Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ذکرِ شریف نجومِ ہدایت اور دس بڑے ستاروں کا (دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم)

ذکرِ شریف نجومِ ہدایت اور دس بڑے ستاروں کا

دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم (شمارہ 684)

ما قصۂ سکندر ودارا نخواندہ ایم

از ما بہ جز حکایتے مہر و وفا مپُرس

آواز آئی ’’اچھے سنگ ترے‘‘ اللہ کے ولی پر حال طاری ہوگیا۔ عقیدت مندوں نے عرض کیا، حضرت وہ تو ریڑھی والا سنگترے بیچ رہا ہے۔ فرمایا: اللہ کے بندو! تم نے غور ہی نہیںکیا۔ وہ صاف صاف کہہ رہا ہے ’’ اچھے سنگ ترے‘‘ جن لوگوںکو اچھوں کا سنگ نصیب ہو گیا، وہ تر گئے۔ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا، وہ فرمان الٰہی کا ترجمہ کر رہا ہے ’’والذین معہ‘‘ اے دیکھنے والے! ارے سننے والے بصیرت کی آنکھوں سے دیکھ دل کے کانوںسے سُن! اچھوں کے سنگ لگ جانیوالے یقیناً کامیاب وکامران ہیں اور وہ محبوب رسول علیہ السلام کہ ان کے ہاتھوں میں سنگ بھی آئے تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ پکار اُٹھے۔ بھلا صدیقؓ وفاروقؓ اور دوسرے عشرۂ مبشرہ ، جنت کے  بشارت یافتہ عظیم لوگوں کا کیا کہنا اور ہاں ایک لاکھ چوبیس ہزار خوش نصیب سارے ہی ایسے تھے۔

ستارے اپنے وقت موعود ومعہود پر طلوع کرتے ہیں۔ سورج صبح کے وقت، چاند رات کے وقت اور دوسرے ان گنت ستارے اپنے معین اوقات پر طلوع کرتے ہیں اور سبحان اللہ چاند تو ایسا ہے کہ سورج کی موجودگی میں بھی بسا اوقات نظر آرہا ہوتا ہے اور سورج کی صحبت سے اتنا فیض یافتہ ہے کہ بعض دفعہ بدرِ کامل پر شمسِ بازغہ کا گمان ہوتا ہے۔

خیر… سینکڑوں ایسے ستارے بھی ہیں جن کا کسی کو نام معلوم نہیں، نہ وہ نظر آتے ہیں اور حق یہ ہے کہ اس کا سبب دیکھنے والوں کی کم نظری ہے ورنہ:

تو ہی نہیں ہے واقف نواہائے ساز کا

یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے راز کا

اعلیٰ ترین نسب کو اعلیٰ ترین نسبت مل جائے تو پھر اُن کی معراج کے کیا کہنے، بنی عدی (قریش) کے عمر فاروقؓ کا محل جنت میں خود نبیﷺدیکھ آئے۔ ام المؤمنینؓ نے پوچھا: یارسول اللہﷺآج رات خوب ستارے نظر آرہے ہیں، اتنی نیکیاں کس کی ہوں گی، فرمایا: ابن خطاب کی۔ حبیبۂ حبیبِ ربّ غمگین نظر آئیں۔ پوچھنے پر عرض کیا، یا رسول اللہ اگر یہ درجے ابن خطابؓ کے ہیں تو میرے ابو؟ فرمایا: عائشہ! عمر کی ساری عمر کی نیکیاں تیرے باپ کی تین راتوں میں سے ایک کے برابر نہیںہوسکتیں جو انہوں نے میرے ساتھ غار میں گزاریں۔

ہاں! تو اعلیٰ ترین نسب، قریش بنی کنانہ، نسبی لحاظ سے بلند ترین مقام پر ہیں کہ اسی خاندان کی آخری چوٹی محمد بن عبداللہ رسول اللہ خاتم المعصومینﷺ ہیں۔

قریش کے بنی تیم میں سے دو کو چن لیا، اول المسلمین سید الصحابہ خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکر الصدیقؓ اور دوسرے زندہ شہید سیدنا طلحہ الخیرؓ۔ بنی عدی قریش میں سے عمر بن خطابؓ اور سعید بن زیدؓ کو چن لیا۔ بنی عبد مناف(ساداتِ قریش) میں سے دو کو چن لیا، ابنِ عفان (ذی النورین) عثمان غنیؓ اور دوسرے ابن ابی طالب علی شیر جلیؓ کو عظمت بخشی۔ نبی مکرمﷺ کے ننہیال بنی زہرہ (قریش) میں سے دو کو چن لیا، سعد بن ابی وقاصؓ اور عبدالرحمن بن عوفؓ کو عشرہ مبشرہ میں داخل فرما کر عظمت بخشی۔ عمۃ الرسول سیدہ صفیہؓ بنت عبدالمطلب کے بیٹے بنی اسد (قریش) کے زبیرؓ بن عوام کو حواریٔ رسول قرار دے کر عظمت بخشی اور ہاںیہ نو خوش نصیب تو سرور دو عالمﷺ کے قریب ترین خاندانوں میں سے ہیں مگر دس کا عدد پورا کرنا تھا تو خاندان قریش کے بانیٔ اول جناب فہد القریش کے بیٹے حارث کی اولاد میں سے نبی کی محبت پر اپنے ماں باپ (یعنی دونوں جہانوںکی محبت) کو قربان کر دینے والے غازیٔ بدر اَتْقیٰ اَسْخیٰ امین الامت حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے سر پر عشرہ مبشرہ کا آخری تاج رکھ دیا گیا۔

یہ دس سعید ہستیاں ہیں جن کو علی الاعلان نبی دو جہاں علیہ السلام نے اسی زندگی میں مرکز و مہبط رضائے الٰہی اور رضائے مصطفیٰ جنت کا سرٹیفکیٹ دے دیا۔ اب اگر کسی کو جنت کی راہ ڈھونڈنی ہے تو ان دس روشن ستاروںکی راہ چلے۔ انہی دس کی رضا ان کے آقا ومولیٰ کی رضا ہے۔

نظامِ شمسی میں کبھی سات سیارے شمار ہوتے تھے مگر اب علمائے فلک دس کہہ رہے ہیںاور یہ جو لاکھوں ستارے علمائے فلک کی علمی دسترس سے باہر ہیں یہ سب بھی تو درست راہوں پر ہی چل رہے ہیں۔ اگر کوئی ایک بھی بے راہ روی کرے تو نظام ارض وسماء درہم برہم ہوجائے۔

اللہ کے بندو! شمعِ نبوت کے پروانے سب ہمارے محبوب ہیں۔ سب شمعِ رسالت کے پروانے ہیں لیکن ’’لا تشعرون‘‘ اللہ کے بندو! تم ان کا مقام ومرتبہ نہیں سمجھ سکتے۔ وہ تو بعض پروانے خود بہت دور تھے مقربین اولین کو نہیں سمجھتے تھے تو دور ہی رہے مگر جب نگاہِ حقیقت نصیب ہوئی تو شمع کے پروانوں ہی پر دیوانہ وار جانیں نچھاور کرنے لگے۔ سابقون الاولون کی راہ اپنانے لگے۔

اللہ خالقِ کل نے اعلان کر دیاتھا۔ لوگو! تم سب کو ہم نے ایک مرد عورت سے پیدا کیا۔ بڑا تو وہ ہے جو اَتْقیٰ (اللہ کا فرمانبردار، نبی کا اطاعت گزار) ہے۔ ہاں تو بعض کم ظرف کم نظر لوگوں کے طعن کو دور کرنے کیلیے نبی اور اکثر اصحابِ نبی کو بلند نسب بنا دینے کے بعد یہ بھی بتا دیا کہ اللہ اور رسول کے ہاں آل یاسر، سمیہ، زنیرہ، ابن فہیرہ، بلال حبشی، خباب بن ارت، سلمان فارسی، صہیب رومی رضی اللہ عنہم اور دوسرے کمزور لوگ خاندان میں کم تر اور ذات میں غلام اور باندیاں بھی اللہ کے ہاں بلند ترین مقام لے سکتے ہیں اور اگر اچھوں کا سنگ نصیب نہ ہو، نصیب اچھا نہ ہو تو نبی دو جہاںﷺ اور علی مرتضیٰؓ کی دادی اماں کا قریبی عزیز، مؤمنوں کی ماں ام سلمہؓ کا چچیرا بھائی فرعونِ امت، ابو جہل لقب پاکر اور خود میلادِ مصطفیٰﷺ پر خوشیاں منانے والا عم محترم ایمان کی دولت لینے سے انکار کر کے سردارِ مکہ سردارِ آل ہاشم ابو لہب عمّ مجرم بن کر ابدی ’’ ناراً ذاتَ لہب‘‘ کا نشان عبرت پاگیا۔ مظلومِ طائف، داعیٔ اعظمﷺکی خدمت میں اپنے باغ سے انگوروں کا ہدیہ پیش کرنے والے سابقون الاولون میں سے سیدنا ابو حذیفہ کے باپ اور چچا ساداتِ بنی عبد مناف، سردارانِ قریش عتبہ اور شیبہ، نبی اور یاران نبی علیہ وعلیہم السلام کے مقابل ہاتھ اٹھانے پر بدر کے اولین مقتولین کفار شمار ہوئے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor