Bismillah

677

۱۱ تا۱۷جمادی الاولیٰ۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۸تا۲۴جنوری۲۰۱۹ء

گمنام انمول ہیرے (سعود عبدالمالک)

گمنام انمول ہیرے

سعود عبدالمالک (شمارہ 664)

آج کا موضوع شروع کرنے سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے کہ گذشتہ کالم میں ذبیح اللہ خان ساتھی کے وصال کا تذکرہ ہوا جس پر کئی دوستوں نے فون ، میسج اور دیگر ذریعے سے رابطہ کیا کہ کیا یہ افغانستان والے ذبیح اللہ مجاہد ہیں تو ان تمام سے عرض ہے کہ نہیں۔ میں نے واضح لکھا کہ وہ تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ایک ادارے کے زونل ہیڈ تھے اور نام میں بھی خان کا لفظ لکھا، مجاھد کا نہیں۔ خیر جس جس نے بھی پوچھا میں ان سب کا شکر گزار ہوں اور ایک اندازہ لگ گیا کہ ذبیح اللہ مجاھد سے محبت کرنے والے لوگ کتنے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ اس مادہ پرستی اور پروپیگنڈے کے دور میں بھی مجاہدینِ اسلام سے محبت کرنے والے زندہ دِل لوگ موجود ہیں ۔ زندہ دل کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ بھی بتاتا جاؤں کہ یہی وہ لوگ ہے جن کے دلوں میں جہاد کی حقانیت زندہ ہے، جو دین اسلام کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں، ان کو شہرت کی پروا، نہیں وہ صرف اور صرف دین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہوتے ہیں اور گمنامی کی زندگی میں رہ کر ایسا کام سرانجام دیتے ہیں کہ انمول ہیرے بن جاتے ہیں ۔

انہی انمول ہیروں کا آج تذکرہ کرنا ہے جنہوں نے اعلیٰ عہدوں پر رہنے کے باوجود سادگی میں ایسے اعلیٰ کام سرانجام دئیے کہ رہتی دنیا تک اس کی مثال رہے گی ۔

یہ واقعہ ہے یکم محرم الحرام مطابق 20 نومبر 1979ء منگل کی صبح، جب امام حرم شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے امام صاحب کو گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لائوڈ سپیکر پر قابض ہو گئے، اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔ ان حملہ آوروں کا سرغنہ27 سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا جس نے چار سال تک مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کا دست راست جہیمان بن سیف العتیبہ تھا۔ ان لوگوں نے بڑی باریک بینی سے پلاننگ کر کے جنازوں کا بہروپ بنا کر چارپائیوں کے ذریعے اسلحہ کی بڑی مقدار تہہ خانوں میں جمع کر لی تھی۔ جب تمام تیاریاں مکمل ہو گئیں تو اچانک حرم کے تمام دروازے بند کر کے ان پر اپنے مسلح افراد کھڑے کر دئیے۔ایک آدمی نے عربی میں اعلان کیا کہ مہدی موعود جس کا نام محمد بن عبداللہ ہے آ چکا ہے۔نام نہاد مہدی نے بھی مائیک پر اعلان کیا کہ میں نئی صدی کا مہدی ہوں، میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کریںگے۔اس گمراہ ٹولے  نے مقام ابراہیم کے پاس جا کر گولیوں اور سنگینوں کے سائے میں لوگوں کو دھمکاتے ہوئے بیعت شروع کروا دی۔

اس حملہ کا مقصد یہ تھا کہ مسجد الحرام پر قبضہ کرکے نقلی امام مہدی کا اعلان کیا جائے تاکہ دنیا بھر سے مسلمان اس کی بیعت کے لیے آئیں اور سعودی عرب پر پریشر ڈالیں کہ "امام مہدی" کو کچھ نا کہا جائے۔ یہ ایک پری پلینڈ سازش تھی تاکہ مسلمانوں کو اور کمزور کیا جاسکے۔ خلافت ٹوٹنے کے بعد مسلمان دوبارہ کسی جنگ لڑنے کے قابل نہیں تھے، لیکن اللہ نے ان تمام کے منصوبے ضائع کردئے اور علماء کرام نے فوری طور پر ہوشیاری سے کام کرتے ہوئے ان خوارج کے خلاف فتویٰ دیا اور پاکستان نے اپنی فوج بھیج کر دوسروں کو بولنے کا موقع نہ دیا۔ یہ اللہ کا خاص کرم تھا کہ نہ دوسرے ملکوں سے خروج ہوا، نہ ہی مسلمان ملکوں کی آپس میں لڑائی ہوئی۔

اس واقعے میں بہت سے ایسے کرداربھی موجود تھے جنہوں نے بہت بڑا کام کیا لیکن اس کام کو اللہ کی رضا کے لئے کیا، نہ کہ دنیا کی شہرت کے لئے۔ ایسے اللہ والے موجود تھے اس وقت مسجد الحرام میں جن کو ان سخت حالات میں خانہ کعبہ کی امامت کا شرف حاصل ہوا۔ الحمدللہ یہ اعزاز بھی پاکستان کے حصہ میں آیا ۔ یہ شرف حاصل کرنے والے مولانا محمد صالح صاحب ہیں۔ مولانا صالح صاحب کا تعلق ایک علمی گھرانے سے ہے ان کے والد مولانا یونس صاحب دیوبند سے فارغ التحصل تھے، ان کے اساتذہ مفتی کفایت اللہ ، مولانا حسین احمد مدنی ، اور دیگر اس وقت کے  علماء کرام تھے ۔ اگر مولانا یونس کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو مکمل شریعت کے پابند، وہ ہر اس جگہ سے کوچ کر جاتے جہاں پر خرافات زیادہ ہوتے، انہوں نے وہاں سے گوشہ نشینی کی لیکن علم کے سمندر ہونے کی وجہ سے لوگ ان سے وابستہ رہے اور علم کی پیاس بجھاتے رہے، ہزاروں کی تعداد میں شاگرد اور مریدین تھے۔ اگست میں وفات پائی مولانا کا جنازہ شیخ الحیث حضرت مولانا حسن جان شہید نے پڑھایا تھا۔ اگست کے گرم موسم میں دور دراز سے علما کرام اور عوام نے شرکت کی ۔ مولانا کے پانچ بیٹے تھے جو کے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے، ان کا سب سے چھوٹا بیٹا مولانا ادریس ڈاکٹر اور حافظ قرآن تھے ان کو یہ سادت بھی حاصل ہے کہ  حج پر گئے اور وفات بھی وہی ہوئی اور مدفن بھی جنت البقیع کے بعد افضل ترین قبرستان جنت المعلیٰ مکہ میں بنا۔ ان کے بڑے بیٹے مولانا یوسف البرجوی تھے، پشاور میں شیخ زید اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں پی ایج ڈی سکالر تھے، مرد درویش مولانا اشرف سلیمانی کے خلیفہ مجاز تھے، انہی لوگوں کی محنت سے الحمد للہ پشاور یونیورسٹی میں دین کا ماحول بنا ہوا ہے ۔

مولانا یونس صاحب کے دیگر صاحب زادوں میں مولانا ابراہیم اور مولانا الیاس بھی معلمی کے پیشے سے وابستہ رہے ۔ اب مولانا صالح کے بارے میں بات کرتے ہیں وہ بھی تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے ایجوکیشن ڈاریکٹر رہ چکے ہیں ۔  اللہ نے ان کو وہ شرف عطا کیا جو شاید ہی بہت کم لوگوں کو نصیب ہو بلکہ بہت ہی مشکل ہے، جب  خارجیوں نے خانہ کعبہ کو یرغمال بنا لیا تو اس دوران ایک موقع آیا جب وقت نماز قضا ہونے والا تھا تو اس وقت مولانا صالح نے جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم زندہ رہیں اور اللہ کے گھر میں باجماعت نماز نہ ہو! تو اللہ رب العزت نے یہ اعزاز ان کو نصیب فرمایا انہوں نے ان سخت ترین حالات میں نماز باجماعت کروائی ۔ اللہ رب العزت ان کی صحت اور عمر میں برکت نصیب فرمائے، بہت علیل ہوچکے ہیں، ساتھیوں سے دعا کی درخواست ہے ۔

ان انمول ہیروں کے بارے میں لکھنے کا خیال کچھ اس طرح پیدا ہوا کہ ہماری جماعت کے شعبہ المرابطون عصری کے ذمہ دار ساتھی ڈاکٹر اسامہ صاحب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کچھ انمول شخصیا ت سے ملاقات ہو جائے، تو اس میں ہم نے پہلے ان بزرگ کا تذکرہ کیا تو پہلے ان سے ملاقات کا فیصلہ ہوا، ان سے ملاقات کے بعد ہم  یہ طے کئے ہوئے تھے کہ اسی علاقے میں ایک اور بزرگ ہیں جن کا تعلق مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے شاگردوں میں آتا تھا لیکن وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ اس فانی جہان کو چھوڑ چکے ہیں ۔ لیکن قسمت ڈاکٹر صاحب کی اور میری اچھی تھی کہ ہماری ملاقات مولانا صالح صاحب سے ہو گئی، اس کے بعد ہم نے  ایک اور علمی شخصیت ڈاکٹرمولانا نعمان صاحب سے ملاقات کی، ڈاکٹرنعمان  صاحب پشاور یونیورسٹی شعبہ تدریس ( بی ایڈ ، ایم ایڈ )کے سرپرست (ڈین )رہے چکے ہیں، عربی میں حضورﷺ بحیثیت معلم اور طریقہ تدریس پر اپنا مکالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کرچکے ہیں، ان سے نشست کافی فائدہ مند رہی علمی لحاظ سے، ان کے بعد ہم نے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر فدا صاحب کی طرف روانہ ہوئے، ان کے درس میں بیٹھنے کا موقع نصیب ہوا، الحمدللہ پشاور یونیورسٹی میں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ خانقاہی نظام بھی خوب چلاتے ہیں اور کافی لوگوں مستفید ہو رہے ہیں ۔ اس کے بعد دوسرے دن ہم مولانا حسن جان شہید کے صاحب زادے مولانا عزیز الحسن صاحب سے ملاقات کے لئے گئے، الحمدللہ نماز جمعہ اور اس کے بعد ذکر کی محفل اور پھر ملاقات۔ ان سے بھی ملاقات کے دوفائدے ہو گئے ایک ذکر کی محفل نصیب ہو کر دل کا زنگ صاف ہو گیا اور دوسرا اپنے حضرت شیخ کے لئے دعائیں اور جماعت کے لئے دعائیں نصیب ہو گئیں ۔ ان حضرت سے ملاقات کا مقصد کیا تھا وہ تو آپ کو ڈاکٹر اسامہ ہی اپنے رسالے زادِ طلبہ میں بتائیں گئے یا اگر زندگی نے ساتھ دیا تو پھر کبھی لکھ دیں گے ابھی، اتنے ہی ان  انمول ہیروں کے بارے میں کافی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online