Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ڈالروں کی خاطر (قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک)

ڈالروں کی خاطر

قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک (شمارہ 677)

آج جب سوشل میڈیا پیج کھولا توافغانستان سے تعلق رکھنے والے فیس بک پیچ مشعل افغان ویب پانہ ( ویب صفحہ ) پر ایک ویڈیو کلپ دیکھا جو کہ افغان اے ٹی آرنیوز ٹی وی چینل کے پروگرام نگرش سے لیا گیا تھا جس کا موضوع تھا حمایت امریکہ از روند صلح افغانستان جس کا ترجمہ کچھ اس طرح بنتا ہے کہ امریکہ کا امن عمل افغانستان میں اس پروگرام میں ایک افغان دانشور نے اینکر کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ جنگ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہے اور امریکہ جس رعب اور دبدبے کے ساتھ شامل ہوا تھا اب وہی امریکہ چیخیں مار رہا ہے کہ میں اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہوں چاہیے تو یہ تھا کہ کوئی تیسرا فریق ان دونوں کوصلح کے لئے بیٹھا تا لیکن یہ تو خود امریکہ براہ راست ان سے مذاکرات کر رہا ہے جو کہ ظاہری طور پر امریکی شکست ہے اور وہ اپنی شکست تسلیم کر چکا ہے آج ان کی منتیں اس کا واضح ثبوت ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ افغان حکومت اپنا وقار کھو چکی ہے اس کی بڑی وجہ ہماری بے اعتمادی ہے ہمارے اعمال ہی کچھ ایسے تھے کہ ہم نے اپنا تشخص ختم کردیا ہم دنیا سے ڈالر کھاتے رہیں اور دکھاوے کے طور جعلی طالبان بنا کر انہیں حکومت کے سامنے تسلیم کرواتے رہیں، آج دنیا کو ہمارے اوپر کوئی اعتماد نہیں اسی وجہ سے نہ صرف طالب بلکہ کوئی بھی دوسرا ملک حتیٰ کہ امریکہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ۔ طالب نے ان سترہ سالوں میں وہ مقام حاصل کر لیا جو ہمیں ابھی تک حاصل نہیں ہے ۔

طالب وہ طالب نہیں رہے جو آج سے سترہ برس قبل تھے انہوں نے حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی سفارتی سطح پھر دیگر ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کیے ہیں جبکہ ہمارے سفیرحکومت میں رہتے ہوئے بھی اپنے سفارتی تعلقات کو بحال نہ کر سکے ہمارا اگر عالم ہے یا سیاست دان اس نے صرف اور صرف دھوکہ ہی دیا ہے جب کہ طالبان نے اپنے اصولی موقف کو اپناتے ہوئے پوری دنیا میں افغان قوم کی ترجمانی کی ہے انہوں نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا انہوں نے ڈالر نہیں لیے بلکہ میدان میں ڈٹے رہے جب اس افغان دانشور نے یہ بات کی کہ انہوں نے ڈالر نہیں لیے تو ذہین میرا فورا سترہ برس قبل چلا گیا جب امریکہ  افغانستان پر حملہ آور ہوا تو اس وقت طالبان نے کٹھ پتلی حکومت کے دورہنماوں کو گرفتار کیا تھا جن میں عبدالحق اور حامد کرزئی شامل تھے عبدالحق کو تو طالبان نے پھانسی دے دی لیکن حامد کرزئی کو امریکیوں نے طالبان کے قید سے آزاد کروا لیا تھا جس پرامریکیوں نے اور ہمارے کچھ اپنے روشن خیالوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کر لیا کہ ڈالروں کے سامنے کوئی ٹھر نہیں سکتا اور طالبان بھی ڈالروں کی چمک دیکھیں گئے تو پھسل جائیں گئیں اس وقت مجھے اچھی طرح یاد ہے بہت سے ایسے لوگ جو بظاہر طالبان کے حامی لگتے تھے لیکن وہ بھی ایسی باتیں کرنے لگے کہ طالبان بھی ڈالروں کے آگے بے بس ہیں لیکن سلام ہے ملا محمد عمر مجاھد کے تربیت و فراست پر جس نے اس وقت ہی کہہ دیا تھا کہ اب فیصلہ ہوگا کون حق کے ساتھ ہے اور کون باطل کے ساتھ بہت سے لوگ اب ہم سے چلیں جائیں گے لیکن ہم اپنے نظریئے اور اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گئے جنہوں نے ساتھ دینا ہے دے اور جنہوں نے جانا ہے وہ چلیں جائیں ہم نے دیکھا بہت سے لوگ اس وقت ملا محمد عمر مجاھد کا ساتھ چھوڑ گئے لیکن یہ اللہ کا ولی ،ایک سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مداح صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے دین پر قائم رہا اور یہ بات سچ ثابت کر دی کہ اگر ایک بالشت زمین بھی میرے پاس رہی تو شریعت قائم کروں گا تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا اور ملامحمد عمر مجاھد کی استقامت جیت گی بے شک آج وہ ہم میں نہیں ہے لیکن ان کا نظریہ زندہ ہے اور اس پر قائم رہنے والے دنیا میں سرخورو ہو رہے ہیں اور جنہوں نے مخالفت کی تھی آج وہ شرمندہ ہیں اورطالبان کے نظرئیے کے حامی ہیں ۔ اس کی مثال اگر آپ نے دیکھنی ہے تو افغان چینل دیکھیں یا پھر افغانستان میں عوام کا ردعمل دیکھیں جو اب کھول کر طالبان کے گن گا رہے ہیں اور کٹھ پتلی حکومت کو ملامت کر رہے ہیں۔

حالات پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ طالبان کی ثابت قدیمی سے اس دنیا میں جلد ہی کوئی نیا انقلاب آنے والا ہے جس سے باطل قوتیں اپنا دم تھوڑ دیں گی اور ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے جس میں شریعت کی مہک ہو گی اسلام کی سربلندی ہو گی آج استقامت امارت اسلامیہ نے ثابت کر دیا کہ جو ڈالروں کے خاطر جیا وہ رسوا ہو ذلیل ہوا اور ذلیل ہو رہا ہے  جو دین اسلام کی خاطر جیا وہ سرخورو ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا توہمیں بھی ان واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ حالات  بدل جاتے ہیں لیکن کامیاب صرف وہی ہوتے ہیں جو اپنے نظریات پر قائم رہتے ہیں ثابت قدم رہتے ہیں آج ہمارے سامنے امارت اسلامیہ کی مثال زندہ ہے انہوں نے ڈالروں کے خاطر اپنے ایمان کو فروخت نہیں کیا تو وہ قابل قدر ہیں قابل احترام ہیں اور جنہوں نے ڈالروں کی خاطر اپنے آپ کو فروخت کیا آخرت تو ان کی خراب ہی ہے لیکن دنیا میں بھی ذلت ان کا مقدر بن چکی ہے اور ڈالر دینے والے ہی ان کو ذلیل کر رہے ہیں کیا فائدہ ہوا وقتی طور راحت لیکن مستقل طور پر زحمت واقعی مقام عبرت ہے لیکن کیا کریں جب شعور پر پردے پڑے ہوں اور دنیا کی طلب مطلوب ہو تو طالب کے عمل سے دوری ہی ہوگی جب طلب راضی الہیہ ہو اتباع سنت ہو کردار صحابہ ہو توظاہری دنیا نہ بھی ہو لیکن سکون ہو گا پریشانی نہ ہوگی کامیابی آپ کے قدموں میں ہو گی ۔ یہ کامیابی نہ صرف اس جہاں کی ہے بلکہ آخرت کی بھی ہے اللہ رب العزت ہمیں بھی استقامت اور دن اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor