Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اہل پاکستان کے نام (نشتر قلم۔زبیر طیب)

اہل پاکستان کے نام

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 679)

پاکستان ، کشمیر سمیت دنیا بھر میں  ہر سال  ۵ فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ دن اس غفلت بھری دنیا کو بس ایک چھوٹا سا پیغام ہے کہ کشمیر نام کا ایک خطہ ہے جہاں ظلم وبربریت کی عجیب و غریب داستان رقم کی جا رہی ہے۔ یہ دن ان مظلوم کشمیریوں کے زخموں پر اس مرہم کی مانند ہے جس کا اثر زیادہ نہیں تو کس قدر دیرپا رہتا ہے۔ یہ دن اس بربریت کی یاد دلاتا ہے جس میں لاکھوں کشمیری بھارتی سفاک سپاہ کی بربریت کا نشانہ بن کے موت کی آغوش میں جاکر سو گئے ، باقی کو بھی ایسے ہی جانکاہ حالات کا سامنا ہے ،

اس دن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہو گی کہ کم از کم  بھارت کو یہ تو باور کروانے کی کوشش کریں کہ مسلمان اور خصوصاً پاکستان مسئلہ کشمیر پر کوئی سودے بازی کرنے پر تیار نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بھارت کی طرف سے حقیقی کوشش تک اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھا جائے ۔ہمارے حکمرانون کو بھی اب خواب غفلت سے جاگنا ہو گا ورنہ قیامت تک یہ سیاست دان اپنی کرسی بچانے اور تجارت و کاروبار کے چکر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم ہونے دیں گے اور بیان بازیوں سے ہم عام عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے ۔

ہر سال کی طرح امسال بھی ملک بھر میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے صبح 10 بجے ایک منٹ کے لئے خاموشی اختیار کی جائے گی اور وہ خاموشی ہر سال کی طرح بے مقصد و بیکار جائے گی کیونکہ ہم لوگ خاموشی کے بعد سنجیدہ تو ہوتے ہی نہیں ہیں ۔ ایک منٹ کی خاموشی کے بعد ہم کشمیر کے مسئلہ کو بھول کر پورا سال گزار دیتے ہیں ۔

 مجھے یقین ہے ستر فیصد پاکستانی اس چھٹی کو سو کر ، شام کو گھوم پھر کر سیروتفریح کر کے مناتے ہیں کشمیر کے لیے کچھ نہیں سوچتے اور نہ ہی کرتے ہیں ۔ ورنہ ایک دن اگر ہم صیحح طرح سے منالیں ۔ تو بھارت اور پوری دنیا کو نانی یاد آجائے ۔ اگر ہم اس دن سب لوگ گھروں سے نکل کر نیشنل انٹرنیشنل میڈیاکے سامنے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں اور اپنی حکومت سے بھی کشمیریوں کے حق میں مزید تیزی سے فیصلہ کرنے اور بھارت سے دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ منظور کروالیں تو دنیا دیکھے گی کہ کیسے کشمیر کو زیادہ عرصہ وہ ظلم کا نشانہ بنا سکتا ہے ۔

تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے یہ دن منایا جا رہا ہے اور پانچ فروری کو پاکستان میں تمام کاروبار زندگی بند ہو جاتا ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی پشت پر لا کھڑا کیا جاتا ہے کہ اہل کشمیر بھارت کے فوجی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں ۔ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے دنیا کا بڑا چوہدری ( نام نہاد) اقوام متحدہ نے متنازعہ تسلیم کر رکھا ہے۔ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اوراپنے موقف حق خود ارادیت کے حصول کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں

پانچ فروری 1990ء کو جس یکجہتی کا اظہار کیاگیا تھا اس وقت حکمرانوں اور قوم کے اندر برابر کا جوش و خروش تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں وہ جذبہ موجود نہ رہا ۔ حکمرانوں کی پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً کمزوریاں سامنے آتی رہی ہیں ۔ پاکستان میں بھی سیاسی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے لیے کوششیں ہوئیں اور آخر کار اس کا اعلان بھی ہوا جو حکومت آزاد کشمیر سے کرایاگیا۔ اس طرح پالیسیوں کے اندر آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں سیاسی اور سفارتی جس کا بار بار اعلان ہوتا رہا ۔ سفارتی محاذ بھی خاموش ہو گیا البتہ سفارتی محاذ پر کشمیریوں نے اپنے طور پر مسئلہ کشمیر پر اپنی جدوجہد جاری رکھی اور دنیا کو توجہ دلائی جاتی رہی کہ جب تک مسئلہ کشمیر پر امن طور پر حل نہیں ہو جاتا خطے کے امن کو شدید خطرہ ہے ۔اس سال بھی پانچ فروری کا دن پاکستان میں سرکاری سطح پر منانے کا اعلان ہوا مگر کشمیری یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ دن محض ایک دن کی چھٹی اور رسمی طور پر منایا جاتا ہے حکومتی سطح پر عوام کے دباؤ کی وجہ سے منایا جاتا ہے ورنہ حکومتوں کی کشمیر پر کوئی واضح پالیسی نہیں ہے ۔ بھارت کے ساتھ تجارت کی جا رہی ہے ۔ سفارتی محاذ پرجہاں ایک سو ممبران پارلیمنٹ کی برطانیہ میں کشمیر کمیٹی تھی اس میں بھی اب چند رہ گئے ہیں ۔ یہی صورت حال باقی یورپ میں بھی ہے ۔ پانچ فروری کا دن برطانیہ اور یورپ کے سفارت خانوں میں بھی منایا جاتا ہے مگر اس کے بعد پھر سفارت خانوں کی کوئی کارکردگی نظر نہیں آتی ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی پاکستان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں ۔ کشمیر پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ بھارت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے تاکہ اہل پاکستان کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے ہٹا سکے ۔

آج پوری دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے ۔عالمِ اسلام میں ہر جانب بیداری کی لہریں موجزن ہیں عالمی استعمار امت مسلمہ کی بیداری سے خائف ہے اور جہاں کہیں دینی وملی سوچ رکھنے والے لوگ جمہوری راستے سے ملک کے اندر ایوانِ اقتدار تک پہنچتے ہیں، نام نہاد مغربی جمہوریت کے علمبردار کہتے ہیں کہ جمہوریت ہار گئی ہے۔ الجزائر، مصر اور غزہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ہمیں جذبہ جہاد اور شوقِ شہادت سے سرشار مجاہدینِ کشمیرو فلسطین اور روہنگیا حریت پسندوں کا ساتھ دینا چاہیے ۔غلامی کی زنجیریں ان شاء اللہ ٹوٹ گریں گی اور جبر کا دور ختم ہو جائے گا ۔یہ دن تجدیدِ عہداور عزمِ نو کی نوید ہے۔ آئیے اپنے اللہ سے عہد باندھیں کہ ہم کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔اللہ تعالیٰ جہاد کرنے والوں کا ساتھی ہے اور ہم قائد المجاہدین( ﷺ) کے امتی ہیں۔ان شاء اللہ کشمیر کے علاقے میں مجاہدین اپنے جذبہ جہاد اور خون سے اس سرزمین کی آبیاری کرتے رہیں گے اور ان شاء اللہ اہل پاکستان سفارتی محاذ پر اور یکجہتی کے تمام ریکارڈ ان شاء اللہ اس دن توڑ دیں گے۔

 ان شاء اللہ العزیز

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor