Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

چند گھڑیاں اپنی مقدس ومطہر ماؤں کے قدموں میں (دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم)

چند گھڑیاں اپنی مقدس ومطہر ماؤں کے قدموں میں

دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم (شمارہ 687)

قرآن مجید میں نبی علیہ السلام کی بیویوں کو ’’اَزْوَاجُہُ‘‘ فرمایا۔ اَزواج، زوج کی جمع ہے۔ زوج عربی زبان میں ہر لحاظ سے متشابہ اور متساوی یعنی ایک جیسی اَشیاء پر بولا جاتا ہے۔ اللہ پاک نے اپنے پاک کلام میں اَزواج النبی کا دو لفظی مرکب اِستعمال فرمایا ہے۔ امرأۃ کا لفظ بھی بیوی کے لیے آیا ہے لیکن اس میں وہ تقدس اور اِتصال یعنی ایک جیسا ہونا نہیں پایا جاتا۔ زوج عزت کا لفظ ہے، جو ابو لہب اور اس کی بیوی کو نہ مل سکتا تھا، لہذا وہاں ’’امرأتہ‘‘ کی ترکیب آئی۔ نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیویوں کو بھی لفظِ زوج سے محروم کر دیا گیا۔ وہ اس لفظ کی مستحق نہ تھیں۔ سیدہ آسیہ فرعون کی بیوی ہیں مگر وہ فرعون کے متشاکل اور متساوی نہیں۔ فرعون کافر اور سیدہ آسیہ صاحبِ ایمان خاتون ہیں لہذا ان کو زوجِ فرعون کی بجائے ’’امرأۃ فرعون‘‘ کہہ دیا گیا۔ البتہ حضرت زکریا علیہ السلم کی بیوی کا عورت پن ظاہر کرنے میں حکمت تھی تو وہاں ان کا قول ’’وامرأتی عاقر‘‘ نقل فرمایا لیکن جب دوسری جگہ ان کا متساوی اور متشاکل ہونا ظاہرکرنا مقصود تھا تو خالق ومالک نے لفظ ’’زوجہ‘‘ استعمال فرمایا ’’ وَ اَصْلَحْنَا لَہُ زَوْجَہُ‘‘ اسی طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی گھر والی سیدہ سارہ کو بیٹے کی خوشخبری دینی تھی تو وہاں بھی ’’وامرأتہ قائمۃ‘‘ فرمایا۔ اس لیے کہ ولادت کا تعلق عورت ذات ہی سے ہوتا ہے لہذا بلاغت کا نقطہ تھا کہ یہاں لفظ ’’امرأۃ‘‘ لایا جائے، کیونکہ کلمہ ’’زوج‘‘ کا اطلاق مرد وعورت ہر دو پر ہوتا ہے۔ پھر سیدنا ابراہیم کی بیوی کے لیے ’’اھل البیت‘‘ کا محترم کلمہ لایا گیا۔ خاتم المعصومینﷺکے لیے قرآن وحدیث میں کہیں بھی زوج کی جگہ امرأتہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ سورۃ اَحزاب میں پانچ بار اور سورہ تحریم میں دو بار ’’اَزواج النبی‘‘ فرمایا گیا۔ البتہ جب دنیا کی تمام عورتوں سے تقابل کی ضرورت ہوئی تو ’’ یا نساء النبی‘‘ اور ’’لستن کاحد من النساء‘‘ فرما کر جنسِ اُنثیٰ اور عورت ذات کی نفی فرما دی۔ یہاں عورتوں کا تقابل عورتوں سے تھا، یہاں ذاتِ نبوی شریف کا ذکر موجود نہیں تھا۔ البتہ امتیاز کے لیے ’’ نساء النبی‘‘ فرما کر ان ممتاز خواتین کا تعلق نبی سے بتا دیا گیا اور یہ کہ ظاہراً تو یہ بھی عورتیں ہیں مگر عام عورتیں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ اَزواج النبی کی شان ممتاز ہے۔ اِرشادِ الٰہی ’’اِنَّا اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ‘‘ کہ ان ازواج کا، آپ کی ازواج ہونا رب کریم کی منظوری سے ہے، جو ایک بڑی فضیلت ہے۔ ’’تَبْتَغِیْ مَرْضَاۃَ اَزْوَاجِکَ‘‘ میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ آپ ان کی رضا کیوں چاہتے ہیں۔ ہاں آپ ان کی پسند کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ جب تک کسی حلال کو حرام کرنے کی نوبت نہ آئے۔ مرضاۃِ ازواج کی اجازت ہے مگر تحریمِ حلال اور تحلیلِ حرام کی اجازت قطعاً نہیں۔ آج بھی جو شوہر، نبی پاک علیہ السلام کے اسی أسوہ پر چلے گا اس کا گھر محبت ومودت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

’’ اللہ کی نشانیاں یہ ہیں کہ اللہ نے تمہاری جانوں میں سے ہی تمہاری اَزواج بنائی ہیں۔ تاکہ تم ان کے ذریعے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور مہربانی پیدا کر دی‘‘

یہاں مرد وعورت دونوں سے خطاب مقصود ہے لہذا قطع نظر صیغہ جمع مذکر کے، کلمہ ’’ازواج‘‘ استعمال فرمایا کہ مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد بدرجہ زوج کے ہے۔ یہاں اَزواج کو سکون کا ذریعہ فرمایا اور نبی کی بیویوں کو ’’ازواج‘‘ فرمایا گویا نبی اور اَزواج نبی اس آیت کا مظہرِ اَتم ہیں۔  نبی پاک علیہ السلام نے کسی ایک بیوی کو بھی الگ نہیں کیا اور آسمانی حکم بھی آگیا کہ ’’لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِنْ بَعْدُ وَ لَا اَنْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ‘‘ اب نہ مزید بیویاں لانے کی اجازت، نہ پہلی ازواج چھوڑنے کی اجازت۔ ازواج النبی اپنے امتحان میں پاس ہو گئیں کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور دارِ آخرت ہی کی طالب ہیں تو اب علام الغیوب نے اپنے نبی سے کسی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار ہی واپس لے لیا۔ اَزواج النبی کا نبی کریمﷺ سے تشاکل وتشابہ یعنی ایک جیسا ہونا اور عقائد وکیفیاتِ قلبی اور قبولیتِ ربانی ظاہر ہو گئی اور یہ کہ اور کوئی عورت ایسی ہے ہی نہیں جس سے نبی نکاح کرے ’’لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النَّسَائِ‘‘ اب یہ ازواج چونکہ صرف نبی مکرمﷺکی متشابہ و متشاکل ہیں اور کسی کی متشابہ ومتشاکل اور متساوی نہیں یعنی تمام صفات عالیہ میں نبی علیہ السلام جیسی ہیں، کسی اور فرد بشر جیسی نہیں نہ کوئی مرد وعورت ان جیسی صفات کا ہے تو  نبی کے بعد کسی کو ان سے نکاح کرنا ناروا، حرام اور اذیتِ نبوی کا باعث ہے۔

بیت اور دار کا فرق بھی سمجھ لیجیے ’’بَاتَ یَبِیْتُ‘‘ جہاں آدمی رات گزارتا ہے اور رات کی ہم نشین کہلانے کا حق صرف اور صرف بیوی کو ہے۔ اسی لیے ہر زبان میں بیوی کو خاوند کا اور خاوند کو بیوی کا اہل بیت کہا جاتا ہے لیکن احتراماً ہر بولی میں بیوی کو بھی صیغہ مذکر سے گھر والے کہدیا جاتا ہے عربی میں بھی ’’اھل‘‘ کو مذکر قرار دیا گیا ہے فرمایا ’’رَحْمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ‘‘ سیدہ سارۃ زوجہ ابراہیم کو اہل بیت فرمایا اور ازواجِ خاتم المعصومین علیہ السلام کو ’’اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا‘‘ فرما کر جملہ صیغے زوجۂ ابراہیم اور ازواجِ محمد علیہ السلام کے لیے مذکر استعمال فرمائے اور یہ جو عرض کیا کہ بیت اس گھر کو کہتے ہیں جہاں آدمی اپنی بیوی (اور ضمناً بچوں) کے ساتھ رات گزارتا ہے۔ قرآن وحدیث میں کسی جگہ ’’اھل الدار‘‘ کہہ کر بیوی مراد نہیں لیا گیا۔ ’’دار‘‘ کا لفظ اس گھر کی حویلی یا بیٹھک کو بولتے ہیں جہاں آدمی معاملات ومعاشرت کے مسائل چکاتا اور دوست احباب کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاتا ہے ’’مَنْ دَخَلَ دَارَ اَبِیْ سُفْیَانَ فَھُوَ اٰمِنٌ‘‘ جو دار ابی سفیان میں داخل ہو جائے گا وہ امن میں ہوگا۔ قبل از اسلام جناب ابو سفیان بن حرب قائد قریش تھے ان کا عہدہ مکہ اور قریش مکہ کے لیے وزیر داخلہ وخارجہ اور وزیر جنگ کا تھا۔ اس لیے ان کے گھر (بیت) کا ایک بڑا حصہ میٹنگ ہال کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور یہاں باہمی مشاورت یا اپنے مسائل کے حل کے لیے لوگ آتے جاتے تھے۔ یہی لفظ دار مجاہدینِ اسلام کی فتوحات کے بعد سندھ، بلوچستان، پنجاب میں ان کے آنے کے بعد دارا، دُویرہ، ڈیرہ اور ڈیرو کہلایا۔ پہلے دو لفظ خالص عربی کے ہیں یعنی دارا اور اس کا تصغیر دُویرہ (دار مؤنث کا کلمہ ہے) اگلے تین لفظ مقامی بولیوں کی مختلف شکلوں میں بولے جاتے ہیں۔ عربی لغت میں بیت مذکر اور دار مؤنث رکھا گیا، اس پر بحث کسی اور موقع کے لیے چھوڑتے ہیں۔

ہم یہاں صرف یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ بیت اور اھل بیت اندرون خانہ، شب بسری کی جگہ، بیوی اور ضمناً اس کے بچوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جبکہ بچوں کے بغیر بیوی اہل بیت کا وجود ہو سکتا ہے۔ بیوی کے بغیر بچوں کا تصور ناممکن ہے۔ اگر حسنین شریفین سیدہ فاطمہ اور سیدنا علی والی روایت کی تمام جرح کو نظر انداز کر کے ’’اھل البیت‘‘ میں شمار کر لیا جائے اور ’’اَللّٰہُمَّ ھٰوُلاَئِ اَھْلُ بَیْتِی فَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیْرًا‘‘ (یا اللہ! یہ چاروں تن میرے اہل بیت ہیں انہیں طاہر فرما دیجیے) تو اس دعائے نبوی ہی سے ظاہر ہے کہ اس دعا کی ضرورت ہی تب پڑی کہ یہ ضمنی اہل بیت ہیں، اصل اہلِ بیت تو ازواجِ مطہرات ہیں اور علمائے اسلام نے اسی آیت کے تحت ہی ازواج النبی کو ’’ازواج مطہرات‘‘ کے مقدس لفظ سے پکارا اور لکھا ہے۔ قرآن مجید میں ازواج مطہرات کے گھروں کو دو جگہ ’’بیوتکن‘‘ تمہارے گھر فرمایا دوسری جگہ انہی گھروں کو نبی کے گھر ’’بیوت النبی‘‘ فرمایا ہے۔

نبی اور ازواج نبی کو ممتاز کرنے کے لیے ایک ہی آیت میں تشخیص فرما دی کہ ’’اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ‘‘ اور ساتھ ہی فرمایا ’’وَ اَزْوَاجُہُ اُمَّہَاتُہُمْ‘‘ یہاں پہلے لفظ ’’المؤمنین‘‘ لائے پھر ’’انفسہم‘‘ میں ضمیر جمع غائب اور پھر ’’امہاتہم‘‘ میں بھی ضمیر جمع غائب۔

ایمانی بی پی آپریٹس لگا کر ایمان چیک کرنا ہو تو جیسے بلڈ پریشر میں ایک نمبر اوپر کا ہوتا ہے دوسرا نیچے کا۔ اگر دونوں میں سے ایک غائب ہو جائے یا بہت کم ہو جائے یا دونوں میں فرق بہت زیادہ ہوجائے تو آدمی اس جان وجہان سے گزر جائے۔ اوپر کا نمبر ذرا زیادہ اور نیچے کا کچھ کم ہوتا ہے۔

نبی تو اولیٰ ہیں اور ازواجہ کا درجہ کچھ کم ، تاہم غیر نبی ہونے کے باوجود وہ بنی کی متماثل یعنی اخلاق و صفات عالیہ میں ایک جیسی ہیں۔ اب اگر حبّ نبی موجود ہے، تعظیمِ اہلِ خانۂ نبوت موجود نہیں تو آدمی ایمان سے خالی ہو جائے گا۔ لہذا ’’المؤمنین‘‘ اور دونوں جگہ ضمیر برائے ’’المؤمنین‘‘ لا کر بتا دیا کہ اگر مؤمن ہو تو وہ تمہاری مائیں ہیں اور غیر مؤمنین کے لیے مائیں وہ قطعاً نہیں ہیں۔ یہ مسئلہ نبی اور بیتِ نبی کا ہے ہوشیار باش!

با خدا دیوانہ باش و بامحمدﷺہوشیار

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor