Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’دعا ایسے مانگیں ‘‘(سمیع اللہ شاہ)

’’دعا ایسے مانگیں ‘‘

سمیع اللہ شاہ (شمارہ 677)

ہرطرف خشکی ہی خشکی تھی ،دور دور تک پانی تک نایاب تھا،فصلیںاُگنے کے بجائے سوکھ رہے تھے ،مویشیاںپیاس سے نڈھال ، پھول مرجھاگئے ، اور بارش ہے کہ برسنے کا نام نہیں لیتی ، صحراؤں کا انحصار تو ویسے بھی زیادہ تربارشو ں پر ہوتاہے ۔ صحابہ کرام ؓ کا دور ہواور عرب کی پاک مٹی ہو ، اس پر بارش برسنا بند ہونا عجیب صورت حال ہے۔ لوگ بارش برسنے کے لئے،نمازِاستسقاء پڑھنے کے بعد دعامانگنے  ایک جگہ اکٹھے ہورہے ہیںکہ ان میں نماز ِ استسقاء پڑھنے کے لئے ایک بچی بھی آرہی ہیں جس کے ہاتھ میں چھتری تھی ۔ لوگ اس سے پوچھتے ہیں کہ بارش برستی نہیں اور تم ساتھ چھتری لائی ہو۔اس پر وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نماز ِ استسقاء پڑھ کر بارش کے لیے دعامانگ لیں تو وہ ضرور قبول ہوگی اور بارش برس جائیگی پھر بارش میں واپس گھر لوٹنا مشکل دشوار ہوگا ۔  ماشاء اللہ !!کتنا مضبوط یقین تھا ان کا ربّ کریم کی ذات پر ۔ وہ جانتی تھیں کہ دُعاقبول ہوگی اور بارش برسے گی اور ہوا بھی ایسا ،بارش برس گئی ۔

دعاکی لغوی معنی ’’مانگنے یا پکار کرنے‘‘ کی ہے ۔ انسان پیدائش سے لیکر موت تک ہر چیز کا مختاج ہے سب ضروریات اور حاجات پوری کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہیں۔دعاایک ایسی عبادت جس کی وجہ آدمی کی تقدیر ہر بدل جاتی ہے ، والدین کی دعا انسان کو فرش سے عرش تک پہنچاتی ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے دعا کو تمام عبادتوں کا مغز قرار دیا ہے ۔ چونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے ،تخلیق ہے ، بندۂ ہے اور اُن کا محتاج ہے اس لئے دعا خدا ہی سے مانگ لینی چاہیے ۔

ارشادربانی ہے کہ ’’انسانو !! تم سب اللہ کی مختاج ہواور اللہ ہی غنی ، بے نیاز اوراچھی صفات والا ہے ‘‘ (القران )

درج بالاارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی پکار سننے اور اس کو پوراکرنے والا خداہی کی ذات ہے اس کے سواکوئی بھی ہماری حاجت پوری نہیں کرسکتا۔

 نبی ؐ کریم کا ارشادہے کہ خداتعالیٰ نے فرمایا:

’’٭میرے بندو !!  تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوااسکے جس کو میں کھلاؤ ، پس تم مجھ سے رزق مانگو میں تمہیں روزی دوں گا ۔

٭میرے بندو !!تم میں سے ہر ایک ننگا ہے سوااس کے جس کو میں پہناؤ ، پس تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس دوںگا ۔ اورآپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ :’’ آدمی کو اپنی ساری حاجتیں خدا ہی سے مانگنی چاہییں یہاں تک کہ اگر جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو خدا ہی سے مانگے اور اگر نمک کی ضرورت ہوتو وہ بھی اسی سے مانگے ۔ (ترمذی)۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ضرروت جتنی بھی ہو خداہی سے مانگنی چاہیے چاہے وہ مصالحہ ، ماچس یا نمک وغیرہ کیوں نہ ہو۔

دعاگہرے اخلاص ،صاف نیت اور اس یقین کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ خدا ہمیں ضروردے گا ۔کوئی بھی دعا رد نہیں ہوتی ،ضرورقبول ہوجاتی ہے لیکن قبولیت میں وقت تو لگتا ہے ، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’ اے رسول  !!  جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو اُنہیں بتا دیجئے کہ میں ان سے قریب ہی ہو،پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتاہوں ‘‘۔

چونکہ دعامانگنے کا عمل ہے اس لئے تمام تر توجہ ، یکسوئی ، حضور قلب اور اچھی امید کے ساتھ مانگنی چاہیے ۔ غافل اور لاپروا شخص کی دعا ہی نہیں وہ مذاق ہے ، اور اس کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ ’’ اپنی دعاؤں دعا کے قبوک ہونے کایقین رکھتے ہوئے (حضور قلب سے) دعاکیجئے ، خدا ایسی دعاکو قبول نہیں کرتا جو بے پرواہ اور غافل دل سے نکلی ہو‘‘(ترمذی)۔

 دعاخشوع وخضوع اور انتہائی عاجزی کے ساتھ مانگنی چاہیے ۔ اس سوچ کے ساتھ بھی کہ میں ایک مسکین ہوں اورخدا ہی ہرچیز کا وارث ہے وہ ہرچیز پر قادرہے اسی پاس ہر چیز کا خزانہ ہے ۔

 ارشاد ربّانی ہے کہ ’’اپنے ربّ کو عاجزی اورزاری کے ساتھ پکارو‘‘اسی طرح فرمان نبوی ؐ ہے کہ’’ سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو دعامیں عاجز ہو‘‘(طبرانی)۔

دعاچپکے چپکے ، دل ہی دل میں اوردھیمی آوازمیں مانگنی چاہیے تاکہ اس میں دکھلاوانہ ہو کہ میں ربّ سے مانگتا ہوں۔ دعامانگنے سے پہلے کوئی نیک عمل جیسے تلاوت قرآن کریم،صدقہ یا خیرات وغیرہ کرنی چاہیے ایسا کرنے سے دعافوراََ قبول ہوجاتی ہے ۔دعا مانگنے سے کبھی بھی اکتانا نہیں چاہیے ،برابردعاکرنی چاہیے۔ حضورﷺ نے فرمایا:’’خداکے قریب دعاسے زیادہ عزت واکرام والی چیز کوئی اورنہیں‘‘(ترمذی)۔

اسی طرح وہ لوگ جودعا نہیں مانگتے ان کے بارے میں حضورﷺنے فرمایاکہ:’’جوشخص خداسے دعانہیں مانگتاخدااس پرغذاب ناک ہوتا ہے ‘‘ ۔ (ترمذی)

دعااس وقت تک مانگنی چاہیے جب تک قبول نہ ہو،ضرورقبول ہوگی مایوس نہ ہو۔ دعاکاآغازاللہ تعالیٰ کی حمدوثناء سے اورنبی ؐکریم پردرودوسلام سے کرنا چاہیے۔ نبی ؐکی شہادت ہے کہ بندے کی دعاجوخداکی حمدوثناء اورنبی ؐپردرودوسلام کے ساتھ پہنچتی ہے وہ قبول ہوتی ہے ۔ ایک رویت کے مطابق جس دعاکے آغازوانجام میں درودشریف نہ پڑھی جائے وہ زمیں اورآسمان میں رہتی ہے عرش تک نہیں پہنچتی ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor