Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیرات کے ساتھ بدسلوکی (محمد فیض اللہ جاوید)

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیرات کے ساتھ بدسلوکی

محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 667)

اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کو سنگین سزائیں دینے کے لیے قائم کردہ عقوبت خانوں میں جہاں مرد، بوڑھے اور بچے پابند اسلاسل ہیں وہیں ان زندانوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی خواتین بھی پابند سلاسل ہیں۔حال ہی میں اسرائیلی اخبار "ہارٹز" نے اپنی ایک رپورٹ میں "الجلمہ" جیل میں قید فلسطینی خواتین کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر روشنی ڈالی۔ اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید خواتین کو ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی تشدد کے مکروہ حربوں کے ساتھ ساتھ منظم انداز میں جنسی ہراسانی جیسے سنگین جرائم کا بھی سامنا ہے۔

اخباری رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے "شاباک" نے جیلروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ بلا تفریق مردو خواتین فلسطینی قیدیوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے ساتھ ساتھ جیلوں میں ان کے کپڑے اتار کر ان کی عریاں تفتیش کی جائے۔اخباری رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ تین سال پیشتر اسرائیلی فوج کی جانب سے متعدد فلسطینی خواتین کو حراست میںلیا تھا۔ ان پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی معاونت جسے صہیونی فوج "دہشت گردی" کا نام دیتی ہے کا الزام عاید کیا۔

اسرائیلی اخبار نے لکھا ہے کہ صہیونی انٹیلی جنس ادارے "شاباک" کی جیلوں میں قیدیوں سے بدسلوکی کی چھان بین کرنے والی یونٹ کو خواتین اسیرات کی طرف سے ایک ہزار سے زاید شکایات کی گئی ہیں، مگر ان میں سے آج تک کسی ایک شکایت کا بھی ازالہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کا نوٹس لیا گیا۔صہیونی اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیرات کے ساتھ ہونے والی منظم بدسلوکی اور جنسی ہراسیت پر اسرائیل کے اعلیٰ سیکیورٹی ادارے اورحکومت ٹھوس شواہد کے باوجود خاموش ہیں اور ایسی سنگین نوعیت کی شکایات کا بھی کوئی نوٹس  نہیں لیا جا رہا ہے۔

شاباک کے جنگی جرائم

عبرانی اخبار "ہارٹز" نے اپنی رپورٹ میں صہیونی فوج کے ایک ذمہ دار ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید خواتین سے جنسی ہراسانی کے کیسز کی تحقیقات کے لیے وزارت قانون کے زیراہتمام ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی مگر اس نے کسی قسم کی تحقیق کے بغیر ہی اپنا کام روک دیا۔ ادھوری تحقیقات کے نتائج اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کو سپرد کیے گئے مگر ان پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ ایام میں شاباک کے فلسطینی اسیرات کے ساتھ غیرانسانی سلوک کے ٹھوس شواہد کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان تفصیلات کے مطابق فلسطینی خواتین سے تفتیش کے لیے نہ صرف خواتین تفتیش کاروں کو مقرر کیا جاتا ہے بلکہ ان کی معاونت کے لیے اسرائیلی مرد تفتیش کار بھی موجود ہوتیہیں۔ تفتیش صہیونی شیطانوں کو اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کا ایک بہانہ ہوتاہے اور وہ فلسطینی خواتین سے تفتیش کی آڑ میں ان کے جسم کے حساس حصوں کو بھی چھونے سے گریز نہیں کرتے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ادرے شاباک کے شکایات سیل نے ایک سابقہ فلسطینی اسیرہ "جان مودزغفریشفیلی" کی تفیتش کے دوران اس کی جنسی ہراسیت کے کیس کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینی اسیرات کو منطم انداز میں جنسی ہراسیت کا سامنا رہتا ہے۔ صہیونی فوجی اہلکار خواتین قیدیوں کے جسم کے نازک اور حساس حصوں کو چھونے اور ان کے ساتھ غیرمہذب انداز میں باتیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہ صرف عالمی قانون بلکہ اسرائیلی قانون کے تحت بھی ایسا کرنا جنسی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس ادارے کے اہلکار خواتین اسیرات سے تفتیش کے دوران اختیارات کا غیرقانونی اور ناجائز استعمال کرتے ہیں۔

جسمانی تفتیش

اخبار"ہارٹز" کے مطابق سنہ 2015ء میں اسرائیلی فوج نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فلسطینی خواتین کے ساتھ جیلوں میں ہونے والی شکایات کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے کی جانب سے غرب اردن سے ایک فلسطینی خاتون کو پکڑا گیا جس پر فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ تعاون اور انہیں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں تفتیش کیوحشیانہ عمل سے گذارا گیا۔اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی تفتیش کاروںنے فلسطینی اسیرہ کے گھر پرچھاپے کیدوران اس کا آئی پیڈ اور موبائل فون بھی قبضے میں لیا اور ان میں موجود معلومات کی بنیاد پر فلسطینی مزاحمت کاروں کو تلاش کرنے کی مہم شروع کی گئی۔

اسرائیلی فوج آدھی رات کو فلسطینی لڑکی کے گھر میں داخل ہوئی۔ فوجیوں میں خواتین اہلکار بھی تھیں مگر اسرائیلی فوجیوں نے آگے بڑھ کر فلسطینی خاتون کو پکڑنے اور اس کے جسم کے حساس حصوں کو چھونے کی مذموم کوشش کی۔خیال رہیکہ اسرائیلی زندانوں میں 56 فلسطینی خواتین پابند سلاسل ہیں  ان خواتین کو دوران حراست منظم، جسمانی ، جنسی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor