Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

چھٹیاں کیسے گزاریں؟ (نشتر قلم۔زبیر طیب)

چھٹیاں کیسے گزاریں؟

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 688)

وقت جس تیزی سے گزر رہا ہے اس کا اندازہ لگا پانا کس قدر مشکل ہے۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے جب ملک کے طول و عرض میں مدارس اسلامیہ کے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا چاہتا تھا اور اور آج !گویا پلک جھپکتے ہی وقت کا پنچھی ایک سال کے عرصے کو ایک جست میں ہی اُڑا کے لے گیا۔

 امتحانات شروع ہیں اور مدارس کی رونق’’ طلباء‘‘ اپنے گھروں کو روانہ ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ بلاشبہ مدارس کی رونق اور چہل پہل انہی طلباء ہی کی بدولت ہی تو ہے۔حضرت استاد جی مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہ العالی اپنے مخصوص انداز میں اکثر فرمایا کرتے :

’’ کہ ہمارا دل خوب اداس ہو جاتا ہے جب طلباء چھٹیوں پر گھر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے جامعہ کی گلیاں ویران ہو جاتی ہیں ۔ اور یہ ویرانی ہمارے دل پر بھی چھا جاتی ہے لیکن جیسے ہی شوال آتا ہے اور طلباء لوٹ آتے ہیں تو جامعہ کے درودیوار گویا بہار کی طرح کھل اٹھتے ہیں۔اور ہمارے دل کی ویرانی چھٹ جاتی ہے۔ ‘‘

وقت بہت قیمتی ہے۔کسی نے خوب کہا:

ان الزمن ہو المادۃ الخام لتحصیل العلم و الحسنات و استغلال المال

یعنی زمانہ اور وقت یہ خام مادے کی طرح  ہے جس طرح خام مادے سے اچھی اچھی چیزیں بنائی جاتی ہیں جب کہ اس کے پیچھے ڈھنگ سے محنت کی جائے، بالکل اس طرح وقت کو صحیح مصرف میں استعمال کرکے انسان علم بھی حاصل کرسکتا ہے، نیکیاں بھی کما سکتا ہے اور مال بھی بٹور سکتا ہے۔  اس لئے دین کے ایک طالبعلم کے لئے چھٹیاں محض چھٹییاںنہیں ہوتیں بلکہ ایک آزمائش ہوتی ہیں کہ وہ ان فراغت کے لمحات کو کیسے خرچ کریں؟

متقدمین کے عہد پر اگر ہم ایک نظر ڈالیں تو ہمیں بہت سی خوبیوں کے ساتھ ایک خوبی یہ بھی نظر آتی ہے، کہ جو طالب علم جس استاذ کی خدمت میں آکر علم حاصل کرنے لگا، برسہا برس گذرگئے لیکن اس نے اپنے وطن کا رُخ نہیں کیا، ہرفن میں اس نے پورا پورا عبور اور کمال حاصل کیا، اگر یہاں اس کی علمی تشنگی نہ بجھ سکی تو دوسرے شہر یا دوسرے ملک کے لیے رخت سفر باندھا اور جہاں باکمال استاذ ملا، اس سے اکتسابِ فیض شروع کردیا اورکم عمری میں ہی تجوید وقرات، تفسیر وحدیث، نحو وصرف، ادب وفقہ، منطق وفلسفہ، وغیرہ میں دسترس حاصل کرلی؛ حالانکہ وہ زمانہ ایسا تھا کہ جس میں آج کل کی طرح دارُالاقامہ کا نظم، مطبخ کی سہولت، روشنی، پانی اور پنکھے وغیرہ کا باقاعدہ بندوبست نہیں تھا، اپنے ہی پاس سے کھانے کا انتظام کرنا، اور اپنے طور سے ہی رہائش کی جگہ تلاش کرنا، اساتذہ صرف پڑھاتے تھے، اور اس پڑھانے کو ہی شاگرد اپنے اوپر اساتذہ کا بڑا احسان سمجھتے تھے، صاحبِ ہدایت النحو شیخ سراج الدین اودھیؒ کا مشہور واقعہ ہے کہ:

 جب ان کے مرشد خواجہ نظام الدین اولیاءؒ نے ان کو بنگال بھیجنا چاہا تو ان کے عالم نہ ہونے کی وجہ سے تذبذب ہوا، خواجہ صاحبؒ کا تذبذب دیکھ کر ایک مرید مولانا فخرالدین زرّاوی نے عرض کیا۔ درشش ماہ اور! دانشمند می کنم (میں چھ مہینے میںان کو عالم بنادوںگا)۔

چنانچہ چھ ماہ کی قلیل مدت میں ان کو بنیادی علوم صرف، نحو، منطق، فقہ وغیرہ سے ایساروشناس کرادیا کہ منتہی کتابیں حل کرنا، ان کے لیے آسان ہوگیا،اور اپنے زمانہ کے اتنے بڑے عالم بنے کہ ہدایت النحو جیسی بنیادی کتاب تصنیف کی، لیکن ان چھ مہینوں میں نہ وہ کسی شادی میں شریک ہوئے، نہ کسی عزیز کے انتقال میں چھٹی لی، نہ عقیقۂ ولیمہ کی تقریبات کو زینت بخشی، بس رات دن استاذ اور شاگرد دونوں کو پڑھنے پڑھانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا، ہمارے اس عہد میں مدارسِ اسلامیہ میں ساری سہولتیں ہونے کے باوجود صلاحیتیں کمزور رہ جانے کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب طلباء کا دوران سال محنت نہ کرنا اور بنیادی علم جیسے صرف و نحو وغیرہ میں توجہ نہ دینا ہے۔اس لئے ان چھٹیوں کا سب سے بڑا مصرف تو احقر کے نزدیک ان مضامین کو دل لگی سے دوبارہ پڑھنا یا دورہ کرنا جن میں وہ دوران  سال کمزور رہ گئے ہیں کرنا ہے۔اس کے لئے ملک بھر کے مدارسِ دینیہ میں منعقد ہونے والے مختلف الانواع علمی دوروں (مثلاً دورۂ صرف ونحو، دورۂ تفسیر، دورۂ منطق، دورۂ سراجی ومیراث، دورۂ لغۃ العربیہ، دورۂ رد فرق وادیان ِباطلہ، دورۂ رد قادیانیت، دورۂ فلکیات، دورۂ صحافت، دورۂ خطابت وغیرہ) میں سے اپنے اساتذہ سے مشورہ کر کے اپنے مناسبِ حال کسی دورے کا انتخاب کر کے اُس میں شرکت کرے۔ عام طور پر ان دوروں کے انعقاد کا دورانیہ تیس سے چالیس دن کا ہوتا ہے۔ اس مختصر سے عرصے میں ماہرِ فن اور سالہا سال سے تجربہ رکھنے والے علماء کرام اپنی خداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، اپنے تجربات کی روشنی میں متعلقہ دورے کی مبادیات سے لے کر پورے فن کا خلاصہ شرکائے دورہ کے سامنے رکھتے ہیں۔اس لئے ان دورات میں شرکت نہایت مفید ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ گھر جا کر اپنے معمولات کو بہتر سے بہتر بنانا کیونکہ آپ ایک جامعہ کے ترجمان بن کر اپنے گھریا اپنے علاقے میں جا رہے ہیں تو اس کے لئے اجمالی طور پر چند باتیں درج ذیل ہیں:

٭صبح سویرے نماز ِ فجر کے لیے از خود اُٹھنے کا اہتمام کرنا، پانچوں نمازیں، باجماعت، مسجد میں، تکبیرِاولیٰ کے ساتھ ، پہلی صف میں ادا کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنا۔

٭ نمازوں کے بعد ہونے والے دروس ِ قرآن و دروسِ حدیث میں شرکت کرنا اور اگر کہیں جاری نہ ہوں تو خود سے جاری کرنے کی کوشش کرنا۔

٭مسجد کے ائمہ، علاقے کے قدیم کبار علماء کرام کی ملاقات کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہونا، اگر وسعت ہو تو ان کی شان کے مطابق، وگرنہ اپنی حیثیت کے مطابق ، ان کے لیے کوئی معقول ہدیہ لے کر جانا، اُن سے مختلف امور میں مشاورت کرنا، اپنی تعلیمی کارگزاری ان کے سامنے بیان کرنا۔

٭اگر اپنے علاقے کی مساجد میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ ہوتا ہو تو اس کا انتظام کرنا۔اگر کہیں جمعہ پڑھانے کا موقع ملے تو خوب اچھی طرح تیاری کر کے پڑھانے کا اہتمام کرنا۔

٭اگر اپنی قرأت میں کمزوری ہو توکسی ماہر قاری صاحب سے بات کر کے اپنی تعطیلات کے اعتبار سے جامع ومانع ترتیب بنانا۔

٭کسی ماہر کاتب سے مسلسل اور خوب اہتمام سے مشق لے کر اپنا خط سنوارنا۔

٭گھر کے کام کاج میں گھر والوں کا ہاتھ بٹانا، سودا سلف لا کر دینا، گھر سے متعلق انتظامی امور میں بے جا دخل اندازی کی بجائے حسنِ تدبیر سے کام لیتے ہوئے اصلاحِ احوال کی کوشش کرنا، گھر میں مروج غیر شرعی امور (ٹی وی، وی سی آر، بے پردگی وغیرہ) میں بہت سوچ سمجھ کر ، احسن طریقے سے ، بتدریج تبدیلی لانے کی کوشش کرنا، اس تبدیلی کی ابتدا، انفرادی ترغیب کا راستہ اختیار کر کے ذہن سازی کے ساتھ آسان ہو جائے گی، لیکن یاد رکھیں ، اس تبدیلی کے لیے اہم ترین اقدام اس وقت ہی ممکن ہو سکے گا، جب آپ خود اپنی ذات کے اعتبار سے ان محارم سے اجتناب کرنے والے ہوں گے، وگرنہ ہر تدبیر رائیگاں جائے گی۔

٭روزانہ والدین کے لیے کچھ وقت فارغ کرکے خاص ان کے پاس بیٹھنا، ان کی سننا اور اپنی سنانا، ان کی جسمانی خدمت کرنا (یعنی: سر، پاوئں، کندھے دبانا) اُن کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا۔

٭تمام رشتے داروں کے پاس اُن کے مقام پر ملاقات کے لیے جانا، رشتہ داروں میں غیر محرم عورتوں سے بہر صورت شرعی پردہ کرنا۔

٭علاقے میں موجود اپنے قدیم وجدید اساتذہ کے پاس ملاقات کے لیے جانا، اگر ان کے پاس جانا ممکن نہ ہو تو کم ا ز کم ٹیلی فون پر تو ضرور رابطہ کرنا۔

٭ہر خاص وعام سے سلام میں پہل کرنا۔

٭غیر نصابی کتب بالخصوص اکابرین کی سوانح وغیرہ کا مطالعہ کرنا۔

٭یہ بات اچھی طرح سوچ لینی چاہیے اور ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ مدارس سے باہر کی دنیا کے افراد چاہے وہ کوئی ہو، آپ کی فنون نحویہ، صرفیہ، منطقیہ، یا فقہیہ میں مہارت سے متاثر نہیں ہو گا، بلکہ وہ آپ کے حسن اَخلاق، آپ کی حسن معاشرت، آپ کے اٹھنے بیٹھنے، آپ کے چلنے پھرنے ، آپ کی مسنون زندگی کو اختیار کرنے سے متاثر ہو گا، لہٰذا اپنی زندگی کے ان پہلوؤں سے ہر گز ہرگز غافل نہ ہوں ۔ ان امور پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کے اختیار کرنے کی کوشش کریں اور اللہ سے ان صفات کے حصول کی خوب دعا بھی کریں۔

اصل بات یہ ہے کہ اپنے وقت کو کارآمد بنائیں۔ چھٹیوں میں خود کو سنوارئیے نہ کہ خود کو ضائع کیجئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor