی کے جیت کے امکانات زیادہ روشن  نہیں۔ مجموعی طور پر بی جے پی کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے۔

گزشتہ پارلیمانی الیکشن کی طرح اس پارلیمانی انتخابات میں بھی ایک سال قبل ہندو فرقہ پرستوں کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور اس طرح ہندو اکثریتی ووٹ کو ورغلانے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ وہ مسلم منافرت اور تعصب میں بی جے پی کو ووٹ دیں۔ ایسا ہی مظفر نگر کے فساد کے بعد ہوا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موذی سرکار ہر محاذ پر ناکامی کے بعد ایک بار پھر سے مسلم فسادکا سہارا لیناچاہتی ہے تاکہ اگلے الیکشن ہار نہ جائے۔ یہ سارے فسادی جو بھگوا جھنڈا لہراتے ہوئے مسلم علاقوں میں دہشت گردی میں مصروف ہیں اسی تنظیم کے بغل بچے ہیں جس کی مرکز اور ریاست میں سرکاریں ہیں۔

بی جے پی سرکار کے ’’ہندو توا عزائم‘‘ کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مسلم اقلیت کے خاتمے اور مقبوضہ کشمیر کی دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے شوشے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ موذی حکومت نے اپنے مسلم مخالف ایجنڈے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک طرف تو ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مسجدوں پر حملے، لائوڈسپیکر پر فجر کی اذان دینے پر پابندی لگانا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

مگر شاید وہ یہ حقیقت بھول رہے ہیں کہ چیونٹی کے جب مرنے کا وقت قریب ہوتا ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online