ملا جلال الدین حقانی کون ؟ (سعود عبدالمالک)

ملا جلال الدین حقانی کون ؟

سعود عبدالمالک (شمارہ 659)

کہساروں کی سرزمین افغانستان جو  غیرت ایمانی اور اسلام پر جان نثار ہونے والوں کی سرزمین کہلاتا ہے جس کی اسلام پسندی کی مثال دنیا بھر نے چند برس پہلے دیکھی لیکن اسی اسلام پسندی کو دنیا والوں نے انتہاء پسندی سمجھا۔ دنیا جو کچھ بھی سمجھے، ہمیں اس سے کیا! حقیقت میں یہ اسلام پسندی ہی ہے، جس پر اب بھی کئی غیرت مند قائم ہیں۔ اللہ ان کو استقامت اور فتح سے ہمکنار کرے۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو اس سرزمین نے بہت سے نامور شخصیات پیدا کیں۔ انہی اوراق میں ہمیں قریب ہی خلافت جیسی حکومت کی جھلک بھی نظر آئی تھی ۔جی ہاں ایک ایسی اسلامی حکومت جس نے دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا ۔جس نے حق اور باطل کو واضح طور پر سامنے لایا۔ پھر کسی نے اسلام پسندی کہا ،تو کسی نے انتہا پسندی ،پھر اس اسلام پسندی کو ختم کرنے کے لئے دنیا بھر کے باطل نے زور لگا یا  لیکن ان کو کیا معلوم تھا جس سرزمین پر انہوں نے قدم رکھا ہوا ہے ان میں مادہ اسلام اس طرح بھرا ہوا ہے کہ کبھی یہ محمود غزنوی کی شکل میں ،تو کبھی احمدشاہ ابدالی کی، کبھی ملامحمد عمر مجاہد کی ، اور کبھی ملاجلال الدین حقانی کی شکل میں نظر آتا ہے جو نہ صرف افغان بلکہ پورے امت مسلمہ کے لئے قابل فخر ہے۔

یہ  غیور صفت لوگ  ہم میں اب موجود نہیں لیکن ان کی زندگیاں ہمارے لئے راہِ ہدایت اور مشعلِ استقامت ہیں۔ پندرھویں صدی میں ملامحمد عمر مجاہد اور ملاجلال الدین حقانی نے دین اسلام کو جو جلال بخشا ،اور کفر پہ رعب طاری کیا اس میں اسلام پسندی کے عنصر کے ساتھ ساتھ غیرت مندی ،ثابت قدمی ، جرأت مندی ،اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بے پناہ محبت کا مادہ بھی موجود تھا جنہوں نے اس دور جدید میں ثابت کر دیا کہ کامل دین پر چلنا کوئی مشکل نہیں۔ 

آج ان ہی میں سے ایک ایسی شخصیت کا تذکرہ مقصود ہے۔  عالم ربانی ، مجاہد کبیر ، گرانقدر فضلیت مآب جناب الحاج مولوی جلال دین حقانی رحمہ اللہ ۔ اگر ان کی زندگی کو جلیل القدر صحابی حضرت خالد بن ولید ؓ کی مبارک سیرت کی روشنی میں دیکھا جائے تو کئی جگہ  مماثلت ملتی ہے۔ چنانچہ اس سے بڑی مماثلت اور کیا ہو گی کہ جس طرح حضرت خالد بن ولید ؓنے ساری زندگی جہاد میں گزاری اور روم و فارس کی سلطنتوں کو پاش پاش کیا اور شہادت کی تمنا دل میں لئے  ’’سیف اللہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اپنے  بستر پر  ہی خالق حقیقی سے  جا ملے ۔ اگر حقانی صاحب کی چالیس سالہ زندگی کو دیکھا جائے تو آپ نے بھی اس وقت کی دو سلطنتوں روس اور امریکہ کو شکست فاش دی اور پھر اس کے بعد شہادت کی تمنا دل میں لئے دین کا جلال ہونے کی وجہ سے  آسمان وزمین کے خالق حقیقی کو اپنی امانت روح سپردکر دی۔ انا للہ الیہ وانا راجعون۔

ملا جلال الدین حقانی کی چالیس سالہ جہادی زندگی ہمارے لئے ایک روشن کتاب کی مانند ہے ان کی زندگی کا ہر پہلو ایک کامل باب ہے ۔ ایسے باب جس میں جفا کشی بھی ہے اور وفا کیشی بھی ، جرأت بھی ،غیرت بھی ، علم بھی اورحلم بھی۔ اور نہ جانے کیا کیا خوبیاں تھیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کون تھے یہ حقانی؟ ملا حقانی: دین کا جلال ، اسلام کی حقانیت کے پیکر تھے۔ چلو آؤ آپ کو حقانی صاحب کی کتاب زندگی سے چند باتیں سناتا ہوں۔ 

حقانی صاحب و ہ تھے جنہوں جب دیکھا کہ سابقہ سویت یونین ایک خون خوار درندے کی طرح افغانستان کی سرزمین پر آپہنچا ہے تو آپ نے اپنے درس و تدریس کو چھوڑ کر اپنے چند ساتھوں کو لے کر جنوب میں صف بند ہوکرروسی بربریت کے خلاف برحق جہاد کا اعلان کیا۔

حقانی صاحب وہ تھے جنہوں نے گوریلا کارروائی اور براہ راست حملوں کے ساتھ ساتھ جنوب میں ایسی دفاعی لائن بنائی جس کو عبور کرنا روسی استعمار کے لئے کافی مشکل ہو گیا تھا۔

حقانی صاحب و ہ تھے جنہوں نے بلا امتیاز تمام مجاہدین کو اکھٹا کیا اور ایسا مقابلہ کیا کہ افغانستان حقیقت میں سرخ پوشوں کا قبرستان بنا۔

حقانی صاحب وہ تھے جنہوں نے سخت سے سخت ترین حالات میں بھی اپنے مدبرانہ کمالات سے اپنی جہادی قوت کو محفوظ رکھا اور ان کو خانہ جنگی سے دور رکھ کہ اپنی تنظیم اور اپنی طاقت کو بچایا۔

حقانی صاحب وہ تھے جنہوں نے دینی علوم کی ترویج اور اشاعت کے لئے اپنے مدارس اور تربیت گاہوںکو فعال کیا اور بہت سے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔

حقانی صاحب و ہ تھے جنہوں نے خوست کے لئے ایسی حکمت عملی بنائی کہ فاتح خوست کا لقب اپنے نام کیا ۔حقانی صاحب وہ تھے، جو مشکل حالات میں بھی غیروں کے سامنے جھکے نہیں بلکہ بہت ہی بہتر حکمت عملی سے ان کا مقابلہ کیا اور روس کو انخلاپر مجبور کیا۔ حقانی صاحب وہ تھے جنہوں نے افغانستان میں باہمی لڑائی کے دوران اپنے کردار کو صاف رکھا اور ربانی ، حکمت یار ،سیاف ، مزاری اور دیگر کو واضح طور پر  پُرامن اور اتحاد سے رہنے کے لئے نہ صرف کہا بلکہ اپنی پوری کوششیں اس کے لیے صرف کیں ۔

حقانی صاحب وہ تھے جو روس کے سقوط کے بعد افغانستان میں ایک حقیقی اسلامی حکومت دیکھنا چاہتے تھے وہ مجاہدین کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کے لئے سرگرم ہوگئے تھے ۔

حقانی صاحب وہ تھے جب ملک میں امارت اسلامیہ کی حکومت قائم ہو گئی تو انہوں نے ملاعمر مجاہد کی تحریک کا مکمل جائزہ لیا اور جب ان کے پاک ارادوں سے واقفیت ہوئی تو آپ نے پکتیا کے تمام قومی سرداروں  اور مشران کو ایک نقطہ پر اکھٹا کر کے اس مقدس تحریک میں شامل کرکے پکتیا کے پہاڑوں سے اسلام کی صدائیں بلند کی ۔

حقانی صاحب وہ تھے جب امریکہ طاغوت نے افغانستان کی سرزمین پر حملہ کیا تو آپ ایک بار پھر جہاد کے لئے کمر بستہ ہوئے اور اپنی قوم وملت سے کہا کہ آپ اس استعمار کا ایسا ہی مقابلہ کریں جس طرح آپ  نے روس کا کیا تھا۔ اور پھر وقت نے ثابت بھی کر دیا کہ آپ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ایسے لڑے کہ بہت سے اتحادیوں کا انخلا آپ کی جنگی حکمت عملی سے ہوا ۔

حقانی صاحب وہ تھے جب بی بی سی نے یہ خبریں نشر کرنا شروع کی کہ گرینڈجرگہ بنا کر آپ کو بھی ساتھ کر لیں تو اس طرح کی خبروں کی آپ نے دو ٹوک الفاظ میں وضاحت کی اور کہا کہ یہ باتیں تمام باطل ہیں، ہم جہاد کرنے والوں کے ساتھ جہادی ، قوم کے ساتھ قومی ،علما کے ساتھ عالم اور امارت اسلامی کے ساتھ متصل کھڑے ہیں ہم امریکیوں کے خلاف بھی ایسا مقابلہ کریں گے جس طرح روس کے خلاف کیا تھا۔ اور ہم اس کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ کبھی بھی بیٹھ نہیں سکتے۔

حقانی صاحب وہ تھے جنہوں نے امارت اسلامی کے ساتھ وفا داری کی ایسی مثال رقم کی جس کی نظیر نہیں ملتی  آپ نے جب محسوس کیا کہ عمر اب ساتھ نہیں دے رہی تو آپ نے اپنے اولاد کو پیش کردیا  نہ صرف پیش کیا بلکہ اس راہ حق میں قربان بھی کر دیا۔

حقانی صاحب وہ تھے کہ جن کے جواں سال حافظ قرآن،ڈاکٹر، ایک نہیں بلکہ چار بیٹے شہید ہو کر  ملت اسلامیہ کو پیغام دے رہے ہیں کہ میں اپنے رب سے یہی چاہتا تھا کہ میرے بیٹے اس کی راہ میں قربان ہوجائیں یہ بات میرے لئے قابل فخر ہے کہ میں شہیدوں کا والد ہوں، میرے بیٹوں کی شہادت سے میرا اور میری قوم کا مورال اور بلند ہوا ہے ۔

حقانی صاحب و ہ تھے جنہوں نے اپنے اولاد اور متعلقین کو نصیحت کی تھی کہ میڈیا کی چکا چوند سے متاثر ہو کر اپنے اندر تکبر پیدا نہ کرنا، یہ ایک فریب کا جال ہے، جو آپ لو گوں کو گمراہی کے راستے پر لگا دے گا اور جہاد سے دور کر دے گا، آپ نے ان سے دور رہنا ہے۔

حقانی صاحب وہ تھے جنہوں نے اپنے اولاد کو خصوصی طور پر یہ نصیحت کی تھی کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ اپنی وفا داری اس وقت تک قائم رکھنا جب تک وہ شریعت کے پابند رہیں ۔

حقیقت میں حقانی صاحب حقانیت کی ایک عملی تفسیر تھے۔ دنیا سے بے رغبتی، تقویٰ، پرہیزگاری، آخری ایام تک قرآن پاک سے محبت ، روزوں سے عشق ، سخاوت میں غنی اور حج سے جنوںاور جہاد سے پکی یاری۔

حقانی صاحب ہم میں تو موجود نہیں ہے لیکن ہمارے لئے کامیابی کی ایک کھلی کتاب چھوڑ کر چلے گئے، ان کی نجی زندگی سے لے کر جہادی زندگی تک  ہر پہلو کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یقینی طور پر دنیا اور آخرت کی کامیابی مل سکتی ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ملاجلال الدین حقانی کی برکات، سوچ وفکر ہر مسلمان کے دِل میں پیدا کردے اور اسلام کی بالادستی پھر سے نہ صرف کہساروں کی سرزمین پر بلکہ پوری دنیا میں قائم فرما دے۔

٭…٭…٭