Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ماہ صیام اور 10بڑے چور (نشتر قلم۔زبیر طیب)

ماہ صیام اور 10بڑے چور

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 693)

اس بات میں کوئی شک نہیںکہ اللہ رب العزت اس ماہ مبارک میں باہر کے شیطانوں کو قید کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہِ مبارک میں گناہوں میں کمی واقع ہوتی ہے مگر جہاں اندر ( نفس) کا شیطان قوی ہو وہ اپنا کام جاری رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس ماہ میں طرح طرح کے گناہ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔سبب فقط یہ ہے کہ اندر کا شیطان کام کر رہا ہوتا ہے اور پھر نفسِ امارہ بھی کام دکھاتا ہے۔دیگر چیزیں حبِ دنیا، نفس کا مرید ہونا، جابر ہونا اندر کا شیطان ابھارتا ہے۔

یاد رہے…باہر کے دشمن (شیطان) سے اندر کا دشمن (شیطان) خطرناک ہے

جیسا کہ کسی بھی ملک میں ہونے والی خرابیاں یا جارحیت اگر چہ باہر کے دشمن کی وجہ سے ہیں لیکن اگر ملک کے اندر سے خیانت نہ ہو کبھی بڑی تباہی نہیں ہوتی، اندرونی خیانت کی مثالیں دنیا میں بہت ملیں گی۔جہاں اندرونی خانہ جنگی ہوئی وہاں تباہی ہی تباہی …باہر کے دشمن کا انسان پھر مقابلہ کر لیتا ہے مگر اندر کے دشمن کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات ناممکن ہو جاتا ہے…

اسی لئے اس ماہ مبارک میں باہر کے شیطان اگرچہ قید ہے مگر اندر کا شیطان ابھی بھی جن کے ہاں حاوی ہے کام دکھاتا ہے۔

لہذا ماہ رمضان ’’اندر کے شیطان‘‘ کو مارنے کا مہینہ ہے کیونکہ ان دنوں میں باہر کے شیطان کو قید کیا گیا ہے لہذا باہر سے خطرہ نہیں، اطمینان ہے۔ اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اندرونی شیطان کو مارنا ہوگا تاکہ اس ماہ کی برکات حاصل ہوں اور ہم محروم نہ رہ جائیں…

ہمارا نفس بہت نازک ہے۔ یہ سنبھل بھی جائے تو کچھ چور اس پر وار کرتے ہیں۔ شیطانی آلات اسے بہکانے کی مسلسل سعی کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ان چوروں سے حفاظت کیجئے ۔ ذیل میں دس ایسے چور درج ذیل ہیں جو اس ماہ مبارک میں ہمارے نفس پر مکمل چھانے کی فکر میں کوشاں رہتے ہیں اور ہمارا نفس ان کے چنگل میںپھنسنے کے لئے آمادہ رہتا ہے۔

(۱)ٹیلی ویژن : یہ انتہائی خطرناک چور ہے یہ آپ کا وقت چوری کرے گا اور آپ کو ماہ رمضان میں بے ہودہ ڈراموں اور رمضان ٹرانسمیشن جیسی لغویات میں لگائے رکھے گا اور عبادت سے محروم کرے گا۔ یہ چور ویسے تو سارا سال بندوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتا رہتا ہے مگر اس ماہ اس کے چیلے چماٹے بھی ہر طرف پھیل جاتے ہیں اور مختلف حیلے بہانوں جیسے انعام گھروں جیسے شو چلا کر رمضان کا تقدس پامال کر کے لوگوں کو لالچ سے بھر دیتے ہیں۔ اس لئے اس سے جتنا ہو سکتے دور ہو جائیں۔ بلکہ اس ماہ ٹی وی کا سامنے والا رخ کسی دیوار کی طرف کر دیں یعنی بالکل مکمل طور پر بند کر کے رکھ دیں۔آپ اس کی عجیب برکات دیکھیں گے۔

(۲)۔ بازار: یہ چور بڑا شاطر ہے یہ آپ سے وقت اور پیسہ دونوں لے اڑے گا یہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر بے مقصد بازاروں میں گھمائے گا۔ کبھی عید کی شاپنگ کے چکروں میں تو کبھی عید کے بعد آنے والی شادیوں کے چکر میں آپ کے روزے بھی تباہ کرے گا اور سکون بھی برباد کرے گا۔ بلکہ عبادات میں خلل بھی واقع ہو گا۔ بازار اس ماہ میں جانا ترک کر دیں خصوصاً اس معاملے میں عورتیں مکمل پرہیز کریں۔ اگر کچھ ضروری سامان منگوانا بھی ہو تو مرد حضرات کو کہہ کر منگوا لیں۔ خود بازار جانے سے مکمل پرہیز کریں۔

(۳)۔کچن :یہ چور خواتین کو ٹارگٹ کرتا ہے اور رمضان میں انہیں طرح طرح کے پکوانوں اور ریسپیز کے پیچھے لگا کر تلاوت قرآن اور ذکر اذکار سے محروم کرتا ہے۔ یاد رکھیں رمضان قرآن کا مہینہ ہے۔ خواتین کے لئے یہ بہترین موقع ہوتا ہے کہ وہ قرآن پاک کے کئی دور ختم کریں۔ سارا سال جو کوتاہی ان سے ہوتی رہتی ہے اس کا ازالہ اسی ماہ میں باآسانی کیا جا سکتا ہے۔یہ بھوک پیاس میں رہنے کا مہینہ ہے لیکن دیکھا جائے تو ہم گیارہ ماہ اس قدر نہیں کھاتے جس قدر اس ماہ کھا لیتے ہیں۔ اس لئے کہ ہم نے تگڑی سحری اور لمبی افطاری کو روزے کا اصل حاصل وصول قرار دے دیا ہے۔ یہ بظاہر اچھا کام لگتا ہے کہ ر وزہ داروں کے لئے کچن میں مسلسل مصروف عمل رہنا، سحری بنانا  مگر یہ آپ کو آدھی رات سے ہی سحری کی تیاری پر لگا کر آپ سے تہجد،نوافل اور دعا کے مواقع سب چھین لے گا۔ اسی طرح افطاری کے کچھ دیر پہلے کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے اس میں ہم دعا و استغفار کی بجائے دسترخوان سجانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ لہذا اس شاطر اور چالاک چور سے بھی خود کی حفاظت کیجئے۔

(۴)موبائل اور کمپیوٹر : یہ آج کل کا سب سے خوفناک چور ہے جو رمضان المبارک میں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ موبائل فون کمپنیاں جو سارا سال عوام کو جی بھر کر لوٹتی ہیں اس ماہ میں اپنے پیکجز سستے کر کے عوام کو ساری رات فون اور میسج پر گپ شپ کرنے کے سو بہانے دیتی ہیں جس سے ہمارا نفس اس جال میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جس قدر رمضان المبارک کی برکات ختم ہوتی ہیں کسی اور چیز سے نہیں ہوتی ۔ اسی لئے کوشش کیجئے کہ اس ماہ موبائل کا استعمال کم سے کم کر دیں۔ صرف اشد ضرورت کے تحت اسے استعمال کریں۔ اسی طرح لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر ۔ اس ماہ مبارک میں چونکہ دفاتر کے چھٹی جلدی ہوتی ہے اور پھر سحری تک جاگنے کا بھی زیادہ تر لوگوں کا معمول ہوتا ہے تو کمپیوٹر گیمز اور فلمیں دیکھ کر رمضان المبارک کا نہ صرف تقدس پامال کیا جاتا ہے بلکہ خود کو گناہوں کی دلدل میں پھنسانے کے مترادف ہے۔ اس لئے اس چور کو بھی اس ماہ کے لئے خدا حافظ کہہ دیں۔

(۵)فیس بک: یہ چور بڑا پروفیشنل ہے یہ ہر دم آپ کے ساتھ ہوتا ہے،یہ آپ سے نہ صرف آپ کا وقت چھین لے گا بلکہ آپ کو غیبت،دشنام،گالم گلوچ کا مرتکب کرکے چھوڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو فضول قسم کی بحث و مباحثہ ، تصویریں اور مختلف ویڈیوز اور طرح طرح کی خرافات میں سارا دن مشغول رکھے گا۔ اس لئے سوشل میڈیا سے جس قدر ہو سکتے دور ہو جائیں۔ کوئی قیامت نہیں برپا ہو جائے گی اور نہ ہی کوئی آپ کی یاد میں گھل جائے گا کہ فلاں شخص سوشل میڈیا پر کیوں وارد نہیں ہو رہا۔ کچھ لوگ دلیل یہ دیتے ہیں اس ماہ میں ہم فیس بک پر صرف اور صرف اچھی باتیں ، احادیث وغیرہ شیئر کرتے ہیں اور کچھ نہیں۔ لیکن یہ بات بھی سوائے دھوکہ کے اور کچھ نہیں ۔ کیونکہ آپ جو شیئر کریں گے اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی شیئر کردہ چیزیں بھی تو دیکھیں گے۔ لہذا ایک فضول کام میں وقت کا ضیاع ہو گا اور کچھ نہیں۔

(۶) لڈو گیم:یہ چور رمضان کے مہینے میں زیادہ تر دیہی علاقوں میں پایا جاتا ہے (اور اب کس قدر شہروں میں بھی در آیا ہے) جہاں عموماً نوجوان فارغ ہوتے ہیں یہ انہیں رمضان میں لڈو گیم میں الجھاتا ہے،وقت کے ضیاع کے ساتھ یہ باہم جھگڑا بھی کراتا ہے۔ نوجوان اور یہاں تک کے بابے بھی رات گئے تھڑوں ، ہوٹلوں اور دوکانوں میں بیٹھ کر لڈو سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس ماہ یہ لہولعب جیسی چیزوں سے کوسوں دور ہو جانا چاہیے۔

(۷)سستی اور کاہلی: یہ چور بھی بڑا شاطر ہے۔چونکہ روزہ سے جسم میں بظاہر نقاہت پیدا ہو جاتی ہے لہذا اندر کا نفس سستی پر جلدی آمادہ ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں بہت سی عبادات صرف اور سستی اور کاہلی کے سبب رہ جاتی ہیں۔اس ماہ میں لوگ کس قدر فرض نماز کا اہتمام تو کرتے ہیں مگر تراویح میں بڑی سستی برتتے ہیں۔ حالانکہ ماہ رمضان میں کم از کم ایک قرآن مجید تو مکمل سننا خود پر لازم کر لینا چاہیے۔ لہذا اس ماہ ساری سستی اور کاہلی کو دور پرے پھینک کر ہر دم چست چالاک رہیں اور عبادات میں پھرتی اور چستی کے ساتھ شریک ہوں۔

(۸)نیند:

 یہ چور ظاہری طور پر دیکھنے میں ضرر رساں نہیں ہے مگر یہ بہت چالاک ہے یہ آپ کو ماہ رمضان میں دھپکی دے کر دن کا اکثر حصہ سلائے گا اور آپ عبادتوں اور سعادتوں سے محروم ہوں گے۔ آج کل گرمی ہے اور روزہ لگنے کا اندیشہ رہتا ہے لہذا یہ چور نفس کو بار بار نیند کی تھپکی دیتا ہے کہ جتنا سوئے گا اتنا ہی وقت جلدی گزرے گا اور روزہ محسوس بھی نہ ہو گا۔ یہ بظاہر بے ضرر چور آپ سے آپ کا وقت اور یہاں تک فرض نمازیں تک بھی چھین لے جائے اور آپ کو اس کا احساس نہیں ہو گا۔ بس ضرورت کی نیند لیجئے اور قیام اللیل کیجئے۔ نیند ضرورت سے زائد ہرگز ہرگز مت کیجئے۔ یہ سونے کا نہیں بلکہ نیکیوں کے سیزن کو کمانے کا مہینہ ہے۔ آپ سوئے رہے تو آپ کی دنیا و آخرت بھی اجڑ جائے گی۔

(۹) گرمی :

 یہ چور بظاہر آج کل بہت سرگرم ہے۔ گرمی کی اف اف زبان زد عام ہے۔ یہ چور آپ سے نہ صرف روزہ چھڑوا دینے کی اہلیت رکھتا ہے بلکہ آپ اگر روزہ رکھ بھی لیں تو یہ اُف اُف کی رٹ لگوا کر آپ کے اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔ اس لئے اس ماہ میں گرمی گرمی نہ کریں۔ بلکہ سوچیں کہ جس قدر مشکل ،پریشانی اور تکلیف کے ساتھ ہم روزہ رکھیں گے اجر بھی اسی قدر بڑھ کر ملے گا۔

(۱۰) بخل ، کنجوسی :

رمضان المبارک چونکہ انفاق فی سبیل اللہ کا سب سے سنہری موقع ہوتا ہے مگر یہ چور ہمیں اس ماہ بھی خرچ کر کے کمانے کا موقع گنوا دیتا ہے۔ اس ماہ میں خرچ کرنے کا ثواب بے بہا ہے مگر یہ چور ہمیں یہ کہہ کر تھپکی دیتا ہے کہ زکوۃ دے دی تو عید کا خرچ کیسے نکلے گا، بچوں کے نئے کپڑے کیسے آئیں گے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ سب سوائے دھوکے کے اور کچھ نہیں۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے انسان کا رزق مزید بڑھ جاتا ہے کم ہرگز نہیں ہوتا بس ہمیں اس کا شعور نہیں۔ لہذا رمضان کے اس مقدس ماہ میں کھل کر انفاق فی سبیل اللہ کریں۔ اور اس چور کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔

یہ چند چور جو کہ اشتہاری ہیں ان کے چنگل میں ہرگز نہ پھنسیں ۔ بلکہ جہاں یہ نظر آئیں ان کو پکڑ کر حوالات میں بند کر دیں اور خود کو ان سے محفوظ کر لیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor