Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

پیغام مختصر (ایس ایم ایس) (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

پیغام مختصر (ایس ایم ایس)

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 635)

جدید سائنس اور ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو سہل اور ترقی یافتہ بنانے کے لئے ہمہ تن مصروف ہے۔ دن بدن ہونے والی نئی نئی ایجادات زندگیوں میں روزبروز جدید تبدیلیوںکا موجب بن رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جہاںہمیں ایک طرف کسی ایجاد سے حاصل ہونے والے فوائد نظر آتے ہیں تو وہیں دوسری طرف نقصانات کی بھی ایک لمبی فہرست ملتی ہے۔ چنانچہ انسانی زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کیا جائے اور ہم اپنی زندگیوں، جو نت نئی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہیں، اور اپنے اکابر ین کی زندگیوں جو ان لوازمات سے خالی اور سادگی پر مبنی تھیں، کا موازنہ کریں تو اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ مجموعی طور پر جدید ٹیکنالوجی اور ایجادات نے انسانی زندگی کو اس قدر فوائد اور سہولتیں مہیا نہیں کیں جتنا انسانی  زندگی کو مزید مشکلات اور مسائل سے دوچار کر دیا ہے،  پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے، وقت کو بچانے اور امور کو جس قدر تیز رفتاری سے انجام دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں، قلّت وقت کی شکایات اسی قدر بڑھتی جار ہی ہیں، مصروفیات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، ہر شخص یہی رونا روتا نظر آتا ہے کہ ’’وقت نہیں ملتا‘‘۔ یہ میری ذاتی رائے نہیں اور نہ ہی میں جدید سائنس اور ایجادات کا مخالف ہوں۔ البتہ ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے حقائق اس بات کی تصدیق کررہے ہیں۔

اصل میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی فلاح و بقاء اور معاشرے کی بہتری و ترقی کے لئے جو رہنما اصول اسلام نے مقرر کئے ہیں اُن کو نہ تو کسی چیز کی ایجاد کے وقت پیشِ نظر رکھا جاتا ہے اور نہ اُس کے استعمال میں۔ اگر کسی چیز کے بنانے اور اُس کے استعمال میں اسلام کے ان لازوال قواعد و ضوابط کو مدِّ نظر رکھا جائے جن میں معاشرے کی فلاح مضمر ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ایجادات ہمارے لئے نقصان کا باعث ہوں۔

جدید دور کی ان ایجادات میں سے ایک قابلِ ذکر اور اہم ایجاد موبائل فون بھی ہے جس کی افادیت سے قطعاً انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اسی مفید ایجاد نے ہمارے معاشرے کو جن مسائل سے دوچار کیا ور اس کے باعث جو منفی اثرات مرتب ہوئے وہ بھی سب پر واضح ہیں۔ موبائل فون میں ایک سہولت ’’ایس ایم ایس‘‘ یعنی مختصر پیغام کی سہولت بھی ہے ۔ اس سہولت نے پیغامات کی ترسیل کو بہت تیز اور آسان بنا دیا ہے  جس میں وقت کے ساتھ ساتھ اخراجات کی بھی بہت بچت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ یقیناً ایک مفید ایجاد ہے۔

دوسری طرف اسی ’’ایس ایم ایس‘‘ نے آجکل جو فتنہ فساد برپا کیا ہوا ہے اُس کو دیکھ دیکھ کر بھی عقل دنگ ہے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل اور نقصانات میں اس کی اصل افادیت دب کر رہ جاتی ہے۔ کہیں طنز و مزاح کی آڑ میں غیر اخلاقی پیغامات کی بھرمار ہے جس کے اثرات لوگوں کے اخلاق اور تربیت پر بھی پڑتے ہیں، اور کہیںدوستی کا سہارا لے کر غلط محبت بازیاں چل رہی ہیں، عشقِ مجازی کی پینگیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ ابھی کل ہی ایک ’’پیغامِ مختصر‘‘ میری نظر سے گزرا کہ ’’عشق کا اظہار کر لیا موبائل پر، کروڑوں کی بات تھی ۴۵ پیسے میں ہوگئی‘‘۔

’’ایس ایم ایس‘‘ کی اس سہولت سے جس قدر کام آجکل کے نام نہاد عاشقوں نے لیا ہے اور اس سے بے شرمی اور بے حیائی کو جس قدر فروغ حاصل ہوا ہے اس پر شیطان بغلیں بجاتا ہوگا۔  یوں تو اس آزادانہ میل جول میں موبائل فون کال نے ہی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، لیکن پھر بھی موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر موبائل کی سکرین پر نظر ڈال کر کسی کا کونے کھدرے میں چلے جانے کا کیا مطلب ہوتا ہے یہ اہلِ نظر تو یقیناً بھانپ جاتے ہوں گے، ’’ایس ایم ایس‘‘ میں نہ تو یہ خطرہ رہا اور نہ پہلے کی طرح خطوط کے پکڑے جانے کا ڈر۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بے حیائی کے افعال پر جرأت بڑھتی جا رہی ہے اور بڑوں کا لحاظ اور ڈر بھی دلوں سے غائب ہوتا جارہا ہے۔ اس پر غضب یہ کہ اس ’’ایس ایم ایس‘‘ کی ’’مقبولیت‘‘ اور اضافے کے پیشِ نظر موبائل فون کی کمپنیوں نے ایسے ایسے ’’پیکج‘‘ متعارف کروائے جو مندرجہ بالا نقصانات میں مزید اضافے اور تقویت کا باعث بنے۔ لہذا یہی ’’ایس ایم ایس‘‘ جو پیغام بھیجنے کی ایک کم خرچ سہولت تھی اب پیسوں کے ضیاع کا ایک اور ذریعہ بن گئی۔ مزید اس کارِ شر میں حصہ ملانے کے لئے شیطان کی تجاویز اور ترغیبات کے نتیجے میں  ’’ایس ایم ایس‘‘ پر کتابیں اور مجموعے تیارہونے لگے اور مختلف طریقوں سے اس کو اس قدر پھیلا دیا گیا کہ ’’ایس ایم ایس‘‘ کے ان منفی اثرات سے دامن بچانا ناممکن ہو جائے۔

اس حقیقت سے کوئی عقل و فہم رکھنے والا شخص انکارنہیں کر سکتا کہ انسان جو کچھ سنتاہے، جو دیکھتا اور پڑھتا ہے اور جو بولتا ہے اس کے اثرات اُس کی ذہنی نشونما، اس کے اخلاق و کردار اور عملی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی بے حیائی وبد اخلاقی کے بے شماراسباب سراعیت کرچکے ہیں، اب ان میں ’’ایس ایم ایس‘‘ ایک جدید اضافہ بن گیا ہے۔ پہلے جو باتیں زبان یا تحریر میں لانا خواص کیا عوام کے نزدیک بھی معیوب سمجھا جاتا تھا اور ان کا کھل کر اظہار کرنے میں شرم اور جھجک محسوس کی جاتی تھی اب وہ بلا جھجک بیان کر دی جاتی ہیں۔ کچھ دن پہلے مجھے اسی قسم کا ایک ’’ایس ایم ایس‘‘ موصول ہوا اور ایک ایسے آدمی کی طرف سے موصول ہوا جس پر مجھے شدید حیرت ہوئی کیونکہ میں اُس سے اس قسم کے پیغام کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ جب میں نے اس ’’پیغام مختصر‘‘ کے بارے میں پوچھا تو ایک ’’مختصر جواب‘‘ ملا کہ ’’جسٹ آ جوک‘‘ یعنی محض ایک مذاق تھا۔ اور اُلٹا مجھ سے ہی سوال کیا کہ ’’اس میں ایسی کیا بات تھی؟‘‘ ظاہر ہے میرے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔

پیغام مختصر سے پیدا ہونے والے مسائل اور نقصانات کا احاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں ۔ بلا مبالغہ اور مختصراً صرف اتنا عرض کروں گا کہ اس چھوٹی سی ایجاد کے غلط استعمال کے نتیجے میں خاندانوں کے بیچ لڑائی جھگڑے، اختلافات اور گھرانے تک اُجڑتے دیکھے ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہے جس کی تحقیق و تفصیل آپ اپنے اردگرد کے حالات کے بغور مطالعہ سے کرسکتے ہیں۔

موضوع کی مناسبت سے قارئین کی توجہ ایک اور بات کی طرف بھی دلانا چاہوں گا ۔ ’’ایس ایم ایس‘‘ کے ذریعے اسلامی معلومات کا تبادلہ ایک اچھی بات ہے البتہ اس میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے کہ صرف مستند اسلامی معلومات کا تبادلہ ہی کیا جائے تاکہ غلط معلومات کسی کی گمراہی کا سبب نہ بنے۔ شیطان تو ہر راستے سے آدمی کو گمراہی کی طرف موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک فضول، غلط اور جھوٹا پیغام جو مختلف طریقوں سے  پہلے خطوط کی صورت میں، پھر ای میلز اور اب ایس ایم ایس کے ذریعے لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں کوئی اسلامی بات لکھ کر نیچے لکھ دیا جاتا ہے کہ ’’یہ پیغام آگے مزید اتنے لوگوں کو بھیجیں تو آپ کو کوئی خوشی ملے گی اور اگر نہ بھیجا تو کوئی نقصان پہنچے گا‘‘۔  ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ خوشی یا غمی، فائدہ یا نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس قسم کے پیغام مسلمان کے اس عقیدے سے متصادم ہیں، یہ نعوذباللہ اللہ تعالیٰ پر بہتان اور تقدیر کا مذاق ہے۔ لہذہ مسلمان ایسا کوئی پیغام دوسروں کو نہ بھیجیں اور نہ اس پر یقین کریں اور کسی بھی اسلامی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے اس کے مستند ہونے کا اطمینان کرلیں ۔

آپ یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ کسی سائنسی ایجاد کے صرف نقصانات گنوانا اور فوائد بیان نہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟  اس کے جواب میں عرض ہے کہ کسی بھی چیز کے فوائد تو اکثر لوگوں کے سامنے ہوتے ہیں اس لئے ان کو بیان کرنے کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ تقصانات عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں اور ان کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔  اس لئے میں پھر کہوں گا کہ میں سائنس اور ایجادات کا مخالف نہیں اور نہ انکی افادیت کا منکر ہوں اگر وہ شریعت کی حدود کے اندر ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیدھا رستہ دکھائے اور اچھائی اور برائی میں پہچان کی توفیق عطا فرامائے۔ (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online