Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کش کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال…؟ (قادرخان یوسفزئی)

مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کش کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال…؟

قادرخان یوسفزئی (شمارہ 665)

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک مرتبہ پھر اقوام عالم کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج نے باندی پورہ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کرتا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ 2017 میں بھی سامنے آیا تھا اور اس وقت کے ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے بین الاقوامی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ قابض بھارتی انتہا پسند فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے حوالے سے تحقیقات کے مطالبے پر بھارت نے ابھی تک کوئی تردید بھی جاری نہیں کی۔بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو پاکستان سے محبت کرنے کی پاداش میں بہیمانہ طریقے سے مسلم نسل کشی کی پالیسی و اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر سفارتی سطح پر باقاعدہ بھارتی قابض افواج پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا سنگین الزام عاید کیا ہے۔ پاکستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے قابض بھارتی افواج پر کیمیائی ہتھیاروں کا نہتے کشمیری مسلمانوں پر استعمال کرنے کا الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں ۔جس کی تحقیقات کے لئے عالمی برادری سے مطالبہ بھی کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے اسرائیلی پیلٹ گنز کا اندھا دھند استعمال کرکے سینکڑوں نہتے کشمیریوں کو بینائی سے محروم اور اپاہج بنانے کی روش اپنا رکھی ہے تو دوسری جانب اسرائیل اور امریکا سے حاصل کردہ کیمیائی ہتھیاروں کو بھی مقبوضہ کشمیر میں استعمال کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی جانب سے سوشل میڈیا میں بھارتی جرائم کو بے نقاب کئے جانے پر مودی حکومت نے جہاں گورنر راج نافذ کیا تو دوسری جانب اعلانیہ مقبوضہ کشمیر فوج کے حوالے کرکے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا۔عالمی قوانین کے تحت دوران جنگ بھی کسی قسم کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ کیونکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے وسیع پیمانے پر انسانی ہلاکتوں کے ساتھ دیگر مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بھارت اس وقت پاکستان کے خلاف ایک کھلی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اپنے جنگی عزائم کی تکمیل کے لئے امریکا اور اسرائیل سے تباہ کن ہتھیار، اسلحہ بارود کے ذخائر جمع کررہا ہے۔ کولڈ اسٹارٹ (ملٹری ڈاکٹرائن) پر عمل پیرا بھارت کے جنگی جنون نے پورے خطے کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی نوازشوں سے بھارت اپنے جنگی عزائم میں شدت پیدا کررہا ہے اور اس کے اس جنونی کھیل میں جہاں ایک طرف بھارتی میڈیا اپنی عوام میں نفرت کو فروغ دے رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان سے جنگ چھیڑنے کی صورت میں اقوام عالم کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کررہا ہے۔یہ امر باعث تشویش ہے کہ بھارت اس وقت پوری دنیا میں اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔ امریکا ، اسرائیل کے علاوہ روس سے بھی جدید میزائل اور ہتھیار خریدنے کے معاہدوں سے بھارتی جنونیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

قابض بھارتی فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ، بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی سرجیکل سڑائیکس کی گیڈر بھبکیاں اور سرپرائز جنگ مسلط کرنے بڑھکیں ، مودی حکومت کی مذموم سازشوں اور عزائم کو عیاں کررہے ہیں۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ بھارت یہ سب کچھ چھپ چھپا کر کررہا ہو ، بلکہ وہ علیٰ اعلان دہشت گردی کو جاری رکھنے ، پاکستان میں نام نہاد علیحدگی پسندوں کی فنڈنگ اور سہولت کاری سمیت مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) میں فوجی مداخلت کا اعتراف کرچکا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو اپنی فتح سمجھتا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے بھارتی جنونیت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستان کی نفرت میں اتنا آگے نکل چکے ہیں جہاں اُن کے نزدیک انسانیت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

پاکستان بار بار اقوام عالم کو بھارتی جنگی عزائم کے مضر اثرات سے آگاہ کررہا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے سفاکانہ استعمال کی بھی نشاندہی کی ہے۔ لیکن عالمی قوتیں اپنے ذاتی مفادات کے لئے چپ سادھ رکھی ہے۔ حالانکہ امریکا نے کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کر عراق پر حملہ کیا تھا اور عراق میں لاکھوں انسان مخصوص مفادات کے لئے غلط رپورٹ کی بھینٹ چڑھ گئے۔  بھارتی حکومت مسلسل جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔

2017کے بعد دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال نے ان خدشات کو بڑھا دیا ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون میں انسانیت کش کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کرے گا جس کا جواب پاکستان کو اُسی کی زبان میں اپنی ایٹمی طاقت کے ذریعے دینا ہوگا۔ کیونکہ اس بار پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی جنگ روایتی نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک ایسی ایٹمی جنگ ہوگی جس میں لاکھوں انسانوں کا ایٹمی جنگ کا سامنا ہوگا ۔ جس کی ذمے داری انتہا پسند بھارت پر عائد ہوگی۔

لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ ، گولہ باری اور نہتے شہریوں کو نشانہ بناکر شہید کرنے کا واحد مقصد پاکستان کو اشتعال دلانا ہے ۔ لیکن پاکستان ، بھارت کی سازش کو سمجھ چکا ہے ۔ پاکستان عالمی برادری کو بروقت بھارتی جنگی عزائم سے باخبر رکھتا ہے اور بار بار بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کئے جانے پر آگاہ کرتا رہتا ہے۔ اسی ضمن میں گذشتہ دنوں وزارت خارجہ کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ بھارت نے دوبارہ مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔اس سے قبل جولائی2017ء میں بھی پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ قابض بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کروائی جائیں- اُس وقت کے ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انکشاف کیا تھا کہ ہمانو اور کاکپورہ میں بھارتی فورسز کے تباہ کیے گئے گھروں سے ملنے والی کشمیری نوجوانوں کی لاشیں اتنی بری طرح جلی ہوئی تھیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی تھی۔2018میں باندی پورہ میں دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے پر پاکستان نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو جنگی جنون سے روکے ۔2017اور2018میں پاکستان نے عالمی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ اگر بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور کیمیکل ہتھیاروں کے کنونشن کی خلاف ورزی ہوگی۔ بھارت کی اشتعال انگیزیاں اور سرجیکل اسٹرائکس کے جھوٹے دعوؤں سے بھارت کی غیر سنجیدگی عیاں ہے، کیونکہ ایسے دعوے خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔

بھارت جنگی جرائم کو چھپانے کے لئے پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا میں مصروف ہے اور مذاکرات اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے بجائے فرار کی راہ اختیار کرتا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں شہادتوں پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کا خیر مقدم کیا تھا لیکن بھارت نے اس سے بھی فرار کی راہ اپنائی۔ مقبوضہ کشمیر میں گھر گھر تلاشی کے بہانے نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ شہید ہونے والے نوجوانوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں، آزادی کے نعرے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہیں جو بھارت کے لئے ناقابل برداشت عمل بن جاتا ہے۔

کشمیری مسلمانوں کا یہی جرم ہے کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنا معیاری وقت پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رکھا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں پر ظلم اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے مظاہروں و احتجاج میں پاکستان کا پرچم اٹھا کر بھارت سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ شہید ہونے والے کشمیری نوجوان کو پاکستان کے پرچم میں دفن کرتے ہیں ۔ قبر کے چہار اطراف پاکستانی پرچم سے سجاتے ہیں۔ جب قابض فوج قبر سے پاکستانی پرچم ہٹاتی ہے تو شہدا کے ورثا دوبارہ قبر کو پاکستانی پرچم سے ڈھانپ دے دیتے ہیں۔ بھارت کے لئے ناممکن ہوگیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی آزادی کی تحریک کو کچل سکے ۔حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھی احتجاج کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوج نے بانڈی پورہ میں سرچ آپریشن کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کیے، شہید نوجوان کا چہرہ مسخ ہوا تو غیرملکی حریت پسند قرار دے کر دفنا دیا۔علی گیلانی نے انٹرنیشنل کرمنل ٹریبونل سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔قابض فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شروعات بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل کے بعد ہوئی ۔ 2017میں پلوامہ کے علاقے بہمنو میں بھارتی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے تباہ کیے گئے تھے۔ 4 مکانوں کے ملبے سے 3 کشمیری نوجوانوں جہانگیر کھانڈے، کفایت احمد اور فیصل احمد کی جھلسی ہوئی لاشیں ملی تھی، نوجوانوں کی میتیں اس حد تک جھلس گئی تھیں کہ وہ ناقابل شناخت ہو چکی تھیں۔بھارتی جارحیت کے بعدہزاروں افراد نے شہید نوجوانوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد بھارتی فوج کے خلاف سخت مظاہرے کیے، جبکہ قابض فوج کی جانب سے پامپور کے علاقے کاکا پورہ میں بھی 3 نوجوانوں کو شہید اور مکان کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا تھا۔نوجوانوں کی شہادت کے بعد کشمیر بھر میں بھارت کے خلاف شدید مظاہرے کیے گئے، جن میں بچوں اور خواتین نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہیں ۔

 عالمی برادری کو بھارتی جنگی جنونیت سے روکنے کے لئے اقدامات کرنا ہونگے۔ورنہ کشمیری اب اقوام عالم سے مایوس ہو کر خود بندوق اٹھا چکے ہیں اور وہ آزادی کی راہ پر آئی ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor