Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

علم دین اور تزکیۂ نفس کی قدر و قیمت… دنیوی ، عقلی اور مادی لحاظ سے (۱) (رضوان چوہان)

علم دین اور تزکیۂ نفس کی قدر و قیمت… دنیوی ، عقلی اور مادی لحاظ سے    (۱)

رضوان چوہان (شمارہ 675)

تمہید

آج کے مسلمان نے سمجھا کہ بچے کو مدرسے میں داخل کروانے کا اس کی دینی و اصلاحی تعلیم و تربیت کا مطلب ہے اسے بھوک مارنا کہ وہ کھانے کمانے کے لائق نہ رہے گا معاشرے میں اس کی کوئی قدر و قیمت اور حیثیت نہ ہوگی جب کہ کیمبریج سسٹم میں پڑھنے والے یا آکسفورڈ اور ہاورڈ سے سند لے کر آنے والے منزلوں پر منزلیں مارتے چلے جائیں گے یہ الگ بات ہے کہ مدرسے میں پڑھنے والا نیک دیندار بن جائے گا لیکن دنیوی طور پر وہ ناکام و نامراد رہے گا جب کہ اعلی عصری و انگریزی تعلیم حاصل کرنے والا بچہ منصب بھی حاصل کر لے گا اور مال بھی ، جی ہاں لا شعوری طور پر بھی سہی ہماری یہ سوچ ضرور ہوتی ہے اور کسی حد تک یہ سچ بھی ہے لیکن مکمل سچ نہیں ہے اب یہ بات مکمل درست کیوں نہیں ہے اس پر گفتگو اور اس کا تجزیہ تفصیل طلب ہے عموما دینی مدارس کے جوان دنیوی طور پر یا مالی و منصبی لحاظ سے عصری تعلیم یافتہ جوانوں سے آگے نہیں ہیں پھر عصری تعلیم یافتہ جوان کیا خوبیاں اور خامیاں حاصل کر لیتے ہیں اور ان خوبیوں خامیوں کے پیچھے کیا عوامل ہیں اس پر بھی روشنی مطلوب ہے اسی طرح دینی تعلیم حاصل کرنے والے جوان کیوں کر عصری تعلیم یافتہ جوانوں کی رفتار سے پیچھے ہیں اور ان کی خوبیوں خامیوں یا کامیابی و ناکامی کے پیچھے کیا وجوہات ہیں کیا عوامل ہیں اس پر بھی بات کر کے کچھ اس معاملے کو سمجھا جائے غرض یہ کہ اس مضمون کو لکھنے کا جو مقصد ہے کہ دینی تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس کی دنیوی اور مادی لحاظ سے قدر و قیمت بیان کی جائے کہ ہماری عقول اس تہذیب کے سانچے میں قید ہو کر رہ گئی ہیں جس میں ہمارے شعور مالی فوائد و مادی ترقی کا وزن ہی قبول کرتے ہیں اور جنت جہنم پر ایمان رکھنے کے باوجود ہمارے شعور انہیں وہ وزن اور وہ وقعت نہیں دیتے جو قدر و اہمیت ہم دنیوی کامیابی کے پیمانوں کو یا لاکھوں کروڑوں کے قصیدوں کو دیتے ہیں اس کم علم کی غرض و غایت یہی ہے کہ ہم عقلی و مادی لحاظ سے بھی دنیا میں کامیابی کا معیار اور اس کے لئے دینی تعلیم اور تزکیہ نفس کی اہمیت سمجھ سکیں تاکہ شاید ہمارا رحجان اس طرف زیادہ ہو جائے اور ہم حقیقی کامیابی کی طرف سفر شروع کر دیں.

ہماری دو رنگی تہذیب اور

 ہمارا عصری تعلیمی نظام

ہمارے نظام و انتظام میں ہماری تہذیب و سماج میں ہماری فکر و عمل میں عجیب و غریب قسم کی کھچڑیاں اور دو رنگیاں ہیں کہیں ہماری خوبیوں کو ہماری خرابیاں داغدار کر جاتی ہیں تو کہیں ہماری خامیوں کو ہماری خوبیاں ڈھانپ لیتی ہیں کہیں کچھ کامیابیاں ہیں تو کہیں کچھ ناکامیاں لیکن مجموعی طور پر ناکامیوں کا تناسب غالب ہے شر ہے کہ پھیلتا چلا جا رہا ہے اور خیر ہے کہ اس کی لو ٹمٹما رہی ہے آپ یقین کیجیے کہ ہمارے درمیان جو خیر ہے وہ ہمارے دین اور کچھ تہذیبی و سماجی خوبیوں کے سبب ہے اور اقوام عالم میں بھی جو خیر باقی ہے اس کا سبب بھی یہی ہے کہ ان کی دینی و سماجی خوبیاں اندھیروں کے آڑے آرہی ہیں ورنہ آکسفورڈ ، ہاورڈ ، کیمبرج اور ہمارے عصری تعلیمی نظام میں نہ ہی ماں باپ کی خدمت اور اطاعت سکھائی جاتی ہے نہ بیوی بچوں کو سکھ دینا ان کی صحیح طرح ذمہ داری نبھانا، اسے اخلاص دیانتداری لحاظ مروت ہمدردی اپنائیت کسی خوبی سے واقفیت نہیں ہے وفاداری کیا ہوتی ہے اسے نہیں معلوم ، یہ ہمیں پڑوسیوں کے نوکروں کے حقوق نہیں سکھاتی یہ بردباری اور درگزر بھی نہیں سمجھاتی یہ راحتیں اور آسانیاں دینا نہیں جانتی اور نہ ہی یہ عزم حوصلہ اور استقامت کا جوہر عطا کرتی ہے جو دنیوی کامیابیوں کے لئے بھی سب سے زیادہ ضروری ہے غرض یہ جو کچھ دنیوی تعلیم یافتہ لوگوں میں خوبیاں ہوتی ہیں یہ ان کے دینی سماجی خاندانی اثر کا خاصہ ہوتی ہیں ورنہ عصری نظام تعلیم میں اخلاقیات کی تھوڑی سی تعلیم دکھاوے کی حد تک ہی ہوتی ہے نہ کہ طالب علموں کی بنیادیں اخلاقیات پر استوار کی جاتی ہیں یہ عصری تعلیم سکھاتی ہے اس کامیابی کا حصول جو شور مچا دے واہ واہ ہٹو بچو کا شور مال و منصب کے چرچے غرض یہ کہ مادیت کے علاوہ اس کے دامن میں کچھ بھی نہیں ہے اس کی معیشت ہو یا سائنس صرف کمانے اور خون چوسنے کے لیے ہے عالمی انسانی فلاح و بہبود سے اس کا کوئی حقیقی لینا دینا نہیں ہے یہ تو قدرت نے ہر قوم کے اندر خیر میں کچھ ایسی طاقت و تاثیر رکھی ہے کہ اس کی روشنی ختم نہیں ہو سکتی چاہے اندھیرا کتنا ہی زیادہ پھیل جائے ایک وقت تھا کہ ہمارے پاس دو رنگیاں نہ تھیں اس لئے عصری اور دینی تعلیم بھی جدا نہ تھی فکر و عمل کے بھی دو رخ نہ تھے تو ہم زمانے کے رہنما تھے عالم میں ہمارا ڈنکا بجتا تھا پوری دنیا نہ نظریے میں ہمارا مقابلہ کرتی تھی نہ طاقت میں، اخلاقیات میں کوئی ہم سے برتر نہ تھا ہمارے اکابرین و اسلاف خاص کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کسی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نہ تھے لیکن دنیا ان کی کامیابیوں پر انگشت بدناں تھی جنگوں کا میدان ہو تو وہ کمزوری کے باوجود فاتح ٹھہرتے تھے فکری میدان ہو تو کسی قوم کا فہم ان کی طرح کامل و مکمل اور آفاقی نہ تھا انتظامی معاملات ہوں تو وہ سب سے بہترین منتظم تھے سیاست ہو تو ان سے زیادہ حکومتی نظم و نسق کس نے بہتر سنبھالا ہوگا کہ بے شمار مفتوح قومیں اور قبائل ان سے راضی و مطمئن تھے وقت کی گھمنڈی اقوام کے دلوں نے ان کا دین ان کی حاکمیت قبول کی ، عدل و انصاف کی بات ہو تو تاریخ میں کوئی ان کا ثانی نہیں گزرا ، گڈ گورنس اور خوش حالی کو دیکھا جائے تو ان کے دور میں کوئی زکوٰۃ لینے والا باقی نہ رہا تھا غیر مسلم بھی ان کی ٹھنڈی چھاؤں محسوس کرتے تھے غرض یہ کہ دنیوی کامیابیوں کے وہ کون سے جھنڈے تھے جو ہمارے اسلاف نے نہ گاڑے ہوں لیکن افسوس کے ساتھ کہ

 آج ہماری مثال ہے کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم.

(باقی آئندہ )

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online