خواب غفلت سے جاگو! (عائشہ صدیقی عائش)

خواب غفلت سے جاگو!

عائشہ صدیقی عائش (شمارہ 664)

جہاد فرائض اسلام قطعی میں سے ایک اہم فریضہ ہے۔ جیسے نماز، روزہ، حج، زکوۃ، کا انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے ویسے ہی جھاد کا منکر۔ جہاد سے بغض و عداوت رکھنے والے کا ایمان باقی نہیں رہتا۔جہاد دیکھنے میں اگرچہ ایک مشکل عمل ہے لیکن امت مسلمہ کو اسی کے ذریعے مشکلات و مصائب سے نجات ملی ہے۔ امن وامان فراہم کیا ہے اور سب سے بڑی بات  کہ اللہ رب العزت نے جہاد کے ذریعے  سے کفار و مشرکین پر مسلمانوں کا رعب اور دبدبہ بٹھایا ہے۔

  اللہ رب العالمین نے قران مجید میں جہاد کے حق میں ساڑھے چار سو آیات نازل فرما کر اس کی عظمت و رفعت مقام و مرتبہ سے روشناس کروایا۔ یہ اللہ رب العزت کا خاص کرم ہے کہ ہم جہاد کے ماننے والے ہیں۔ وہ لوگ جو جہاد کا انکار کرتے ہیں کیا وہ میرے آقا مدنی کے ارشادات بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بدنصیب شخص کے لئے جو جہاد کا منکر ہو فرمایا۔

"جس نے جہاد نہ کیا اور اس کے دل میں جہاد کا شوق بھی پیدا  نہ ہوا وہ چاہے یہودی مرے یا نصرانی۔"

 آج کسی کو جہاد کی دعوت دی جائے تو کہتے ہیں ارے بابا۔ہم جہاد کریں گے تو مر جائیں گے۔اچھا نہیں کہ بستر پر موت آنے کے بجائے میدان جہاد میں آجائے تاکہ اللہ رب العزت کے سامنے سر فخر سے اٹھایا جا سکے کہ ہاں ہم حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین مبین کی خاطر مارے گئے۔ ان کم عقلوں کو یہ نہیں معلوم کہ جہاد کرتے ہوئے شہید  ہوجانے والوں پر اللہ رب العزت کی طرف سے انعامات کی برسات ہوتی ہے۔ سب سے بڑا انعام "شہید مرا نہیں کرتے بلکہ وہ زندہ ہوتے ہیں" جیسا کہ قرآن کریم میں  اللہ رب العزت شان مجاہد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

"جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید  ہوگئے انہیں مردہ  مت کہو۔ یہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس کھاتے پیتے ہیں" 

 جہاد کے لئے عملاً شریک ہونا اور نہ ہونے پر  جہاد ومجاہدین کے لئے راتوں کو اٹھ اٹھ رونا، تڑپنا، آہ و زاری کرنا گڑگڑانا رب سے توفیق مانگنا۔دل کو جذبہ جہاد سے منور رکھنا بہت بڑی سعادت کی بات ہے اور جہاد کی خواہش ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔سب سے بڑی خوش نصیبی اس شخص کی ہے کہ جو میدان جنگ میں جائے اور اللہ کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے۔میرے آقا مدنی کا شوق جہاد تو دیکھیے آپ فرط جذبات اور ملاقات خالق لم یزل کو پانے کے لئے فرماتے:

"لودت ان اقتل فی سبیل اللہ ثم أحی ثم اقتل ثم أحی ثم اقتل ثم أحی ثم اقتل "

     اللہ اکبر کبیرا۔آقا مدنی کا جذبہ جہاد تو دیکھیے فرماتے ہیںکہ میں قتل کر دیا جاوں اللہ کی راہ میں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر قتل جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کر دیا جاؤں۔

 جہاد تو بہت بڑا عمل ہے اور اہم ترین فریضہ ہے۔جہاد وہ نعمت عظمیٰ ہے جس سے کفر کا فساد ختم ہوتا ہے اور اللہ کا قانون نافذہوتا ہے۔ جہاد تو اس پروردگار عالم کا فرمان عالی ہے جو تمام چیزوں سے بے نیاز ہے اسی کے لئے بادشاہت ہے آسمانوں اور زمینوں میں۔ اس کے سوا کوئی موجود نہیں۔ وہی خالق و مالک، مختار کل ہے۔وہی رب تعالی اپنے کتاب جو حق و باطل میں فیصلہ کرنے والی ہے نبی  اکرم شفیع امت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یا أیہا النبی حرض المومنین علی القتال..

"اے نبی!آپ مؤمنین کو جہاد کے لئے تیار کیجیے "

حکم الہی سنتے ہی میرے آقا مدنی اطاعت خداوندی کرتے ہوئے کمر بستہ ہوگئے۔ مدینے کی در ویوار سے بلند ہونے والی صداؤں حی علی الجہاد اور یاخیل اللہ ارکبی نے کفر کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی۔ بت کدوں میں زلزلہ آگیا اور بتوں کے منہ سیاہ پڑگئے ۔ کفار کے دل تھرتھرانے اور خوف و ہراس سے ان کے قدم لرزنے اور لڑکھڑانے لگے۔ اسلام کا بول بالا ہونے لگا۔کب؟؟؟ جب میرے نبی الملاحم بدر کے میدان میں گئے۔ احد کے پہاڑوں میں کلمہ لا الہ اللہ پر اپنے جانثاروں کو شہادت کا رتبہ دلایا۔ آقا مدنی نے خندق کی مٹی اٹھائی۔ حنین کے ریگستان میں نعرہ تکبیر بلند کر کے اسلامی پرچم لہرایااور یہ جہاد رُکا نہیں۔ چلتا رہا آقا مدنی کے اس دنیا سے پردہ فرما لینے کے بعد صحابہ کرام سے لیکر آج تک نبی کا جہاد زندہ ہے اور ان شاء اللہ  قیامت کی صبح  تک جاری و ساری رہے گا۔صحابہ کرام کے دلوں میں شوق جہاد کا دریا موجزن تھا۔ دین کی سربلندی کے لئے انہوں نے تن، من، دھن سب وار دیا اور دین اسلام کو ہم تک صحیح سلامت پہنچایا۔ آج ہمارے پاس دین اسلام آقا مدنی کے شاگردوں یعنی اصحاب نبی کریم کی بدولت ہے جنہوں نے کفار سے جہاد کرکے دین اسلام کو ان کے ناپاک اور غلیظ نگاہوں سے بچا کر سارا کا سارا دین جس میں کوئی شبہ تک نہیں ہم تک پہنچایا۔ تو مسلمانو!  تم کیوں غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ہو۔

 آج  آقا مدنی کی ناموس کی پامالی کی جا رہی ہے۔احکام خداواندی کا کوئی پاس نہیں۔امہات المؤمنین اور بنات رسول کی عزت پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ اصحاب نبی کو برا بھلا اورنعوذ باللہ گالیاں دی جا رہی ہیں۔ مسلمانان اسلام پر ظلم و ستم کا بازار گرم ہے۔ ماؤں بہنوں کی عصمتیں محفوظ نہیں۔ ہر طرف مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ہم ہیں کہ بے حس ہوتے جارہے ہیں۔

مسلمانو!بیدار ہو جاؤ۔روز قیامت اللہ رب العزت کو کیا جواب دو گے۔ آقا کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ وہاں نہ کوئی بہانہ چلے گا نہ ہی سفارش اور سفارش چلے گی بھی  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔بتاؤ کس منہ سے سفارش کا کہو گے۔؟

 ہے کوئی جواب۔؟

کوئی جواب نہیں سوائے شرمندگی کے۔تو مسلمانو اٹھ جاؤ خواب غفلت سے اور بیعت جہاد کرلو۔یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جنت لے کر جانے کا رہنما ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے۔"جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔"

اللہ پاک ہم سب کے دلوں کو جہادی کرنوں سے روشن فرما دے اور ہمیں عملی جہاد کرنے کی توفیق  و سعادت عطاء فرمائے۔آمین

٭…٭…٭