Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حج کے بعد … چند ضروری باتیں (۱) (محمد ناصرالدین)

حج کے بعد … چند ضروری باتیں (۱)

محمد  ناصرالدین (شمارہ 660)

(گزشتہ سے پیوستہ)

اس دورکا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ کسی بھی فرض کی ادائیگی کے لئے خشوع وخضوع ،انابت الی اللہ ، تقویٰ وبندگی اوررجوعِ الٰہی کی صفات حسنہ سے دور رَہ کر محض ارکان کی ادائیگی پر ہمار ازیادہ ترانحصار اورمدار رہ گیا ہے ،ریانے خلوص کی جگہ پر قبضہ کرلیا ،نفاق جڑ پکڑگیا ،خوف وخشیت کو ہم نے سلام کرلیا ،نتیجہ یہ ہو اکہ اپنی عبادات پر عُجب ،غرور ، تکبراوردکھاوا جیسی بری صفات پیدا ہوگئیں،ایک آدمی زندگی بھرنماز پڑھتا رہے پھر بھی اس کو نماز ی کہہ کر نہیں پکار ا جاتا ،ایک آدمی تاحیات روزہ رکھتا رہے پھر بھی اس کو روزہ دار نہیں کہاجاتا ، ایک شخص ہمیشہ زکوۃ اداکرتے رہے مگر اسے بھی زکوتی نہیں کہاجاتا لیکن اگر کوئی شخص صرف ایک بارحج کرلے تو اسے الحاج زائر حرم اورحاجی جیسے القاب دے دئے جاتے ہیں حالانکہ شریعت میںحج سے زیادہ نماز کی تاکید اوراس کو ادا نہ کرنے پر سخت ترین وعیدیں سنائی گئی ہیں ،لیکن لوگوں نے اپنے قول وعمل سے حج ہی کو اشرف العبادات بنادیا ہے ؟ فیا للعجب ۔

یہی حال ہماری سب عبادتوں کا ہوگیا ہے ،نماز ہو یا روزہ ،زکوۃ ہو یا حج ،تلاوت ہویا صدقہ وخیرات ،نفاق کے جراثیم ہر جگہ پائے جانے لگے ہیں اورجب تک ہم اپنی عبادات کو ایسی آلائشوں سے پاک نہیں کرتے ، ہماری عبادتیںقبول نہیں ہوسکتیں ۔حضرت جنید بغدادی ؒ کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے ،آپ نے پوچھا کہاں سے آرہے ہو؟ عرض کیاحج سے واپس آرہا ہوں پوچھا حج کرچکے ؟عرض کیاکرچکافرمایاجس وقت گھر سے روانہ ہوئے اورعزیزوںسے جدا ہوئے تھے ،اپنے تمام گناہوں سے بھی مفارقت کی نیت کرلی تھی ؟کہا نہیں یہ تو نہیںکیاتھا  فرمایابس پھرتم سفر حج پر روانہ ہی نہیں ہوئے پھرفرمایاکہ راہ ِ حق میںجوں جوں تمہاراجسم منزلیں طے کررہا تھاتمہارا قلب بھی قرب حق کی منازل طے کرنے میں مصروف تھا؟جواب دیا کہ یہ تو نہیں ہوا ارشاد ہوا کہ پھر تم نے سفر حج کی منزلیں طے ہی نہیں کیں،پھرپوچھا کہ جس وقت احرام کے لئے اپنے جسم کو کپڑوں سے خالی کیا تھا اس وقت اپنے نفس سے بھی صفات بشریہ کا لباس اتاراتھا ؟کہا نہیں ! یہ تو نہیںہواتھاارشاد ہوا پھر تم نے احرام ہی نہیں باندھا ،پھر پوچھا عرفات میں وقوف کیا تو کچھ معرفت بھی حاصل ہوئی ؟کہا نہیں ! یہ تو نہیںہواارشاد ہوا پھر عرفات میں وقوف ہی نہیں کیا پھرپوچھا کہ جب مزدلفہ میں اپنی مرا د کو پہنچ چکے تو اپنی ہر مراد نفسانی کے ترک کا بھی عہدکیاتھا؟کہا نہیں ! یہ تو نہیںکیاتھاارشاد ہو اکہ پھر طواف ہی نہیں ہو ا ،پھر جب پوچھا کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو مقام صفا اوردرجہ مروہ کا بھی کچھ ادراک ہوا تھا ؟کہا نہیں ! یہ تو نہیںہواارشاد ہو اکہ پھر تم نے سعی بھی نہ کی، پھر پوچھا کہ جب منیٰ آئے تو اپنی ساری آرزوں کو تم نے فنا کیا؟کہا نہیں ! یہ تو نہیںکیاتھاارشاد ہو ا کہ پھر تمہارا منیٰ جانا لا حاصل رہا ،پھر پوچھا کہ قربانی کے وقت اپنے نفس کی گردن پربھی چھری چلائی تھی ؟کہا نہیں ! یہ تو نہیںکیاتھاارشاد ہوا کہ پھر تم نے قربانی ہی نہیں کی ،پھر پوچھا کہ جب کنکریاں ماری تھیں تو اپنے جہل ونفسانیت پربھی ماری تھیں؟کہا نہیں!یہ تو نہیںکیاتھاارشاد ہو اکہ پھر تم نے رمی بھی نہ کی اوراس ساری گفتگو کے بعد آخر میں فرمایا کہ تمہارا حج کرنا نہ کرنا برابر رہا اب پھر جاو ،صحیح طریقہ پر حج کرو۔

مندرجہ بالا واقعہ کو ملاحظہ فرماکر غور کیاجائے کہ حج کے سلسلہ میں ہم سے کس قدر کوتاہیاں سرزد ہوتی ہیں نہ صحیح طورپر حج کے ارکان ہم سے ادا ہوتے ہیں نہ سفرحج کو مبارک ومسعود بنانے کی ہم کوشش کرتے ہیں نہ تو حقوق العباد کا خیال ہوتا ہے اورنہ ہی حقوق اللہ کی کوئی فکردامن گیرہوتی ہے ،نہ مشتبہ مال سے اجتناب ہوتا ہے، نہ دل کی صفائی اورفکر ی پراگندگی دور کی جاتی ہے نہ خواہشات نفسانی کو دبایا جاتا ہے، نہ عاجزی وانکساری اختیار کی جاتی ہے ،نہ نظروں کو نیچا کیا جاتا ہے ۔ سفر حج کے لئے انواع واقسام کے پرتکلف کھانوں اورناشتوں کا انتظام کیا جاتا ہے کہ اس پر سفر کا اطلاق بھی نہ ہوسکے ، حرم محترم میں دنیاوی گفتگو،تجارتی معاملات ،اشیاء خوردو نوش کی تیاری ، ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے بھاگ دوڑ،مکۃ المکرمہ کی مارکیٹوں اورمدینہ منورہ کے بازاروں میں ایسے لوگوں کا اژدحام جو صرف اورصرف عبادت اورایک فرض کی تکمیل کے لئے ہزاروں میل کی صعوبتیں برداشت کرکے وہاں پہنچے ہیں یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ عبادات کے بجائے تجارتی معاملات طے کئے جانے لگے ، کمال تو یہ ہے کہ اس مبارک سفرسے واپسی پرریڈیو،ویڈیو،گیم ،کیمرے اورٹی وی وغیرہ بھی حجاج کرام اپنے ساتھ لارہے ہیں پھر ایسے سفر کوکس طرح مبارک اورمسعود قرار دیاجاسکتا ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا ارشاد ہے:

’’ فی آخر الزمان یکثرالحاج بالبیت یہون علیہم السفرویبسط علیہم الرزق ویر جعون محرومین مسلوبین‘‘۔

 آخر زمانہ میں بیت اللہ کے حا جیوں کی کثرت ہوجائے گی ،ان کے لئے سفر کرنا آسان ہوجائے گا اور روزی بافراط ملے گی مگر وہ محروم اور چھنے ہوئے واپس ہوں گے۔

ممکن ہے یہ سطور پڑھ کرقارئین کرام یہ خیال فرمائیں کہ ہر شخص تو ایسا نہیں کرتا تاہم اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیاجاسکتا کہ تالاب کی سبھی مچھلیاں خراب نہیں ہوتیں ،پھر بھی بدنام سبھی ہوتی ہیں، ا س لئے شرعی اورقانونی طورپرممنو ع چیزوں کاساتھ لیجانا اورلانا دونوں غلط ہیں۔

حج کی ادائیگی ایک فرض سمجھ کر کرنا چاہیے اس کو سیر وتفریح ،تجارت اورریاونمودکاذریعہ بناناناجائز اورحرام ہے۔

 حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ:

 یاتی علی الناس زمان یحج اغنیاء الناس للنزاہۃ واوساطھم للتجارۃ وقراء ھم للریاء والسمعۃ وفقراء ہم للمسئلۃ۔

ایک زمانہ وہ بھی آنے والا ہے کہ مالدار سیر وتفریح کی غرض سے حج کریں گے ،متوسط طبقہ کے لوگ تجارت کے واسطے ،علماء ریاوشہرت کے لئے حج کریں گے اورفقراء بھیک مانگنے کی خاطر حج کریں گے ۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor