Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نیو ائیر نائٹ اور ہمارے رویے؟؟ (نشتر قلم۔زبیر طیب)

نیو ائیر نائٹ اور ہمارے رویے؟؟

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 675)

ملک بھرمیں سال نو 2019؁ء کا جشن منانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔کراچی میں کلفٹن کے ساحل پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے آتش بازی کا مظاہرہ کر کے نئے عیسوی سال کو منانے کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔آتش بازی کا مظاہرہ کر کے اس موقع پر دعا بھی مانگی جائے گی کہ اس سال پاکستان امن کا گہوراہ بنے اور ملک امن و امان کا گہوارا بن جائے۔جب یہ سطور آپ پڑھ رہے ہوں گے تب تک نیا عیسوی سال شروع ہو چکا ہو گا۔ ملک بھر میں غربت و افلاس، مہنگائی اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال کے باوجود آپ کو مندرجہ ذیل خبریں ضرور پڑھنے کو ملیں گی:

’’ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی زندہ دلان لاہور شہر کی مختلف شاہراہوں مال روڈ، لبرٹی چوک، مین بولیوارڈ میں جوق در جوق جمع ہونا شروع ہوگئے۔مرد و خواتین کی بڑی تعداد ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی رہی۔ لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور گل پاشی کی۔ اس موقع پر کچھ منچلے نوجوانوں نے ہلڑ بازی کرتے ہوئے مین بولیوارڈ کو بلاک کردیا۔ اس موقع پر گاڑیوں پر پتھراؤ اور ڈنڈوں سے گاڑیوں کے شیشے توڑنے کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔شراب سستی کر دی گئی اور جابجا کھلے عام لوگ شراب نوشی کرتے نظر آئے۔

نئے سال کی آمد کے موقع پر ملتان کے کینٹ بازار چوک میں سیکڑوں نوجوانوں نے ہلہ گلہ کیا مختلف گانوں پر نوجوان والہانہ رقص کرتے رہے اورآتش بازی بھی کی گئی۔ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لئے کیک بھی کاٹا گیا۔ نوجوانوں کے جشن کے باعث کینٹ میں گھنٹوں ٹریفک جام رہا۔ سڑکوں پر ون ویلنگ کرنے والوں کا بے پناہ رش۔ جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار منچلوں اور پولیس میں آنکھ مچولی جاری رہی۔ اس موقع پر نوجوانوں نے نئے سال کے لئے خوشحالی ، امن و استحکام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔‘‘

اس طرح کی خبریں پاکستان کے ہر شہر میں آپ کو گردش کرتی نظر آئیں گی۔ہر سال کی طرح اس سال بھی عزت و غیرت کا جنازہ نکالا جائے گا اور یورپی طرز کے ’’ نیو ائیر نائٹ ‘‘ کو منا کر خود کو روشن خیال پاکستانی کے طور پر فخر سے پیش کیا جائے گا۔

کس قدر افسوسناک بات ہے کہ جس پاکستان میں امن و امان کی یہ صورتحال ہو کہ اسے روزانہ درجنوں لاشوں کو کفن دینا پڑتا ہو۔جہاں بھوک اور افلاس کے مارے بچے، بوڑھے سب  بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہوں۔وہ پاکستان جس کا کونہ کونہ خون میں ڈوبا ہوا ہو۔ وہ ملک جسے دشمن چاروں شانے چت کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہوں۔ وہاں یہ سب کچھ… سمجھ سے بالاتر اور عقل سے ماورا لگتا ہے۔

اس موقع پر شور شرابہ، ناچ گانا، ہلڑبازی سے شروع ہوکر رقص و سرور، فواحش اور اسفل ترین حرکات پاکستانی معاشرت کی عکاسی نہیں کر تی ہیں اور نہ قوم اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔ اس دن ہیجان انگیز موسیقی، اختلاطِ مردوزن، ذومعنی جملوں، فحاشی، بے حیائی کا پرچار کے علاوہ اس اسلامی ملک میں شیطانی روایات کو کھلم کھلا چھوٹ دے دی جاتی ہے۔

کاش کہ ہم نئے سال کے آغاز پر رب کے حضور سربسجود ہو کر دعائیں مانگیں، جو سال گزر گیا اسے سامنے رکھ کر کیے گئے گناہوں پر استغفار کریں اور عطا کردہ نعمتوں پر رب کا شکر بجا لائیں۔کاش کہ ہم اس دن، اس رات فواحش اور نازیبا حرکات کی بجائے یہ خواہش اور امید اپنے دل ودماغ میں سجا کر رکھیں کہ انشاء اللہ یہ سال ہماری مصیبتوں کے خاتمے کا سال ہو گا۔یہ سال عالمِ اسلام کی سر بلندی اور کفر کے زوال کا سال ہو گا۔بحیثیت پاکستانی ہمیں یہ امید بھی رکھنی چاہیے کہ اس سال پاکستان کو سیاسی استحکام حاصل ہو گا۔اس سال اس پاک سر زمین پہ کوئی سیلاب اور کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔اس سال کوئی ڈرون پاک سرحدوں کی حرمت پامال نہیں کرے گا…اب کی بار کوئی حکومت امریکہ سمیت کسی استعماری قوت کے سامنے نہیں جھکے گی۔ہمیں اس نئے سال کے آغازپر یہ تمنا بھی کرنی چاہیے کہ اس سال قدرتی گیس ،بجلی اور پٹرول جیسے قدرتی وسائل کے بحران اور لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔مہنگائی اور بے روز گاری میں کمی آئے گی ہم ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس نظام کو دوبارہ نہیں آنے دیں گے۔

اس نئے سال کے موقع پر ہمیں اپنی جھولیاں پھیلا کر اللہ رب العزت سے التجائیں بھی کی جائیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم کا خوفناک سایہ ختم ہو جائے، مقبوضہ فلسطین اور کشمیر کو آزادی حاصل ہو جائے۔ برما، چیچنیا اور شام کے مسلمانوں کے لئے آئندہ سال امن و امان کا سال بنے۔ اور انہیں دکھوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل ہو جائے۔

نیو ایئر کے موقع پر یہ دعا بھی ضرور کرنی چاہیے کہ اس سال ہر مظلوم کو ظلم سے ،غریب کو غربت سے،مجبور کو جبر سے،غلام کو غلامی سے،گنہگار کوگناہوں سے،کافر کو کفر سے،منافق کو منافقت سے نجات مل جائے۔ لیکن یہ سب تمنائیں، خواہشات اور دعائیں تب رنگ لائیں گی جب سب سے پہلے ہم اپنے سینے میں موجودمسلط شیطان کا تختہ الٹیں گے اور سال گزشتہ کی تلخیوں کواپنی ناکامی یا کمزوری پر محمول کئے بغیران سے سبق سیکھنا ہوگااور اپنے لئے راہ عمل کا تعین کرنا پڑے گا۔تب جا کر انشاء اللہ یہ نیا شمسی سال ہمارے لیے مسرتیں لائے گا۔ہمارے لیے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے  خوش کن ثابت ہو گا۔ انشاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor