Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بس ایک ذرا اور صبر (نشتر قلم۔زبیر طیب)

بس ایک ذرا اور صبر

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 684)

حال ہی میں مصر کی سرزمین پر نو (9) افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی ۔ ان نوجوانوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے مصری فوج کے اعلیٰ آفیسر کو قتل کیا ہے۔ جو کہ 2015 ؁ء کے ایک بم دھماکہ میں مارا گیا تھا۔ عدالت میں مقدمہ چلا اور کیس بظاہر ان نوجوانوں کے حق میں جا رہا تھا مگر مصر کی اسلام دشمن حکومت نے اخوان کے ان پیارے نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی چند ویڈیوز منظر عام پر آئی تو حیران رہ گیا۔ مصری فوجی عدالت میں ان نوجوانوں کو جب آخری بار لایا گیا اور ان کے اہلخانہ بھی آئے تو کیا عجیب اسلام کی حرارت سے ان کے سینے منور ہو رہے تھے۔ نوجوانوں کے دلوں اور چہروں پر ایسا اطمینان کہ دم بخود رہ گیا۔ شہادت کے بعد ایک نوجوان کی والدہ کا عجیب خطاب منظر عام پر آیا جس میں جنازہ کے موقع پر وہ ایک مجمع عام سے خطاب کر رہی ہیں ان کے چند الفاظ مندرجہ ذیل ہیں :

’’ میں ایک شہید کی ماں ہوں۔ خبردار کرتی ہوں کہ مجھے کوئی سوگ منانے کا نہ کہے اور نہ ہی کوئی مجھے میرے شہید بیٹے کے لئے مجھ پر ترس کھائے۔ مجھے فخر ہے میرا بیٹا قربان ہوا۔ میں اس پر خوش ہوں۔ ‘‘

ایک اور شہید کی اہلیہ محترمہ جن کی کچھ عرصہ پہلے ہی شادی ہوئی ۔ ان کے تاثرات بھی اپنے نئے دلہا شہید کے بارے اس سے کچھ مختلف نہ تھے۔ اللہ اکبر کبیرا

کیسا مجاہدہ اور کیسی قربانی کہ انسان سوچ کر رہ جائے۔

درندگی کی انتہا،وحشیانہ تشدد اور بربریت کی نئی تاریخ رقم ہوئی، تاریخ میں ایک اور فرعون جس نے ہزاروں معصوم بچوں اور نوجوانوں کو شہید کر دیا۔امت مسلمہ میں نئے ابھرنے والی اسلامی حکومت صلیبی قوتوں کو کھٹک رہی تھی۔ محمد مرسی نے اقتدار سنبھالا تو دنیائے کفار خصوصاًاسرائیل کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی، اس لمحے اسرائیل نے یہ بیان داغا کہ اخوان المسلمون اقتدار میں آ تو گئی ، مگر زیادہ دیر رہ نہ سکے گی، اسی کی کڑی میں اسرائیل اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سرگرم ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے جب قوت پکڑی تو اس کے اندر ہی سے میرجعفر اور میرصادق پیدا ہوئے جنہوں اپنی ہی پلیٹ میں چھید کیا،ٹیپو سلطان جیسے بہادر سپہ سالاروں کا قتل کیا،مسلمانوں کوامام تیمیہؒ،صلاح الدین ایوبیؒ،محمد بن قاسمؒ اور غوری غزنویؒ جیسے سینکڑوں سپہ سالار ملے جنہوں نے دنیا پر اپنی حکومتیں قائم کی،ان کی سلطنت پر ہر انسان کوبرابر کے حقوق تھے ، انصاف تھا ،امن اور خوشحالی تھی۔صلیبی قوتوں اور کفار کو ان کی حکومتیں کبھی ہضم نہیں ہوئیں ۔مصر میں تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرایا میرجعفر کی شکل میں ایک فرعون ثانی نے مصری شہریوں پر ظلم کی انتہا کر دی ۔

اخوان المسلمون کے خلاف مصر کی غاصب حکومت کا ظالمانہ رویہ تاحال جاری ہے۔ مصر کی غاصب و ظالم حکومت نے صدر محمد مرسی، ڈاکٹر محمد بدیع اور اخوان کے دیگر قائدین اور کارکنان کو سزا سنا کر اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ اخوان جیسی صاحب استقامت جماعت کو اس کے راستے اور مقصد سے الگ کر دے گی، لیکن حقیقت میں یہ غاصب حکومت کی غلط فہمی ہے۔ اخوان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اخوان اپنے قائدین اور ارکان کے قتل، گرفتاری، تعذیب اور جلاوطنی کے باوجود گزشتہ 9 دہائیوں سے عالم اسلام کی ایک عظیم اور منظم جماعت ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت آج تک اسے اس کے راستے سے نہیں ہٹا سکی۔ شاہ فاروق، جمال عبدالناصر، انور سادات اور حسنی مبارک جیسے ظالم و جابر حکمران آج اس دنیا سے مٹ چکے یا مٹنے کے قریب ہیں، مگر اخوان المسلمین پوری دنیا میں اپنے مضبوط وجود کے ساتھ قائم ہے اور اس امت کے دلوں میں زندہ ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کے بانی شیخ حسن البنا کی فکر و اخلاص اور اس کی لاوزال قربانیاں ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اخوان المسلمون نے قربانیوں جواں مردیوں اور ایثار و استقامت کے ایسے انمٹ نقوش نے چھوڑے ہیں جنکی مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کی نامور شخصیت مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی کو یہ کہنا پڑا کہ

’’جسے اخوان سے محبت ہے اسکے ایمان میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور جسے اخوان سے بغض اور نفرت ہے اسکے نفاق میں کوئی شبہ نہیں ہے۔‘‘

بلا شبہ اخوان کفر و الحاد اور استعمار کے سمندر میں اسلام کا وہ جزیرہ ہے جسے پوری ایک صدی کے تمام طوفانوں سے گزرنا پڑا ہے، لیکن ظلم و جبر کے تمام طوفانوں کی سرکشی پوری دنیائے اسلام میں اسلام کے اس واحد جزیرے کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکی ہے۔

امام حسن البناء شہیدؒ کہتے تھے :

’’اے اخوان ! جب قید خانے تمہارے لئے کھول دئیے جائیں اور پھانسی کی لکڑیاں لٹکا دی جائیں تو جان لینا کہ تمہاری دعوت نے نتیجہ خیز ہونا شروع کر دیا ہے۔ ‘‘

امام حسن البناء جب شہید کر دئیے گئے اور جنازے کو کندھا دینے کے لئے مسلمانوں کو اجازت نہ دی گئی تو بزرگ والد اور گھر کی خواتین نے شہید کا جنازہ اٹھایا۔ امام کا جنازہ اہلیہ، بہن ، بیٹی اور بزرگ والد کے کاندھوں پر رب کائنات کے حضور روانہ ہوا۔ اس وقت آپ کی صاحبزادی نے جو الفاظ ادا کئے وہ تاریخ نے دل نشین کر لئے۔

’’ بابا جان ! آپ کے جنازے کے ساتھ لوگوں کا ہجوم نہیں۔ زمین والوں کو روک دیا گیا مگر آسمان والوں کو کون روک سکتا ہے؟ آپ کے جنازے کے ساتھ شہداء کی روحوں کا قافلہ چلا آ رہا ہے۔ آپ اطمینان کے ساتھ اپنے رب کے پاس جائیں کہ آپ نے حق کا جو پیغام ہمیں دیا ہے وہ زندہ رہے گا جوجھنڈا ہمیں تھمایا تھا وہ سربلند رہے گا۔ ان شاء اللہ‘‘

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ’’ اخوان المسلمون ‘‘نے اگر اپنے کارکنوں کے لیے تربیت کی بھٹی گرم نہ رکھی ہوتی اور تزکیہ ِ نفس، اصلاحِ باطن، تعمیر اخلاق اور تشکیل کردار اور جہاد فی سبیل اللہ کی تربیت نہ کی ہوتی تو عزم وہمت اور عزیمت و صبر کی یہ داستان رقم نہ ہو پاتی۔ یہ تعلق باللہ اور توکل علی اللہ کی کیفیات ہی ہیں جو ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آنے دیتیں۔ زخم کھا کر گرتے ہیں اور گر کر اٹھتے ہیں۔ وحشی صفت آمریت کی کمان میں تیر ختم ہو جاتے ہیں مگر تیر کھانے والے سینے ختم نہیں ہوتے۔

تبھی کسی نے سچ ہی کہا کہ

’’ اخوان المسلمون کے منصب قیادت کے لیے گویا معیار ہی یہ ٹھہر گیا کہ کس نے سب سے زیادہ قید کاٹی اور مظالم برداشت کیے۔‘‘

 مصر کی آمریت کا نیا چہرہ عبد الفتاح السیسی پانچ سال پہلے تاریخ کے ا سٹیج پر فرعونی کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوا۔ خیر و شر کی کشمکش کی اس داستان میں نئے ا وراق کا اضافہ ہونے لگا۔ السیسی نے بربریت، خساست اور شقاوت میں ناصر کے ریکارڈ بھی توڑ دیے جس پر اس کی پیٹھ تھپتپھائی گئی۔ اس کے لئے دولت کی ریل پیل کی گئی۔ مصر کے لوگ خوش نصیب ہیں کہ انہیں اپنے ہاں اخوان المسلمون جیسی خالص اسلامی جماعت کے ظہور و عروج دور دیکھنا نصیب ہوا۔ صدہا سالوں سے اسلام کی جو روح مر گئی تھی، اخوان کے ہاتھوں زندہ ہوئی۔عرب میں اسلام کی ایک نئی روح پھونک دی گئی۔  وہی اسلام جس نے کبھی بدوی زندگی کی کایا پلٹی تھی۔

 اخوان المسلمون کے جیالے سرفروش تمام مشکلات و مصائب کا خندہ پیشانی سے استقبال کررہے ہیں۔’’التحریر اسکوائر‘‘ میں جب ظلم و ستم کی انتہا کی گئی تب بھی ان کے ہاتھ قرآن کریم لئے تھے ۔جب پھانسی گھاٹ پہنچے ،تب بھی قرآن کریم ساتھ تھا۔ ان کا تعلق اسلام سے کس قدر مضبوط ہے یہ ہر وہ قاری جانتا ہے جسے تھوڑی سی بھی اس معاملے میں کوئی دلچسپی ہو۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ایسے جیالے ہیں جو شہادت کا استقبال ہی نہیں بلکہ انتظار کرتے ہیں ان کے لئے یہ طوفان ستم کوئی نیا ہے ہی نہیں جو اب تک ان کے لئے جاری ہے۔ شام و مصر میں ایک نظر ان کی جوان مردی کو آج بھی دیکھئے اسی مقصد عظیمہ کے لئے سرتن کی بازی لگائے کھڑے ہیں جس کی آبیاری کے لئے اب تک چلے جارہے ہیں جس کے لئے اس کی بنیاد رکھی گئی تھی یقینا ایک نہ ایک دن دنیا ان کی قربانیوں کو دل سے قبول کرکے ان کی سراہنا کرے گئی بس ایک ذرا اور صبر…

یاد رکھئے کہ جب غم کی آندھیاں چاروں طرف چل رہی ہوںاور ڈر اور خوف کی کیفیت ہو۔ دل گھبرا رہے ہوں اور مشکلات و مصائب سے کسی صورت چھٹکارہ ممکن نہ ہو رہا ہو تو بس خود کو تھکانا چھوڑ دیجئے اور اپنے اور آپ کو اس ایک ’’ذات‘‘ کے حوالے کر دیں۔ بلاشبہ وہی ایک ذات بہت غیرت مند ہے۔ وہ خود پر بھروسہ کرنے والے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ امید دلاتا ہے، دلاسہ دیتا ہے، اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے، مشکل میں ڈالتا ہے لیکن مشکل سے نکالنے کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے۔ امتحان لیتا ہے تاکہ صابر بنو، آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ شاکر بنو،رلاتا ہے تاکہ صاف دل رہو، چپ بھی کرواتا ہے تاکہ یقین رکھو۔ جگہ جگہ ہر وقت اپنے ہونے کی اور اپنے ساتھ کی یقین دہانی کراتا رہتا ہے۔

بس یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وہ چنتا بس انہی کو ہے جن کو وہ خاص کرنا چاہتا ہے۔ پھر غم کس بات کا ۔ ہمارا فائدہ ہے ہمارے آنسو خاص ہو رہے ہیں۔ بہت خاص…

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor