Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

۲۳ مارچ اور نظریہ پاکستان کے اصل مقاصد (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

۲۳ مارچ اور نظریہ پاکستان کے اصل مقاصد

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 636)

حکومت انسانی فطرت کاایک حصہ ہے۔ زمانہ قدیم حتیٰ کہ پتھر کے دور میں بھی یہ کسی نہ کسی شکل میں قائم تھی۔ عموما سب سے طاقتور شخص کسی قبیلے یا گروہ کا سردار بنتا تھا یا پھر سب سے عمر رسیدہ شخص کو اس کے تجربات اور بزرگی کی وجہ سے فضیلت دی جاتی تھی۔ جب سرداروں کا وجود عمل میں آیا تو انہی سرداروں نے دوسرے علاقوں پر حملے کیے اور فاتح سردار کا دائرہ اختیار مزید پھیلنے لگا۔

آہستہ آہستہ یہی سرداری پھیل کر بادشاہت کی جانب سفر کرنے لگی۔ چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر قبضوں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں پر حکومت کرنے کی خواہش میں عظیم الشان سلطنتوں اور بڑے بڑے فاتحین سامنے آئے۔ حکومت کا یہ سلسلہ صدیوں سے چل رہا ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں مختلف طرز کا حکومتی نظام چل رہا ہے۔ پارلیمانی، صدارتی، بادشاہت اور دیگر کئی ناموں سے دنیا بھر میں حکومتیں رواں دواں ہیں۔

یہ نظام صدیوں سے رائج ہیں اور انہیں مزید چلنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسا نظام حکومت درکار ہے؟

دیکھا جائے تو انسان نظام کیلئے نہیں ہوتے بلکہ نظام انسانوں کیلئے وضع کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد بنی نوع انسان کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے بہتر نظام حکومت وہی ہے جو اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کیلئے پسند کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ نظام اپنے تمام تر اصول و قوانین کے ساتھ وضع کردیا جائے تو پھر جرائم اور برائی ممکن نہیں۔ اللہ رب العزت نے جو نظام پسندکیا اس نظام کے تحت حاکم وقت بھی کڑے احتساب کی زد میں رہتا ہے۔ اسے عام شہری سے ماورا نہیں سمجھا جاتا۔ یہی اس نظام کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ اس میں ظلم کا تصور نہیں اورہر شخص جواب دہ ہے۔

پاکستان کا ہر باشعور شہری یہی چاہتاہے کہ نظریۂ پاکستان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت حکومت اللہ کی ہو اور حکمران محض اس نظام کو چلانے کیلئے اپناکردار ادا کررہا ہو۔ پاکستان کا آئین بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے اور واضح طور پر رہنمائی کرتا ہے۔ آج ہم اکہترواں یومِ پاکستان منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا، اس سے کوسوں دور ہیں۔

 آج پاکستان آزاد ہوئے 70سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن  قرارداد پاکستان کے اصل مقاصد کے خلاف ایسی سازشیں شروع ہوئیں جن کا تسلسل تاحال جاری ہے پاکستانی کی آزادی کے بعد انگریز تو یہاں سے چلا گیالیکن اپنے کارندے یہاں چھوڑ گیا تھا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں شروع کر دی تھی۔

23 مارچ کا دن وطن عزیز پاکستان کی تاریخ میں انتہائی عظمت و اہمیت کا حامل ہے۔ 23مارچ کو ہی انگریز اور ہندئوں سے نجات پانے کیلئے مسلمانان ہند نے الگ مملکت کی قرارداد منظور کی تھی لیکن صد افسوس وہ قرارداد جس مقصد کے لیے منظور کی گئی تھی وہ آج تک  پورا نہ ہو سکا۔

22,23,24 مارچ کو بادشاہی مسجد کے قریب وسیع و عریض میدان موجودہ اقبال پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کا تین روزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں لاکھوں مسلمانان ہند جمع ہوئے، اس تاریخی اجلاس میں وہ قرارداد منظور کی گئی جو بعد میں قرارداد لاہور کے نام سے مشہور ہوئی۔ اسی اجلاس میں پہلی بار یہ تصور پیش کیا کہ ہندوستان میں مسئلہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے یعنی دو قوموں کا مسئلہ ہے اور ہندوئوں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا واضح ہے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پور ہو گا جبکہ اس مسئلہ کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ان کی علیحدہ مملکتیں ہوں جہاں مسلمان اپنے ایک الگ ملک میں اپنی پسند اور امنگوں کے مطابق اور اپنے نصب العین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی روحانی، ثقافتی، سماجی و سیاسی زندگی کو بھر پورطریقے سے ترقی دے سکیں۔

ہندو اور مسلم دو جدا، جدا فلسفہ رسم و رواج سے تعلق رکھتے ہیں، نہ تو وہ آپس میں شادی کر سکتے ہیں اور نہ ہی مل سکتے ہیں دونوں کی تہذیب مختلف، نظریات مختلف، ثقافت مختلف اور زندہ رہنے کے بارے میں دونوں کے عقائد متضاد تھے یہاں تک کہ ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کا دشمن اس سوچ کے تحت 23 مارچ 1940ء کو ایک جوش تھا، ایک جنون جو لہو میں سرائیت کر چکا تھا آنکھوں میں آنسوتھے وہاں موجود لوگوں کا آپس میں کوئی رشتہ نہ تھا لیکن وہ سبھی اپنے ہی محسوس ہوتے کیونکہ سب ایک احساس کی مالا میں پروئے ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے حصول کی جدوجہد نے انہیں ایک کر دیا تھا اور یہی جذبہ تحریک قیام پاکستان کا نقطہ آغاز بنا اور 7سالوں میں شب و روز کی محنت لاکھوں مسلمانوں کی شہادتوں، ہزاروں افراد جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر گوشوں کو جلتے دیکھا ان کے صبر و حوصلے کا ثمر تھا اور بالآخر 14اگست1947ء کو مملکت اسلام آزاد ہوئی۔

یہ دن تحریک آزادی کا اہم سنگ میل تھا، جس دن مسلمانوں نے اپنی آزادی اور حقوق کے لیئے قرارداد پیش کی جسے قرارداد پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اس قرارداد میں مسلمانان ہند نے اپنی منزل کا تعین کیا تھا، ایک علیحدہ اسلامی مملکت جو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہوگی جس میں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی تہذیب و تمدن اور اسلامی نظام کے تحت زندگی گذاریں گے۔ وہ مذہبی و سماجی احترام اور معاشی خوشحالی حاصل کرنا چاہتے تھے جو انہیں ہندوستان میں معتصب ہندؤں کی اکثریت تلے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔

یہ بات ہر شک سے پاک ہے کہ مسلمانان برصغیر نے صرف اسلام کے نام پر قرارداد پاکستان منظور کروائی تھی اور لاکھوں جانوں و مال و متاع کی قربانیوں کے بعد پاکستان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے مگر بدقسمتی سے بعض نام نہاد دانشوروں کو جب اپنے وجود کے جواز کی ضرورت پڑی تو وہ تاریخی حقائق مسخ کرتے چلے گئے۔

تحریک پاکستان کے محرکات اور اسلامیان ہند کی بے مثال اور عظیم قربانی اور جدوجہد کو مسخ کرنے کی ناپاک کوششیں روز اول سے جاری و ساری ہیں اور بھارتی استعمار نے تو اب تک تاریخی سچائیوں کو قبول تک نہیں کیا بلکہ وہ اپنے ذہنوں میں تعصب و برائی لیے ہمہ وقت پاکستان کو مسخ کرنے کی ناپاک منصوبے بناتے رہتے ہیں مگر وہ شاید لاعلم ہیں کہ یہ مملکت خداداد مسلمانوں کے لیئے ایک تحفہ ہے جسے نہ حاصل کرنے سے تمھارے ناپاک ارادے روک پائے تھے نہ تم اس زمین پر نگاہ غلط ڈال سکتے ہو نہ تمھاری غلیظ سوچیں ہماری راہ میں روکاوٹ پیدا کرسکتی ہیں۔

مگر افسوس تو ہے ان آستین کے سانپوں پر ان کچھ نام نہاد دانشوروں اور سیاست دانوں پر جو ایک طرف پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے محافظ دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف وطن عزیز کی نظریاتی اساس پر خود ساختہ دانشوری کی دیمک بکھیرنے سے باز نہیں آتے۔

نظریہ پاکستان کا اصل مقصد ہی یہی تھا کہ اس پاک وطن میں نظام خلافت راشدہ نافذ کرکے عالمی برادری کے سامنے بطور نمونہ پیش کریں گے لیکن اب جو کچھ ہم یہاں ہوتا دیکھ رہے ہیں، ان کو تحریر کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہورہی ہے۔ کیا ہم نے یہ ارضِ پاک اس لیے حاصل کی تھی کہ یہاں عورتیں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘کے بینرز اٹھائے واک کریں گی…؟؟؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online