Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مسلم امہ … حملے، شہادتیں، اور واقعات (نشتر قلم۔زبیر طیب)

مسلم امہ … حملے، شہادتیں، اور واقعات

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 687)

ابھی تو تقریباً دس دن پہلے نیوزی لینڈ کے مسجد ’’النور‘‘کا دلخراش واقعہ پیش آیا تھا جس میں پچاس نمازیوں کو سفاکانہ طور پر شہید کر دیا گیا تھا اس کا زخم ابھی مندمل بھی نہ ہوپایا تھا کہ اس جمعہ مبارک کو نماز جمعہ سے فراغت کے بعد دفعتاً جب واٹس ایپ کے پیغامات پر نظر پڑی تو تسلسل کے ساتھ تمام گروپس پر اس نمایاں بری خبر نے روح کوجھنجھوڑ کررکھ دیا کہ اس وقت عالم اسلام کے مرجع اور میرے استاد محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب پر بد بختوں نے قاتلانہ حملہ کردیا ہے جس کے نتیجہ میں آپ کے دوساتھی شہید ہوگئے مگراللہ سبحانہ نے آپ کی اورآپ کی اہلیہ اور دیگر قریبی اعزہ کی معجزاتی طورپرحفاظت فرماء ۔ فللہ الحمد ۔اللہ پاک آئندہ بھی حضرت مولانا کی بال بال حفاظت فرمائے اور مرحومین کے درجات کوبلندفرمائے نیز زخمیوں کوجلدازجلدشفائے کاملہ عاجلہ دائمہ مسرت فرمائے آمین۔

 یہ کوئی نئے واقعات نہیں اور نہ ہی یہ آخری واقعہ ہے بلکہ مسلم امہ پر پچھلے کئی برس سے اس طرح کے سانحات پے درپے کسی عفریت کی طرح درپیش آ رہے ہیں۔ ہر طرف مسلمانوں کا خون بکھرا پڑا ہے۔ لیکن کوئی سننے والا نہیں، کوئی ان دکھوں کا مداوا کرنے والا نہیں، کوئی ان مظلوموں کو پناہ دینے والا نہیں اور کوئی ایسا ملک نہیں جو ان مظلوم مسلمانوں کی شہادتوں پر جواب طلب کر سکے یا کم از کم شکایت درج کرا سکے۔

ہمارے وطن عزیز میں اب تک سینکڑوں علماء اور عام مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا۔ صرف علماء کی تعداد ہی ۳۰۰ سے زائد بنتی ہے جن میں حضرت شامزئی،حضرت مولانا مفتی عبدالمجید دین پوریؒ، ان کے نائب حضرت مولانا مفتی صالح محمد اکاڑویؒ،حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ، استاذ حضرت مولانا مفتی عبدالسمیعؒ  شہیدؒ، مولانا حق نوازؒ اور مولانا اعظم طارق شہیدؒ ،عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت شوریٰ کے رکن حضرت مولانا مفتی محمدجمیل خانؒ اور ان کے ساتھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ حضرت مولانا نذیر احمد تونسویؒ کو شہیدکیاگیا۔ اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوریؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ، حال ہی میں شہید کئے گئے مولانا سمیع الحق شہیدؒ اور اب حضرت شیخ الاسلام اور عالم اسلام کی غیر متنازعہ شخصیت شیخ تقی  عثمانی صاحب حفظہ اللہ پر حملہ۔

علماء پر یہ پے درپے وار آخر کس کا ایجنڈا ہیں؟ ملک دشمن عناصر اور اسلام دشمن قوتیں آخر کس کے ایما پر اس قدر گھناؤنے کام میں ملوث ہو رہی ہیں۔ یہ سب جاننا اور ان دشمن عناصر کا قلع قمع کرنا ریاست پاکستان کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ لیکن آج تک کسی عالم کی شہادت پر کوئی قاتل نہیں پکڑا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ بڑی بہادری سے دندناتے پھرتے ہیں اور علماء کرام کو شہید کرتے چلے جا رہے ہیں۔  ملک بھر بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی مسلم امہ کی قتل وغارت پر سارا عالم اسلام افسردہ اور غمگین ہے، مگر سنگ دل اور بے حس حکمران ٹَس سے مَس نہیں ہورہے۔ دن دَہاڑے قتل ہوتے ہیں، لوگ اغوا ہوتے ہیں، ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکمرانوں کو صرف اپنی جانیں اور مال عزیز ہیں، عوام کو وہ بھیڑ بکریاں خیال کرتے ہیں۔پاکستان میں حضرت شیخ الاسلام پر حملہ ہو یا نیوزی لینڈ پر سفاکانہ دہشت گردانہ حملہ۔ ہمارے حکمران طبقے کی پیشانی  پر ایک سلوٹ تک نہیں آئی۔

حضرت شیخ الاسلام اس وقت اسلام کی ایک نمایاں اور بہت بڑی شخصیت ہیں۔ حضرت شیخ  پر قاتلانہ حملے کی خبر  کو الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ ٹی وی چینلز کے تمام اہم ٹاک شوز میں اس پر گفتگو ہوئی، پاکستان کے صفِ اول کے کالم نگاروں نے اس پر کالم لکھے ہیں اور لکھے جارہے ہیں۔دینی مدارس اور مساجد میں باقاعدہ حضرت کی حفاظت کی لئے دعائیں کی گئی ہیں۔قاتلانہ حملے کے اگلے دن کے اخبارات میں سب اخبارات نے اپنے اپنے حساب سے یہ خبر لگائی۔حضرت کو ملک بھر کے طول و عرض سے سینکڑوں فون آئے اور بڑے بڑے حضرات آپ کی خیریت دریافت کرنے تشریف لائے۔

مسجد حرام کے امام وخطیب اور سعودی علماء کونسل کے ممبر الشیخ صالح بن حمید نے فون کیا اور شیخ الاسلام سے خیریت دریافت کرکے واقعہ کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا:

لم یکن الا معجزۃ من اللہ سبحانہ و تعالیٰ اظن ان اللہ عزوجل انزل ملائکتہ لتصرف وجوہ الرصاصات۔ (سبحان الملک القدوس العزیز الحکیم)

ترجمہ: بس یہ (میرا محفوظ رہنا) ایک معجزہ ہی تھا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے گولیوں کا رخ پھیرنے کیلئے فرشتے نازل فرمائے تھے۔

حملے کے بعد ان کا ایک عقیدت مند اسپین سے دیوانہ وار حاضر خدمت ہوا ۔ اس نے کہا کہ جیسے آپ پر حملے کی اطلاع ملی تو میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ جب ہوش آیا تو پتہ چلا کہ آپ بخیر وعافیت ہیں۔ مگر پھر بھی دل کو چین نہیں آیا تو سیدھا میڈرڈ ایئر پورٹ گیا۔ کراچی کی فلائٹ پکڑی اور دست بوسی کیلئے حاضر ہوا۔ تاکہ اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھ کر تسلی کرلوں۔اللہ اکبر کبیرا

 کیا دنیا کے کسی بادشاہ، لیڈر، سیاستدان کے ساتھ ایسی عقیدت کے ہزارویں حصے کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟

بقول جگر مراد آبادی:

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

واقعہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی مسجد النور کے نمازیوں پرحملہ ہو یا شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب پر یہ سب اسلام دشمن عناصر کی کارستانی ہے۔ بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کواب ہوش کاناخن لینے چاہیے۔اب وقت کا شدید تقاضہ ہے۔مبادا ایسا نہ ہوکہ ہم غفلت کی بنیادپر انتہائی گہری کھائیوں میں گرپڑیں اورملت ماتم وسینہ کوبی میں مشغول ہوجائے ۔اسی طرح حکمران طبقے سے بھی درخواست ہے کہ انسانوں کے خیرخواہ اورامن کے داعی نیز اسلامیان جہان کے عظیم المرتبت عالم وفقیہ شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ پر یہ تیسری مرتبہ ہونے والے حملہ کاجلدازجلد سراغ لگاکر بدبخت ظالم وقاتل کوگرفتارکیاجائے اوراسے عبرت ناک سزادی جائے نیز اس سلسلہ میں علماء وطلباء کے قاتلین پرویز مشرف اورنوازشریف سے بھی اس پس منظر میں تفتیش کی جائے کہ ان دونوں ننگ اسلام اورننگ وطن نے اس سے قبل مفتی صاحب پرہونے والے حملہ کی تفتیش کرواکر سفاک بدبخت قاتلوں کا سراغ کیوں نہیں لگایا ۔ افسوس صدافسوس کہ ملک عزیز میں علماء کبار کاقتل عام چلن اختیارکرگیا ہے اورآج تک سابقہ حکومتوں نے اس قتل وغارت گری کے سلسلے میں خاطرخواہ کوئی کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے پھریہ عظیم سانحہ ہوتے ہوتے بچ گیا ۔

میری آخری گزارش اپنے ان غیور علماء کرام سے ہے جو دن رات ایک کر کے حفاظتِ دینِ متین کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں کہ اپنی حفاظت کا بھی خودبند و بست فرمائیں، ایسا نہ ہو کہ ہمیں مزید کوئی اور روز بد دیکھنا پڑے ۔ آپ کے سینوں میں قرآن وسنت کی امانت ہے، خد اکے لئے اس کی حفاظت کریں اوریہ بات یاد رکھیں ابلیسی لشکر حاملین دین ِمصطفوی کو کچل دینا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرورو فتن سے محفوظ فرمائے اور استاذ محترم کی حفاظت میں جان دینے والوں کی مغفرت فرمائے۔ بلاشبہ وہ امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان فرما گئے ۔ امت مسلمہ ان کی اس قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ا ن شاء اللہ

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor