Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تراہ نکل گیا (نشتر قلم۔زبیر طیب)

تراہ نکل گیا

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 685)

حال ہی میں حکومت پاکستان  نے ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کے تحت کچھ قابل ذکر کام کافی عجلت میں کئے ہیں۔ جیسا کہ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق خبر کچھ یوں ہے کہ

’’نیشنل ایکشن پلان کے تحت بڑی کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر سے 121 افراد کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ 182 مدارس، 34 سکول و کالجز کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ 5 ہسپتال، 163 ڈسپنسریز، 184 ایمبولینسز، 8 دفاتر بھی تحویل میں لے لیے گئے ۔دوسری طرف سندھ حکومت نے صوبے کے 56 مدارس، اسکول کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ وفاقی حکومت اور وزیر اعلی سندھ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ادارے محکمہ تعلیم، محکمہ صحت اور محکمہ اوقاف کے زیرانتظام چلائے جائیں گے۔ ‘‘ ( بی بی سی نیٹ نیوز )

حکومت نے مدارس اور دوسرے اداروں کو ابھی تین دن ہی اپنی تحویل میں رکھا تھا کہ ایک اور خبر بھی آ گئی اور حکومت کا تراہ ہی نکل گیا۔خبر ایکسپریس نیوز نے شائع کی۔ وہ کیا خبر تھی۔ لیجئے آپ بھی پڑھئیے:

’’وفاقی حکومت نے ملک میں مدارس کا کنٹرول تو سنبھال لیا تاہم یہاں پر حکومت کے لیے ایک مشکل کھڑی ہو گئی ہے کیونکہ محکمہ اوقاف پنجاب نے صوبہ بھر میں حکومتی تحویل میں لئے گئے  160 دینی مدارس کو چلانے کے لیے 82 کروڑ روپے مانگ لیے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تحویل میں لیے گئے مدارس میں سب سے زیادہ اخراجات پانچ اضلاع شیخوپورہ، لاہور،فیصل آباد، اوکاڑہ اور پاکپتن میں موجود دینی مدارس پر ہوتے ہیں۔ محکمہ اوقاف پنجاب نے اپنے زونل ایڈمنسٹر اور سرکل منیجرز کی وساطت سے 160 مدارس کا نظام سنبھال لیا ہے ،محکمے کے پاس مستقل بنیادوں پر ان کا نظام چلانے کے لیے مالی و انتظامی حوالوں سے استعداد نہیں۔ مدارس کا نظام جاری رکھنے کے لیے 81 کروڑ روپے کی ضرورت ہو گی۔یہ بوجھ مستقل بنیادوں پر مالی مشکلات سے دوچار حکومت پنجاب کو خود برداشت کرنا پڑے گا اور آنے والے دنوں میں رقم مزید بڑھے گی۔ ضلع منڈی بہاوالدین کے 11مدارس کو دو کروڑ 12 لاکھ روپے ، ضلع گجرات کے ایک مدرسہ کے لیے 79 لاکھ 31 ہزار 900 روپے ،سرگودھا کے لیے پانچ مدارس کے لیے ایک کروڑ 98 لاکھ سے زائد روپے ،ضلع میانوالی کے دو مدارس کے لیے 26 لاکھ 88 ہزار، خوشاب کے تین مدرسوں کے لیے 72 لاکھ 48 ہزار چاہئیے ۔بہاولنگر کے 16مدارس کے لیے 1 کروڑ 80 لاکھ 15 ہزار 996 روپے ، ضلع رحیم یار خا کے تین مدارس کے لیے 65 لاکھ 28 ہزار روپے درکار ہوں گے ۔ ضلع ڈیزہ غازی خان میں بھی دو ایسے مدارس ہیں جن کے لیے 34 لاکھ 62 ہزار روپے چاہئیے ۔ضلع لیہ کے لیے دس لاکھ، ضلع راجن پور کے مدرسہ کے لیے 20 لاکھ 46 ہزار روپے ۔ ضلع ملتان کے تین مدارس کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ 992 روپے چاہئیے ۔اسی طرح لیہ،لودھراں۔ضلع خانیوال مظفر گڑھ سمیت کئی شہروں میں مدارس چلانے کے لیے بھاری رقوم کی ضرورت ہے ۔ ‘‘ ( ایکسپریس نیوز)

آج پاکستان کے طول و عرض میں سرکاری تعلیمی اداروں کا تعداد کئی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن کوئی ایسا اسکول یا کالج یا یونیورسٹی ایسی نہیں ہے جو حکومت اپنے ذرائع و وسائل سے چلا رہی ہو۔ کہیں فیس معاف ہے تو داخلہ فیس معاف نہیں، کہیں ٹیوشن فیس معاف ہے تو کتابیں خود خریدنی ہوتی ہیں، الغرض فیس ہی فیس ہے۔ کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں جو بالکل فری چل رہا ہو اور کامیاب بھی ہو۔

اب دوسری طرف مدارس کی مثال لیں۔

یہاں کے ہر طالبعلم کو چاہے وہ غریب ہو یا امیر فیس معاف ہے۔ کسی بھی طالبعلم سے کسی بھی موقع پر کبھی فیس نہیں لی جاتی۔ بلکہ ان کو ہر ماہ مناسب وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔مالی سے لے کر تمام اساتذہ کی تنخواہیں اور ان کی رہائش کا تمام بندوبست بھی مدرسہ عوام کے تعاون سے پورے کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر تمام مصارف بجلی ، گیس اور پانی کے بل اور ملحقہ مساجد کا تمام انتظام مدارس بغیر کسی حکومت امداد کے خود بخود پورے کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تین وقت کا کھانا مدارس کے تمام طلباء اور اساتذہ کے لئے میسر ہوتا ہے۔اساتذہ اور طلباء میں سے کوئی بیمار ہو جائے تو اس کے آپریشن تک کے تمام اخراجات متعلقہ مدرسہ ہی دیتا ہے۔بسا اوقات موسم کے مطابق کپڑے جوتے اور بستر بھی طلباء کے لئے بالکل مفت مہیا کئے جاتے ہیں۔ پڑھنے کے لئے ہزاروں روپے کی کتابیں بالکل مفت دی جاتی ہیں۔ رہائش کے لئے کمرے اور چارپائیاں بھی مدرسہ خود طلباء کو مہیا کرتا ہے۔ ہردن اور پورا سال یہی روٹین رہتی ہے۔ان تمام کے اخراجات غیبی خزانے سے پورے ہوتے ہیں۔انسان سوچنے بیٹھے تو سر پکڑ کر بیٹھ جائے کہ آخر اس قدر اخراجات کیسے پورے کئے جا رہے ہیں۔

اب بتائیے کہ پورے پاکستان میں ان مدارس کے طرز کا کوئی ایک ادارہ ، کوئی ایک چھوٹا سا اسکول بھی ایسا ہے جہاں ایسی روٹین ہو اور ایسا انتظام ہو؟ حکومت نے بیرونی دباؤ پر مدارس کی باگ ڈور تو سنبھال لی مگر یہ بھول گئے کہ ان کے اخراجات  پورے کیسے ہوں گے؟ وہ حکومت جو اپنے سرکاری تعلیمی اداروں کی تنخواہیں اتنی بھاری فیسوں کی آمد کے باوجود وقت پر دینے سے قاصر ہے وہ کیسے ان مدارس کا نظام سنبھال پائے گی؟ایک سرکاری یونیورسٹی جس میں پانچ سے دس ہزار کے قریب طلباء زیر تعلیم ہوں اور آمدن بھی اربوں میں ہوں آپ اس کا حال جا کر دیکھ لیں۔ تعلیمی معیار سے لے کر ہوسٹل کے میس کا کھانا تک آپ کو سب عیاں کر دے گا۔ وہ مدارس جو وطن عزیز اور بیرون ملک کے ہزاروں طلباء کو مفت اور معیاری دینی تعلیم کا بندوبست کر رہے ہیں انہیں تحویل میں لینے کے بہانے بنا کر بند کر دینا ہزاروں معصوم طلباء کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں تو اور کیا ہے؟

آج کے دور میں دینی تعلیم کابیڑہ ان مدارس نے صرف اور صرف اللہ کے بھروسے قائم رکھا ہوا ہے خدارا ان کو مت بند کیجئے۔یا پھر اگر واقعی آپ کو مدارس کی ذمہ داری  لینے اور ان کا انتظام سنبھالنے کا شوق چڑھا ہوا ہے تو ملک بھر میں چند مدارس قائم کیجئے اور اپھر انہیں اسی طرزکی تعلیم ، تنظیم اور سہولیات دیجئے۔آپ کامیاب ہوتے ہیں تو پھر مزید مدارس کا سوچ لیجئے مگر خدارا کسی بھی اندھے اقدام سے نہ خود کو رسوا کیجئے اور نہ ہی دین کے نام لیواؤں کو دربدر کیجئے۔ ورنہ حکومت تو چند روزہ ہوتی ہے اور اس کی پالیسیاں بھی بدلتی رہتی ہیں ۔رہتا ہے توصرف نام  ’’اللہ‘‘ کا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor