انسانیت کی فلاح کا راستہ (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

 انسانیت کی فلاح کا راستہ

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 634)

آج انسانیت مجموعی طور پر انتشار کا شکار ہے۔ تمام تر ترقی، خوشحالی، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجوکرۂ ارض کے تمام انسان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس کرہ ٔارض کو نہ ختم ہونے والے فتنوں میں مبتلا کردینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کوئی ایسا خطہ نہیں جو جنگ و جدل سے پاک ہو۔ جہاں انسان انسان کو کاٹ نہ رہا ہو۔ جہاں آدم آدم کو لوٹ نہ رہا ہواور امیر غریب کو کھا نہ رہا ہو۔

انسانیت کو بچانے کی آج جس قدر ضرورت ہے۔ شاید اس سے پہلے کبھی بھی نہ تھی۔ بعض مختلف یورپی دانشور اور انسانی حقوق کے چیمپئن خود ساختہ تھیوری اور محض انسانی ذہن سے پھوٹنے والی احتیاطوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر انسانیت کے قافلے کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن تمام تر فکری کاوشوں اور وسائل ہونے کے باوجود مغربی انسان دوست ادارے اور حلقے محض اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور اس الجھی ہوئی ڈور کا دوسرا سرا ان کے ہاتھ نہیں آرہا۔

الجھی ہوئی ڈور کا سرا ڈھونڈنے کے لئے انہیں ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف سچ کو تلاش کرنا ہوگا اور اگر مذہب، زبان، علاقے، رنگ و نسل، Status اور دنیاوی طبقاتی تقسیم کی عینک اتار کر حق کی تلاش کی جائے تو پھر انسانیت کے عظیم محسن دنیا جہاں کے لئے رحمت اور صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے غم گسار، آخری پیغمبر، خاتم النبین حضرت محمدﷺکی تعلیمات اور اسوہ ہی نوع انسانی کے امن اور ترقی و کمال کا راستہ اور حل ہے ۔

قافلۂ انسانیت کو درپیش جان لیوامسائل سے بچانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ خالق کائنات نے اپنی مخلوق کی فلاح و بہبود کے لیے جونظام اور طریقہ وضع کیا ہے صرف اسی طریقے پر عمل کر کے ہی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے اور وہ طریقہ ہے آپﷺکی اتباع اور آپﷺکے اسوہ پر تمام کائنات کو لے کر آنا اس لیے کہ جو آپﷺنے انسانیت کو عطا کیا ہے وہ آپﷺسے پہلے یا بعد میں کسی نے نہیں دیا۔

اور آپﷺکے ارشادات آج کے مہذب انسان کے لئے بھی اسی طرح مفید اور حیات بخش ہیں جس طرح ساڑھے چودہ سو سال قبل کے انسان کے لئے تھے۔ ان کی روشنی اور تابانی میں ذرا فرق نہیں آیا۔ اخلاق کی جھلک، کردار کی بلندی، امانت، دیانت اور انسانیت کے لئے پیار جہاں بھی ہے وہ حضور صلی اللہ  علیہ وسلم کا دیا ہوا ہے۔ آپﷺ کے فرمودات سے  ہدایت و رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور قلب سلیم رکھنے والے آپﷺ کے آخری نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔

اسلام کے دیئے ہوئے معاشی، معاشرتی، سیاسی عدل اور خاندانی نظاموں کا جو بھی حصہ جانے انجانے میں کہیں بھی نافذ ہے دنیا اس کی برکات حاصل کررہی ہے اور مجموعی طور پر معاشرے دینِ اسلام کے دیے ہوئے نظام اور اسلام کی بخشی ہوئی اچھائیوں کے طفیل ہی ترقی کر رہے ہیں۔ کئی معاشرے صرف سچ کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں بعض ممالک صرف محنت کی بنیاد پر دنیا میں نام پیدا کرچکے ہیں۔

حضور انورﷺکی بعثت سے قبل افریقہ اورجزیرۂ عرب  میں غلام بنانے کے بھیانک مناظر دیکھنے میں آتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگوں کو دہشت جمانے کی غرض سے بے دردی سے ہلاک کردیا جاتا اور باقیوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا اور غلامی کی بھی اس حد تک گری ہوئی مثالیں ان لوگوں نے قائم کیں کہ اپنے معزز مہمانوں کے سامنے شراب و شباب پیش کرنے کے بعد ان کے ہاتھوں میں تیر دے دیئے جاتے۔ غلاموں کو سامنے کونے میں بٹھا دیا جاتا اور تیر غلام پر برسائے جاتے۔ جوں جوں غلام تڑپتا تو مہمان محظوظ ہوتے جبکہ سرور کائناتﷺنے زید بن حارثہ سے ایسا سلوک کیا کہ وہ اپنے والد اور چچا کے ساتھ جانے سے انکاری ہوگئے اور حضور سے چمٹ گئے۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اصل روشنی اسلام ہی کے پاس ہے یہ مغرب کے پاس جو روشنی نظر آتی ہے وہ اس قسم کی روشنی ہے جو چور اور ڈکیت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ اس لائٹ سے اپنے گھر کا راستہ نہیں ڈھونڈ رہا ہوتا مگر دوسرے کے گھر اور دوسرے کے مال کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ روشنی وہی ہوتی ہے جو انسان کو انسانیت کا سبق دے۔ ڈیزی کٹر پھینکنے کے بعد بسکٹوں کے ڈبے پھینکنایہ انسانیت نہیں ہے۔

حضورﷺکی تعلیمات پر نگاہ دوڑائی جائے تو حیرانگی ہوتی ہے کہ جو بات آج ہم لمبی لمبی تقاریر میں نہیں کہہ پاتے آپﷺنے چند جملوں میں کہہ ڈالیں۔ مکہ سے مدینہ تشریف لانے پر آپﷺنے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ  ایک منٹ سے کم وقت کا تھا اور خطبہ حج الوداع کے موقع پر آخری تاریخی خطبہ کا وقت بھی دس منٹ سے زائد نہیں ہے۔ مگران خطبوں میں آپﷺنے پوری انسانیت کوامن، بھلائی، ترقی و کمال کے حصول کے وہ راز دئیے جن پر عمل پیرا ہو کر انسانیت صحیح معنوں میں انسانیت کہلائے جانے کی حق دار ہو سکتی ہے۔

نمونے کے طور پر آپﷺ کی صرف ایک حدیث پڑھتے ہیں۔آپﷺنے  فرمایا:سلام کو عام کرو اور باہم کھانے کھلایا کرو، صلہ رحمی کیا کرو،رات کے اس پہر نماز پڑھا کرو جب لوگ سو رہے ہوں۔ تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجا ؤگے۔(مشکواۃ)

سلام ایک دعا ہے یعنی تم پر سلامتی ہو۔سلام ایک ایسا عمل ہے جس سے دلوں میں محبت و الفت پیدا ہوتی ہے اور ایک حدیث میں اس عمل کو تکبر کا علاج قرار دیا گیا ہے اور اسی کی تفصیل میں حضورﷺنے دوسرے موقع پر فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپﷺ کے ارشاد کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا کہ آپس میں کھانے کھلایا کرو۔ ہمیں معلوم ہے کہ درندے حیوان اور انسان میں فرق یہ ہے کہ درندہ شکار مار کر چیڑپھاڑ کرتا ہے۔ اپنا پیٹ بھرتا اور باقی کو وہیں پھینک دیتا ہے۔ حیوان کو جو دیا جائے وہ اسے کھا لیتا اور باقی پر گندگی کر دیتا ہے جبکہ انسان اپنا کھانے کے بعد باقی اپنے بھائیوں کو دے دیتا ہے۔ حضورﷺکی تعلیمات اس سے بھی ایک درجہ آگے ہیں۔آپﷺنے ایسے لوگ تیار کردیئے جنہیں میدان کار زار میں بھی جانکنی کے عالم میں کچھ کھانے پینے کو ملا ہے تو اسے اگلے زخمی بھائی کی طرف بڑھانے کا اشارہ کیا۔ گویا اسلام پہلے دوسرے بھائی کو کھلا کر پھر خود کھانے کا درس دیتا ہے۔

صبح تہجد کی نماز سے انسان کے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ خدا کی محبت اور اس کے بندوں سے پیار بڑھتا ہے۔ سورۂ مزمل کے مطابق ایسا کرنے سے نفس پر ضرب کاری لگتی ہے ،تکبر وغرور جاتا رہتا ہے۔ انسان کے منہ سے اچھی اور پیاری بات نکلتی ہے اوریہ عمل انسان کے اندر برداشت اور حوصلہ بھی پیدا کرتا ہے جیسا کہ حضورﷺ پر ایک مشرکہ بوڑھی کوڑا پھینکتی تھی جب چند دن اس نے ایسا نہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیمار پڑگئی ہے۔ تو آپﷺ اس کے گھر اس کی عیادت کرنے تشریف لے گئے۔

دینِ اسلام میں بڑی واضح ہدایات ہیں کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لئے نفع بخش ہو۔ انسانوں کے درمیان برابری کا درس آخری خطبہ میں جس شان سے دیا گیا ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ اس لیے  پورے شرح صدر کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر کسی فرد،تنظیم یا ملک کا مقصد انسانیت کی فلاح قرار پایا ہے تو اسے اپنے اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے اسوہ ٔرسولﷺاور تعلیمات رسولﷺ کو ہی اپنا لائحہ عمل قرار دینا ہوگا۔ جس قدر آپﷺ کے طریقہ کارفرمودات اور طرز ِ حیات پر عمل ہوگا اسی قدر انسانی فلاح کی منزل قریب تر ہوگی۔

٭…٭…٭