Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

ہمارا نہیں یہ فقط خون برساؔ (نشتر قلم۔زبیر طیب)

ہمارا نہیں یہ فقط خون برساؔ

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 678)

پاکستان کا شمار ایٹمی ممالک میں تو کیا جاتا ہے مگر مجھے آج افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہم ایک ایٹمی طاقت تو بن گئے مگر ہم آج تک ایک ایسی ’’غیرت مند‘‘ قوم نہ بن سکے جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کی نگاہ سے دیکھ سکے۔

 آج پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اورپچھلے کئی برسوں سے ملک میں برسراقتدار حکمران ٹولہ بدترین جمہوریت کی علامت ہے۔ ہمیں آج تباہی کے دہلیز پر پہنچانے میں سیاسی پنڈتوں کا تو ہاتھ ہے ہی مگر انکے ساتھ ساتھ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹیز ،کالم نگار، تجزیہ نگار اور صحافیوں کا بھی ہاتھ ہے جو پاکستان میں بڑھتی ہوئی عدم اطمینان اور انسانی حقوق کی ہوتی ہوئی تذلیل پر اپنا حق ادا نہیں کرتے اور شاید انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں پاکستان میں ہیں ہی نہیں یا پھر پاکستان خاص طور سے پنجاب اور سندھ میں غیر انسانی سلوک انہیں نظر نہیں آتا اور پاکستان میں قانون ہے ہی نہیں ۔شائد عدالتی سسٹم پاکستان میں ختم کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں کسی کو انصاف نہیں ملتا۔ دنیا میں ہر جگہ یہ الفاظ سنے تھے کہ قانون اندھا ہوتا ہے مگر میں نے پاکستان میں اس اندھے قانون کو ہی نہیں دیکھا۔اگر پاکستان میں کسی کو انصاف یاقانون ملے تو وہ  اسکی تصویر بناکرفوٹو  فریم کرے اور کسی عجائب گھرمیں رکھ دے کیونکہ  پاکستان میں انصاف  و قانون جیسے معجزے صدیوں میں ہوتے  ہیں۔

پاکستان کی تاریخ ہے کہ یہاں سیکیورٹی ایجنسیز اگر کسی کو غلطی یا انٹیلی جنس کی غلط رپورٹ پر اگر بیچ سڑک پر مار ڈالے تو ان اہلکاروں کو سزا ہونا تو دور کی بات بلکہ مظلوم مقتولین پرہی غلط الزام لگا کر انہیں تا قیامت مجرم ثابت کر دیا جاتا ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آج تک جتنے ماورائے عدالت قتل ہوئے کسی ایک ایڈمنسٹریٹر کو سزا دی گئی ہو 

پاکستان  کے شہریوں کا کوئی ولی وارث ہے مسلسل ماورائے عدالت قتل کے واقعات اب عام شہریوں کے ذہنوں میں سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ انسانیت سوز سلوک کی کیوں؟سادہ لباس اہلکار جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کی آڑ میں بنا وارنٹ کے عام شہریوں کے گھروں چھاپا مار رہے ہیں، چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے، اگر کوئی مرد نہ ہو تو خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ جب چاہے انہیں چوکوں چوراہوں اور گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ اور بغیر کسی کو اطلاع دئیے مہینوں انہیں اندھیری کوٹھڑیوں میں رکھا جاتا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 10 کے مطابق گرفتار ملزم کو گرفتاری کے24 گھنٹوں کے اندر ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے اور  مجسٹریٹ کی بغیر اجازت کسی کو حراست میں نہیں رکھا جاسکتا مگر اس کے باوجود انہیں کئی کئی ماہ ظلم وبربریت کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کردیا جاتا ہے جو  آئین کی خلاف ورزی ہے ۔لیکن ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

سانحہ ساہیوال پر کیا رویا جائے اور کتنا رویا جائے ؟ ساہیوال میں پولیس گردی سے قتل ہونے والا خاندان لاہور چونگی امرسدھو کا رہائشی تھا۔ قتل ہونے والے والد کا وہاں جنرل سٹور ہے بورے والا کے قریب گاوں میں شادی پہ جارہے تھے۔ساہیوال میں پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کرکے سارا خاندان مار ڈالا۔

قوم نے تبدیلی کو ووٹ دیا…

مگر قوم کی قسمت نہ بدلی…

ریاست مدینہ والے بھی پرانے پاکستان کے بدمعاشوں کی زبان بول رہے ہیں…

سانحہ ماڈل ٹاون میں قتل ہونے والوں کو رانا ثناء اللہ نے دہشت گرد کہا…

نقیب اللہ محسود کو راؤ انوار نے دہشت گرد کہا…

اور اب ساہیوال میں قتل ہونے والوں کو فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان دہشت گرد کہہ رہے ہیں…

جس طرح ماڈل ٹاون کے قاتل آزاد ہیں…

راؤ انوار آزاد ہے…

اسی طرح چار دن انکوائری چلے گی…

کوئی دو چار معطل ہو کر اس خون آشام جنگ کے صلے میں گھر بیٹھنے کی تنخواہ موصول کریں گے…

اور پھر بحال ہوکر آزاد گھومیں گے…

تو بتائیں کیا تبدیلی آئی پاکستان میں…

شاید بے گناہ مرنے والوں کے نام اور جگہ تبدیل ہوئی ہے اور بس…

کب تک ہمارے محافظ ہم پہ ظلم کے پہاڑ توڑیں گے…

شاید تب تک جب تک ایسا ظلم کرنے والے پھانسی پہ جھولنا نہ شروع ہوگئے ورنہ آئے روز ساہیوال جیسا سانحہ ہوگا…

ذرا سوچیں کہ یہ تو وہ معاملات ہیں جو سوشل میڈیا پر آنے کی وجہ سے ہائی لائٹ ہوجاتے ہیں پھر جے آئی ٹی کا لالی پاپ چوسنے کو دے دیا جاتا ہے مگر گنہگار وہی نکلیں گے جن کو پولیس نے گنہگار قرار دے دیا…

لیکن جو کیس ہائی لائٹ نہیں ہوتے ان میں تو پولیس پورے خاندان مار کر دہشت گرد قرار دے کر یا اغواکار قرار دے کر پلو جھاڑ کے بیٹھ جاتی ہے اور لواحقین اگر انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تو انکو بھی دھمکیاں دے کر چپ کروادیا جاتا ہوگا اور بس…

جانے کتنے ہی خاندان ایسے ظلم کا شکار ہوئے ہوں گے…

پھر بتاؤ ایسے ظلم کا شکار ہونے والوں کے بہن بھائی بیٹے باپ دہشت گرد نہ بنیں تو کیا بنیں…

بلاشبہ ایسے ہی سانحات سے اکثر دہشت گرد جنم لیتے ہیں۔

چار قتل کردئے۔

تین زندہ پکڑ لیے اور تین فرار ہونے میں کامیاب۔

چھوٹی کورے گاڑی میں دس لوگوں کو گھسا دیا پولیس نے۔ لیکن کوئی اسے جھوٹ نہ کہے کیونکہ پولیس کی رپورٹ ہے جیسا پولیس کا قلم چلے گا اسی کو ماننا فرض ہے…

اگر دہشت گرد تھے اور بھاگ رہے تھے تو فرنٹ سکرین سے گولیاں کیا فرشتوں نے ماری ہیں…

بھاگ رہے تھے تو ٹائر پہ فائر کرتے…

فائرنگ کررہے تھے تو کوئی بھی پولیس اہلکار کیوں نہیں مرا…

حیرت ہے زخمی بھی نہیں ہوا…

جس اسلحے سے فائرنگ کررہے تھے وہ اسلحہ کہاں ہے…

ہاں شاید بعد میں اسلحہ کی برآمدی بھی ڈال دی جائے گی…

کون پوچھنے والا ہے؟

پہلے کہا اغوا کار تھے

پھر کہا دہشت گرد تھے

گولیاں فرنٹ سے ماری گئیں

گاڑی میں دس لوگ تھے

مگر حیرت ہے بھاگنے والے تین نہ تو کسی گولی کی زد میں آئے نہ زندہ پکڑے گئے

نہ عینی شاہدین میں سے کسی نے انکو بھاگتے دیکھا

مگر ان سب جھوٹوں کے باوجود۔پولیس کوئی نہ کوئی چکر چلا کر اپنی من مانی رپورٹ اور کرائم سین بنا کر بال بال بچ نکلے گی۔اب بچنے والے تین معصوم ساری زندگی۔ انصاف کی امید میں در در کی ٹھوکریں کھائیں گے۔ساری زندگی رشتے داروں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔کوئی نہ اب بابا کی طرح ان سے لاڈ کرے گا اور نہ کوئی ماما کی طرح انہیں سینے سے لگائے گا۔

کوئی نہ ان کے لاڈ اٹھائے گا اور نہ کوئی ان کی صحیح معنوں میں کفالت کرے گا…

معصوم بچے سوال کر رہے ہیں:

کہاں لے کے جائیں یہ ننھے قدم ہم

یہ معصوم جیون

 یہ تُتلی زبانیں

یتیمی کی چادر ہے پہنائی کس نے؟

ہے وہ کون جس نے لہو ہے بہایا؟

جو نعرہ سنا تھا بہت پہلے ہم نے

یہاں ہر سو تبدیلی اے لانے والے!

نیا دیس یہ ہے؟

بتا دے،  بتادے بتادے!

قصور اپنا کیا تھا؟

بھلا جرم کیا تھا ہمارا؟

جو دنیا ہماری اجاڑی ہے تم نے؟

ارے سب سے بڑا دکھ تو یہی ہے … ان بچوں کو کیوں چھوڑ دیا ؟ کاش یہ بچے بھی ساتھ ہی مار دئیے جاتے …

کیا پتا کل کو یہی بچے بڑے ہو کر جب انہیں بتایا جائے گا کہ انہی کے محافظوں نے ان کے ماں باپ کو مارا تو نہ جانے کیا سوچیں گے؟

خدا کی قسم ان بچوں کے واویلے نہیں دیکھے جاتے۔ خدارا ! کچھ اور نہیں تو یہ قانون ضرور بنا دیا جائے کہ ایسے مقابلوں میں اگر بچے بھی ہوں تو انہیں بھی ساتھ ہی مار دیا جائے۔

وہ فیڈر پیتی بچی اور وہ تتلی زبان بولنے والا معصوم بچہ بزبان حال کہہ رہے ہیں:

اے اہلِ قلم میری ملت کے کاتب

ہمارا نہیں یہ فقط خون برسا

یہ سب کا لہو ہے

یہ سب کا ہی غم ہے

یہ پورے چمن کا جنازہ اٹھا ہے

یا اللہ وطن عزیز کوایسے ظالموں سے نجات عطاء فرما۔آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online