Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

امریکی گورباچوف (قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک)

امریکی گورباچوف

قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک (شمارہ 676)

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات دیکھ کر روسی صدر گوربا چوف کا ایک انٹرویو یاد آگیا جو انہوں نے آج سے تین سال قبل بی بی سی کو دیا جس میں انہوں نے سوویت یونین کے بکھرنیکے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیچھے دھوکہ باز تھے ایک سگریٹ کو جلانے کے لئیپورا گھر جلارہے تھے صرف طاقت کے حصول کے لیے وہ جمہوری طریقے سے حاصل نہیں کرسکتے تھے چنانچہ انھوں نے جرم کیا یہ بغاوت تھی۔انہوں نے مغرب پر الزام عائد کرتے دعویٰ کیا کہ  میں سویت یونین دھوکہ بازی کی وجہ سے ٹوٹا تھا ۔  دسمبر  وہ دن تھا جب سویت یونین کا وجود نہیں رہا۔

 اور اس کے چار دن بعد گوربا چوف نے اپنا استعفیٰ کا اعلان کیا کریملن میں آخری بار سویت یونین کا پرچم اتارا گیا۔

انہوں نے مزید بتا یا کہ ہم خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے تھے اور میں اس سے اجتناب کرنا چاہتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ سویت یونین کا وجود بکھر گیا۔

یہ چند اقتباسات اس انٹرویو سے لینے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس وقت ایسا لگ رہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکا کے لیے امریکی گورباچوف کا روپ دھار رہے ہیں۔ گورباچوف روس کے آخری صدر تھے، جنہوں نے نے شکست کے بعد فوج کو مزید ہلاکت اور تباہی سے بچایا۔ انہوں نے افغانستان میں بدترین شکست کے بعد پہلے افغانستان اور پھر وسطی ایشیا سے اپنے لشکر کو واپس بلا لیا۔ روس کے دماغ سے ہمیشہ کے لیے افغانستان پر جارحیت کے ارتکاب کا خواب رفوچکر ہو گیا۔ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات سے ثابت ہوتا ہے وہ اپنی شکست خوردہ فوج کے انخلا کے لیے غور و فکر کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 2018 کے آخری ٹویٹ میں لکھا تھا کہ میں نے انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے، انہیں پورا کروں گا۔ انہوں نے شام اور افغانستان میں مصروف عمل امریکی فوج کے انخلا کا اشارہ دیا۔

ٹرمپ نے گزشتہ سال کے دوران 3400 ٹویٹ کیے تھے۔ انہوں نے سال کے آخری ٹویٹ میں جو کچھ واضح کیا، وہ کٹھ پتلی حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ اور خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کی زندگی اور موت، بقا اور فنا امریکی غلامی سے وابستہ ہے۔ وہ خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی عوام کے مفاد کے لیے سوچتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا  میں نے انتخابی مہم کے دوران عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ منتخب ہونے کے بعد شام اور دیگر ممالک سے اپنی فوج کے انخلا کا اعلان کروں گا۔ مگر جھوٹے میڈیا اور ناکام جرنیلوں نے میرے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ میں وہ کچھ کروں گا، جس کا میں نے وعدہ کیا تھا۔

اگرچہ ٹرمپ نے دو سالہ دور حکومت میں اپنے ٹویٹس میں بہت ڈرامائی اعلانات کیے۔ مثلا افغانستان کے لیے نئی جنگی حکمت عملی، مادر بم کا استعمال، اپنے جرنیلوں کو جارحیت کے لیے مزید اختیارات دینا، فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا، چھ ماہ میں افغان جنگ فتح کرنا، طالبان کو بزور طاقت کابل انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر مجبور کرنا وغیرہ، مگر سال کے آخری ٹویٹ میں حیرت انگیز طور پر اعلان کیا کہ انہوں نے پہلے ہی سے تیاری کر رکھی ہے اور انتخابی مہم کے دوران عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا ۔ دو سالہ حکمرانی میں جرنیلوں نے انہیں ورغلانے کی کوشش کی تھی، مگر اب وہ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کریں گے۔

امارت اسلامیہ نے پہلے ہی ٹرمپ اور امریکی عوام کو خطوط کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی، مگر ٹرمپ اپنے ناکام جرنیلوں کے زیراثر آگئے۔ جنگ میں شدت لانے اور امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا ٹویٹ کیا۔ یہی وجہ ہے ٹرمپ نے اپنی فوج کی شکست کا خود مشاہدہ کیا اور اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔ امریکی جرنیلوں اور کٹھ پتلی حکمرانوں کی باتوں کو نظر انداز کر دیا۔ اس لیے انہوں نے سال کے آخری ٹویٹ میں فوج کے انخلا کا اعلان کیا اور ان لوگوں کا پروپیگنڈا مسترد کر دیا، جو ان کے موقف کو غلط سمجھتے تھے۔ انہوں نے فوج کی واپسی کے اعلان سے پہلے واضح طور پر اپنی انتظامیہ سے کہا کہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے پالیسی طے کریں گے۔ ناکام جنگ کو دوام بخشنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے افغان تنازع کا حل چاہتے ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ یہ اقدام امریکا اور افغان عوام کے لیے مفید ہے۔

ان حالات کو دیکھ کر اب یہی انداز ہوتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی قوت ان قریب دوبارہ غالب آجائے گی ۔

جو حالات بنیہوئے ہیں ان سے افغان حکومتی اہلکار بھی اس طرف اشارہ دے رہے ہیں اور حال ہی میں امریکی جنرل میلر کا سی این این کو دیا گیا انٹر ویو ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ افغانستان میں جاری جنگ نہیں جیت سکتے. انہوں نے مزید کہا کہ ہم افغانستان میں فتح حاصل کرنے کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ہیں. جنرل میلر کی طرح بہت سے امریکی جرنیل اور پالیسی ساز یہ تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی تاریخ کی طویل جنگ پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے. طالبان مضبوط ہو رہے ہیں. ان کے زیرکنٹرول علاقوں میں اضافہ ہو رہا ہے. اس کا مطلب ہے امریکا افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے. یہ الگ بات ہے کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے راہ فراہ اختیار کر رہا ہے. کبھی ثالث کا کردار ادا کرنے کا روپ دھارتا ہے اور کبھی غیرذمہ دارانہ باتیں کرتا ہے

سترہ برس سے افغان عوام نے امارت اسلامیہ کی قیادت میں لازوال قربانیاں دی ہیں. افغان عوام قابض فوج کی جارحیت کے خلاف اور آزادی کے لیے برسرپیکار ہیں. 17 برس کے دوران انہوں نے ہر قسم کے ظلم و جبر اور تشدد کا سامنا کیا ہے. اس کے باوجود وہ اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئے. یہ ثابت ہوا کہ وہ غلامی کے سو سال سے آزادی کا ایک دن بہتر سمجھتے ہیں. امریکا کو چاہیے وہ زمینی حقائق تسلیم کرے. غیرضروی اخراجات نہ کرے. امارت اسلامیہ نے قیام امن اور جنگ کے خاتمے کے لیے جو نقشہ پیش کیا ہے, اس کو سمجھنے کی کوشش کرے. ہم نے بارہا کہا ہے افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے. اگر اس کے باوجود امریکا بہانہ تلاش کر رہا ہے اور اپنے ناجائز قبضے کو دوام بخشتا ہے تو ہم اپنے جائز حقوق، اقدار اور دھرتی کی آزادی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے. امریکا یاد رکھے ہم.قیامت کی صبح تک جہاد سے تھکنے والے نہیں ہیں. اس مزاحمت کو جاری رکھنے کے لیے ہمارے حوصلے بلند ہیں

امریکا جن سیاسی اور فوجی شعبوں میں سب سے زیادہ مقبول ہونے کا دعوی کرتا ہے, اس کو چاہیے وہ مزید ناکام تجربات دہرانے کی کوشش نہ کرے. جلد از جلد افغانستان سے انخلا کرے ایسا نہ ہو کہ تاریخ پھر اپنے آپ کو دوہرائے اور سویت یونین کی طرح یونائیڈ سٹیٹ آف امریکہ بھی بکھر جائے اور امریکی عوام کو ایک اور گوربا چوف مل جائے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online