Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

القدس کے مسلمان اور ماہ صیام (محمد فیض اللہ جاوید)

القدس کے مسلمان اور ماہ صیام

محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 646)

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے عوام جبر و ستم کے جس نہ ختم ہونے والے سلسلے کا سامنا کررہے ہیں اس کے ختم ہونے کے آثارکم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب عالم اسلام میں ماہ صیام سایہ فگن ہے کہ غزہ کے عوام خون کی ہولی کا سامنا کررہے ہیں۔ 30مارچ 2018ء کے بعد غزہ میں فلسطینی عوام نے عظیم الشان ’’حق واپسی‘‘ تحریک شروع کی تو عالمی سطح پر اس کی حمایت کی گئی۔ قابض صہیونی ریاست نے پُرامن فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال شروع کیا۔ اب تک 110فلسطینی شہید اور 12 ہزار فلسطینی زخمی کیے جا چکے ہیں۔ماہ صیام عالم اسلام کے لیے خوشیوں اور برکات کا مہینہ ہے، مگر فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل نے اس ماہ مبارک میں بھی جنگ اور  معاشی ناکہ مسلط کر رکھے ہیں۔ اسرائیلی ریاست کی طرف سے مسلط کردہ ناکہ بندی کے باعث غزہ میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ شہریوں کے لیے بنیادی ضرورت کی اشیاء کی خریداری بھی مشکل ترین ہو چکی ہے۔ بے روزگاری اور غربت نے غزہ کے عوام کو ایک مستقل آزمائش میں ڈال رکھا ہے۔

تاریخی اعتبار سے مقبوضہ بیت المقدس کے مسلمانوں کو تیسرے مقدس ترین مقام یعنی قبلہ اول کے محافظ اوراس کے ہمسائے ہونے کا شرف حاصل  ہے۔ ماہ صیام کو اہل فلسطین سے خصوصی نسبت ہے مگر القدس کے باشندوں کے ساتھ یہ نسبت ما سوا ہے۔رواں ماہ صیام ایک ایسی حالت میں فلسطینیوں پر سایہ فگن ہوا ہے کہ القدس کے باشندے دوہری مصیبت اور مشکلات کا شکار ہیں۔ ماہ صیام سے دو روز قبل امریکی حکومت نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ القدس منتقل کیا تو اس پر فلسطین بھر میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں پُرامن فلسطینی مظاہرین کا قتل عام کیا جس کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ یوں پورا فلسطین غم اور صدمے سے دوچار ہوگیا۔ یہ مصیبت اور پریشانی اُن دیگر اَنْ گنت مشکلات میں سے ایک ہے جو پہلے سے القدس کے باشندوں پر مسلط ہیں۔

اُن دیگر مشکلات میں اسرائیل کی طرف سے القدس کے باشندوں پر مسلط کی گئی معاشی پابندیاں ہیں۔ ماہ صیام کے بابرکت مہینے میں اور اس کے علاوہ صہیونی ریاست کی طرف سے بازاروں میں اشیاء کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں تاکہ روزہ داروں کو اور بھی ستایا جاسکے۔ یہ مشکلات اور قدغنیں نہ صرف عام شہریوں کے لیے ہیں بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی ہیں۔ القدس میں معدودے چند فلسطینی دکانداروں کو بھی اسی کساد بازاری کا سامنا ہے۔ فلسطینی دکانداروں پر طرح طرح کے ٹیکس لگا کر انہیں  کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے۔

فلسطینی تاجر مصطفیٰ ابو زھرہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماہ صیام کی روحانی برکات کو جس طرح دنیا کے دوسرے خطوں کے مسلمان محسوس کرتے ہیں یا ان سے مستفید ہوتے ہیں ہم نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی مسلمانوں کا کوئی مذہبی موقع آتا ہے تو صہیونی ریاست کی طرف سے اشیائِ ضرورت کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ فلسطینی دکاندار بھی چیزیں مہنگی فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان پابندیوں کا سامنا نہ صرف مسلمانوں کو کرنا پڑتا ہے بلکہ مسیحی برادری بھی صہیونیوں کے ان مظالم کا  برابر کا شکار رہتی ہے۔

چکن اور مٹن کے تاجر خضر النتشہ کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کے دوران ہمیں امید ہے کہ ماہ صیام کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے گی مگر ہمیں اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طرح طرح کے اسرائیلی ٹیکسوں سے تاجروں اور فلسطینی صارفین کی کمر دُہری ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام خریداروں کی جیب کو دیکھتے ہوئے ہم فلسطینی دکاندار چکن اور مچھلی کی قیمتوں میں حتیٰ الامکان کمی کرتے ہیں مگر یہ معمولی رعایت بھی عام شہریوں کو کوئی زیادہ فائدہ نہیں دے سکتی۔مقامی دکاندار ودیع الحلوانی کا کہنا ہے کہ ماہ مقدس کے دوران القدس اور غرہ کی پٹی کی معاشی حالت قریب قریب ایک ہی جیسی ہوجاتی ہے۔ رواں ماہ صیام کے دوران بھی غزہ اور القدس کے فلسطینی باشندوں کو ایک ہی طرح کے دُکھوں کا سامنا ہے۔ غزہ میں نہتے فلسطینی مظاہرین کے قتل عام پر جتنا دُکھ اور صدمہ اہل غزہ کو  ہے، ہم القدس کے باشندوں کو بھی اتنا ہی صدمہ ہے۔خیال رہے کہ فلسطین میں ایک ایسے وقت میں یہ ماہ صیام آیا ہے کہ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں رمضان سے دو روز قبل 100سے زائدفلسطینی شہید اور تین ہزار زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ دوسرا ظلم یہ کہ چودہ مئی کو امریکا نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرکے فلسطینیوں کے حقوق پر نیا ڈاکہ ڈالا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online