Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

میں جانتا ہوں (نشتر قلم۔زبیر طیب)

میں جانتا ہوں

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 682)

میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں … جنہوں نے کبھی زندگی میں ٹھیک سے نماز بھی نہ پڑھی ہو لیکن…

وہ ایسی ایسی دین و اسلام کے بارے میں باتیں اور فلسفے جھاڑتے ہیں کہ انسان حیران رہ جائے کہ نہ جانے یہ کس حق اور کس ڈھٹائی سے اس بارے میں خود کو اتھارٹی سمجھ رہا ہے …

میں نے بہت سے ایسے لوگ بھی دیکھے … جنہوں نے کبھی اپنی ساری زندگی میں قرآن اور حدیث کے بارے میں کسی مستند عالم دین سے تلمذ حاصل نہیں کیا مگر …

قرآن و حدیث کی ایسی ایسی تشریحات اور موشفاگیاں جس انداز سے کریں گے آپ حیران رہ جائیں گے…

میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے کبھی قلم پکڑ کر کچھ نہیں لکھا مگر …

کتابوں ، رسائل اور اخباروں پر ایسے ایسے طنز کریں گے اور خود کو تیس مار خان سمجھیں گے کہ آپ پریشان ہو جائیں گے…

ایسے لوگ بھی دیکھے جنہوں نے کبھی زندگی کا کوئی ایک کام ڈھنگ سے نہیں کیا …

مگر مجلسوں، تھڑوں ، فیس بک اور ٹویٹروں پر ایسی ایسی دانشوری جھاڑیں گے کہ آپ کے رواں رواں اس عجیب و غریب منطق پر حیران رہ جائے گا  لیکن ایسے نمونوں کی اس دنیا میں کوئی کمی نہیں…

ایسے لوگ بھی دیکھے جنہوں نے کبھی علماء یا عالم کا لفظ اپنی زبان سے ٹھیک سے ادا نہیں کیا مگر …

وہ علماء اور طلباء دین پر ایسے زبانیں دراز کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ

ایسے لوگ بھی بار بار نظر آئے جنہوں نے ساری زندگی بغیر کسی مقصد کے گزار دی مگر …

دوسروں کو مقصدیت کے پاٹ پڑھاتے ان کی زبان نہیں تھکتی …

ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جنہیں گھر میں کوئی پوچھتا نہیں مگر …

 فیس بک پر بیٹھ کر دوسروں کو مشوروں، ٹوٹکوں سے نوازنے کا کام مفت میں کر رہے ہیں…

ایسے لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اپنی زندگی ناکام و مراد گزار دی مگر …

دوسروں کو کامیابی کے دروس دے دے کر نہیں تھکتے…

میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا … جو زندگی میں ایک بار بھی کسی درخت پر نہیں چڑھے مگر …

وہ کہ جنہوں نے کبھی پہاڑوں کی کبھی خاک نہیں چھانی …

وہ کہ جنہوں نے صحراؤں کو چوم کر نہیں دیکھا…

وہ کہ جنہوں نے زندگی میں دشمن کے خوف سے دل لرزا دینے والی ایک رات نہیں گزاری …

وہ کہ جنہوں نے کبھی سمندروں میں جھانک کر نہیں دیکھا …

وہ کہ جنہوں نے کبھی دریاؤں کے یخ بستہ پانی میں پاؤں بھی نہیں لٹکائے …

وہ کہ جنہوں نے کبھی تپتے صحراؤں اور گلیوں میں ننگے پاؤں چل کر نہیں دیکھا …

وہ کہ جنہوں نے کبھی سوکھی روٹی کے نوالے حلق میں ڈالنا تو دور کی بات کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں…

وہ کہ جنہوں نے کبھی دھوپ برداشت نہیں کی  …

وہ کہ جنہوں نے کبھی درختوں کے پتے نہیں کھائے …

وہ کہ جنہوں نے کبھی ایمان کی خاطر ایک تھپڑ تک نہیں کھایا …

وہ کہ جنہوں نے نرم گرم بستروں سے نکل کر کبھی تہجد کی نماز تک پڑھنا گوارا نہیں کیا …

وہ کہ جنہوں نے کبھی جسم سے گرم خون نکلنے کی تکلیف برداشت نہیں کی…

وہ کہ جنہوں نے کبھی ایک مرغی تک ذبح نہیں کی …

وہ کہ  جنہوں نے کبھی پاؤں پر چھالے تک نہیں پڑنے دیے …

وہ کہ جنہوں نے خوف کے عالم میں کسی جنگل میں رات گزارنے کا سوچا تک نہیں …

وہ کہ جنہوں نے کبھی جہاد کی نیت سے کبھی اپنے جسم کو حرکت تک نہیں دی…

وہ کہ جنہوں نے کبھی قید و بند کی صعوبتیں نہیں دیکھیں…

وہ کہ جنہوں نے کبھی اپنے جسم پر غبار تک لگنے نہ دیا …

میں جانتا ہوں … ہاں میں جانتا ہوں ایسے لوگوں کو بھی …

جنہوں نے زندگی کی کوئی ایک رات بھی جہاد اور مجاہد کے بارے میں نہیں سوچی اور نہ سمجھی …وہ کہ جنہوں نے کبھی کسی مجاہد کے ساتھ ایک منٹ نہیں گزارا… وہ کہ جنہوں نے کبھی ان کے سینے کے انوارات کو اپنے اندر محسوس نہیں کیا…وہ کہ جنہوں نے کبھی کبھی کسی مجاہد کی پیشانی تک کو نہیں دیکھا …

مگر ہائے افسوس!

ایسے لوگوں کو مجاہدین کے خلاف منہ سے کف نکال کر بولتے دیکھے کہ ان کی بدقسمتی اور بد نصیبی سے عبرت ہوئی …

ان کی سوچ اور فکر  سے عبرت ہوئی …

ان کے قلم سے نکلے حروف سے عبرت ہوئی …

ان کی زبان سے نکلے ہوئے لفظوں سے عبرت ہوئی …

حال ہی میں ہونے والے کشمیری مجاہدین کے لئے فیس بک پر جہاں تعریف و توصیف کا ایک سلسلہ ہے ، اپنے تو اپنے پرائے بھی ان کے لئے دعاگو ہیں وہیں کچھ  بد نصیب، بدقسمت اور نا عاقبت اندیش لوگ مجاہدین کے خلاف فیس بک اور دوسرے میڈیا پر خوب گرج برس رہے ہیں۔ ان کی تحریں پڑھیں تو غصے سے زیادہ ترس آتا ہے نمونہ کے لئے چند ایک حاضر ہیں:

ایک محترمہ نے لکھا :

کشمیر میں مجاہدین کی ایک کارروائی سے جس قدر نقصان ہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔تازہ حملے کے بعد اب تک کئی عورتوں کی آبروریزی ہو چکی اور کہی کشمیری عام مسلمانوں کو شہادتیں ہو چکیں اور سینکڑوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ؟ کاش کشمیری مجاہدین اور عوام تشدد کی راستہ چھوڑ کر ایک بار صرف ایک بار ’’ ملین مارچ‘‘ دہلی کی طرف کریں تو کشمیر کو آزاد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا…

( ہائے کاش ! اسے سادگی کہیں یا جہالت کی اعلیٰ مثال ۔ نہ زمینی حقائق سے کچھ خبر، نہ جنگ کی ج کا پتہ نہ کشمیر میں مجاہدین کی م کا پتا اور مفت میں مشورہ دے ڈالا )

ایک نوجوان نے لکھا:

کاش کشمیری مجاہدین اقوام متحدہ میں اپنا موقف ٹھیک سے پیش کر پاتے۔ انہیں ایک عالمی قسم کے   رہنما کی ضرورت ہے جو ان کا مقدمہ اقوام متحدہ میں لے  جائے اور وہ وہاں جیت کر اپنا ملک آزاد کروا لیں ایسے 5  سے زائد ممالک ہیںجو اب تک صرف اسی پروسیس سے آزاد ہو چکے ہیں۔

( واہ واہ … کیا کہنے جناب کے۔ بندہ آپ کے لئے تو بس ہدایت کی دعاء ہی کرے۔ آپ کی سمجھ سے مقابلہ تو ہمارے بس  میں نہ ہے بھائی  )

یہ تو دو نمونے بس کافی ہیں … یقین کریں ایسے نمونوں سے یہ دنیا بھری پڑی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor