Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

شام… جب ضمیر مردہ ہو جائے (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

شام… جب ضمیر مردہ ہو جائے

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 633)

شام جو اب سوریا (Syria) کہلاتا ہے، عہد قدیم سے انسانی تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔ اس کا دارالحکومت دمشق دنیا کا قدیم ترین دارالحکومت ہے جو ہزارں سال سے مسلسل آباد چلا آ رہا ہے۔

بعض مفسرین نے سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کے الفاظ ’’بارکنا حولہ‘‘ سے سارا ملک شام بشمول فلسطین مراد لیاہے۔ سورۂ قریش کی آیت ’’رحلۃ الشتاء والصیف‘‘ میں قریش کی ’’رحلتِ صیف‘‘ یعنی گرمائی سفر کی تفسیر بھی ملک شام سے کی گئی ہے۔ رسول اللہﷺنے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ بصریٰ الشام کا سفر بھی فرمایا تھا۔

صحیح بخاری کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺنے یہ دعا فرمائی تھی:

اَللّٰھُمَّ بَارِک لَنَا فِی شَامِنَا (اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے شام میں برکت دے)

گویا سید الانبیائﷺنے اس دعا میں فتح شام کی خوشخبری دے دی تھی۔ چنانچہ عہد فاروقی میں دمشق سیدنا ابو عبیدہؓ اور سیدنا خالدؓ بن ولید کے ہاتھوں فتح ہوا (15 رجب، 14ھ )۔ پھر جمادی الآخرہ 15ھ میں معرکہ یرموک کی فتح مبین نے تمام شام کے دروازے مسلمانوں پر کھول دیئے حتیٰ کہ ربیع الآخر 16ھ میں مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر فاروقؓ کی مرکز خلافت سے آمد پر اسقف صفروینوس کے ساتھ معاہدۂ صلح کی رو سے فتح ہوگیا اور صحابہ کرام کی ایک کثیر تعداد نے اس سرزمین کو اپنے قدم میمونت سے شرف بخشا۔

ملکِ شام میں بڑے بڑے علماء اور محدثین پیدا ہوئے۔ امام نووی، امام ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن عساکر، حافظ ابن حجر عسقلانی، المقدسی، یاقوت حموی، الحلبی اور الطرطوسی رحمھم اللہ اجمعین ان میں سے چند نام ہیں۔

یہیں دمشق میں خلیفہ عبدالملک بن مروان کے خلف الرشید خلیفہ ولید نے حکمرانی کی جن کے دس سالہ دور (85ھ تا 95ھ) میں اسلامی سلطنت کی حدود چین سے فرانس تک پھیل گئیں تھیں۔ یہیں مجاہدین اسلام سلطان نور الدین زنگیؒ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے حکومت کی۔ یہیں شہر حمص میں فاتح اسلام سیدنا خالدؓ بن ولید، عیاضؓ بن غنم، عبیداللہ بن عمرؓ، سفینہؓ مولیٰ رسولﷺ، سیدنا ابودرداؓ اور سیدنا ابوذرغفاریؓ دفن ہیں۔

اسی شام میں روضۂ رسول میں جسم مبارک کی کفار سے حفاظت کرنے والے مجاہد اسلام سلطان نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ اور فلسطین کو آزاد کرانے والے حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے حکومت کی۔

آج ہزاروں ائمہ، علمائ، محدثین وفقہاء اور ادباء و مفکرین کی یہ سرزمین ماتم کناں ہے۔  وہ دمشق جو صدیوں تک اسلام کا دارالخلافہ رہا اور جس کے جاہ وجلال سے قیصروکسری لرزہ براندام ہوجایاکرتے تھے، آج وہاں اسلام اجنبی بنادیاگیاہے۔ گزشتہ دو سال سے شام کی سرزمین مسلمانوں کے خون سے رنگین ہے۔ شام میںانسان نما وحشی درندے ظلم و جبر، قتل و غارت گری اور انسانیت سوزی کی بدترین داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ ظلم وجبر کے بازار گرم کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ ننھے منھے بچوں اور عورتوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔

ہبہ الدباغ کی خود نوشت ’’خمس دقائق وحسب‘‘ جس کا اردو ترجمہ ’’صرف پانچ منٹ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے، دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہے کہ شام کے اسلام پسند اہلسنّت عوام پر انسانیت سوز مظالم کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ گزشتہ چالیس سال سے متواتر جاری ہے۔

حالیہ میڈیارپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ میں اسدی فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں گذشتہ پانچ روز کے دوران میں ہلاکتوں کی تعداد چار سو سے بڑھ گئی ہے۔

شام کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چند ہفتوںکے دوران باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی الغوطہ کے علاقوں پر تباہ کن اور وحشیانہ بمباری کی ہے۔ اس کا نشانہ بچوں، خواتین اور ہر عمر کے مردوں سمیت عام شہری بن رہے ہیں۔ اس تباہ کن بمباری سے گذشتہ پانچ روز میں مرنے والوں کی تعداد چار سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق شامی رجیم اور اس کے اتحادی روس کے تباہ کن فضائی حملوں اور توپ خانے سے شدید گولہ باری سے پانچ روز میں403  شہری مارے جاچکے ہیں اور ان میں 96 بچے بھی شامل ہیں۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ میں اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں48  گھنٹوں کے دوران250  عام شہریوں کے شہید ہوجانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سینکڑوں شہری ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

انسانی حقوق گروپ آبزرویٹری کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2013ء میں اسی علاقے میں مبینہ کیمیائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد یہ اب تک کا دوسرا بڑاحملہ ہے جس میں سینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

پیر کے روز الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر بشار کی فوج کی جانب سے ہونے والے فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں اڑھائی سو شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔شہید ہونے والوں میں درجنوں بچے شامل ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دمشق کے نزدیک محصور اس علاقے میں گزشتہ تین برسوں میں ایک دن کے اندر ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی سے دشمنان اسلام کو مزید شہہ مل رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا ضمیر مر چکا ہے۔ بے باک داعی وعالم، مفکرِ اسلام مولانا علی میاں ندویؒ نے عالمِ اسلام کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے بہت پہلے فلسطین کے معاملے میں عرب حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاتھا:

’’اس وقت عرب قوم اپنی تاریخ کے انتہائی نازک اور اہم مرحلہ سے گزر رہی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ شکست کا مرحلہ ہے یا مصیبت کا مقام ہے اور میں اس مصیبت سے خوف زدہ نہیں ہوں۔ دعوت اور پیغام کی حامل قومیں، طویل تاریخ رکھنے والی قومیں، زندہ ضمیر اور روشن اور زندگی سے بھرپور قلب رکھنے والی قومیں ان مراحل سے گزرتی ہی رہتی ہیں۔ ہم خود اس طرح کے بے شمار مراحل سے گزر چکے ہیں۔ ہمارے اوپر صلیبیوں نے یلغار کی، تاتاریوں کا طوفان ہمارے سروں پر سے گزر گیا، جب کہ خطرہ پید اہوگیا تھا کہ کہیں مسلمان کی آخری سانس بھی نہ رک جائے، پھر بھی وہ مایوسی اور بدشگونی کا مقام نہیں تھا کیوں کہ مومن کا ضمیر زندہ تھا، مومن کی عقل باشعور تھی اور وہ خیر وشر، دوست و دشمن اور مفید ومضر کی تمیز کرسکتا تھا اور اس وقت مسلمان جری، صاف گو اور بہادر تھا۔

میں ان جیسے المیوں سے کوئی خطرہ نہیں محسوس کرتا بلکہ مجھے اصل خطرہ اس ضمیر سے ہے، جس نے اپنا کام کرنا چھوڑدیا ہے، ضمیر کا کام ہے احتساب اور غلطیوں کی گرفت، خواہ وہ اپنے باپ اور بھائی سے سرزد ہوئی ہو، یا کسی ذی وقار پیشوا اور رہنما سے، اگر یہ ضمیر مردہ ہوجائے، اپنا فطری عمل چھوڑدے، اپنی افادیت کھو بیٹھے اور اس میں حقائق کے اعتراف کی صلاحیت باقی نہ رہ جائے، تو یہی سب سے بڑا خطرہ ہے، یہ انسانیت کی موت ہے، ایک انسان مرتا ہے تو ہزاروں انسان پیدا ہو جاتے ہیں لیکن جب ضمیر مردہ ہوجائے، اجتماعی اور قومی ضمیر سے زندگی کے آثار ناپید ہوجائیں، جب قوم سے محاسبہ کی صلاحیت اور جرأت ختم ہوجائے، جب تنقید واحتساب کی جگہ شاباشی اور دادِ تحسین کے پھول برسنے لگیں تو یہ ایسا المیہ ہوگا جس کے بعد کسی المیہ کا تصور ہی ممکن نہیں۔‘‘

اب افسوس کا مقام یہ ہے کہ بحثیت مجموعی اہل اسلام کا ضمیر مرتا جا رہا ہے الا ماشاء اللہ کچھ سر پھرے ایسے بھی ہیں جو آج بھی اپنے ہاتھوں میں پتھر اٹھا کر ٹینکوں اور میزائلوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب ایسے اللہ والوں کو اپنے ہی بھائیوں سے طعنے سننے پڑتے ہیں کہ آپ لوگ چونکہ تعداد اور اسلحہ کے لحاظ سے کم ہو لہذا آپ لوگ کفار کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سچا پکا مسلمان ہتھیاروں اور فوج کی تعداد پراعتماد نہیں کرتا، بلکہ اس پاک پروردگار پر یقین کرتا ہے جس نے اپنے گھر، کعبہ شریف کی حفاظت کے لیے، ابرہہ کے بہت سے لشکر اور ہاتھی کو سبز اور زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی ٹکڑیوں کو، چونچ اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں ڈال کر برباد و ہلاک کیا تھا۔ پھروہ لوگ یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں نے غزوہ بدر میں 313 ہوکر بھی 950 مشرکین سے فتح حاصل کی، غزوہ احد میں 700 ہوکر مشرکین کے 3000 کے لشکر کو للکارا، غزوہ خندق صرف 3000 رہ کر بھی 10000 دشمنوں ناکام و نامراد کردیا، غزوہ خیبر میں 1600 کی تعداد میں ہوکر 14000مخالفین کو شکشت دی اور غزوہ موتہ میں 3000 ہوکر بھی ایک لاکھ دشمنوں سے مقابلہ کیا۔ یہ مبارک سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ غزوہ حنین، غزوہ یرموک، فتح مکّہ مکرمہ وغیرہ کی بھی تاریخ پڑھی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:

’’اور سست نہ ہو اور نہ غم کھاؤاور تم غالب رہوگے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (سورہ آل عمران، آیت: 139)

کشمیری مجاہدین اس کی واضح مثال ہیں کہ وہ تین، تین، چار، چار کے گروپ میں آتے ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی فوج کو للکار کر اور انہیں ناکام ونامراد ثابت کر کے چلتے بنتے ہیں۔

خدارا! بے حسی ختم کر دیں اور جتنا جلد مسلمان جہاد کی طرف آئیں گے اتنا جلد ہی اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں فتوحات سے نوازیں گے اور اسلام اور اہل اسلام کو وہی عزت، شوکت اور دبدبہ عطا فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online