Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہر گھڑی با ادب سر بہ تسلیم خم (عائشہ صدیقی عائش)

ہر گھڑی با ادب سر بہ تسلیم خم

عائشہ صدیقی عائش (شمارہ 677)

اک کلمہ گو مسلمان پر جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کرنا لازم و ملزوم ہے اسی طرح اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت بیاں کرنا ہمارے دین کا اہم اور بنیادی حصہ ہے۔ جو اس سے منہ موڑے گا دنیا اور آخرت دونوں کی رسوائی اس کا مقدر ٹھرے گی۔ صحابہ کرام کی عظمت بیان کرنا کسی بشر کے بس کی بات نہیں۔ جس جماعت کا مرتبہ اتنا عالیشان کہ رب ذوالجلال خود اپنے پاک کلام میں ان کی اوصاف بیان فرما کر ان کی رفعت کا اعتراف فرمائے اور جگہ جگہ ان کا تذکرہ فرمائے۔ کبھی اولئک ھم المفلحون..اولئک ھم الفائزون.اولئک ھم الراشدون.اولئک ھم المتقون. اولئک ھم المئومنون حقاً. یہ سب صحابہ کی مدح و ثنا  بزبان خداہے۔  رب سے وہ راضی اور رب ان سے راضی۔ اس بات کی سند قرآن میں جاری فرمائی کہ: "جن لوگوں نے سبقت کی (ایمان لانے میں)مہاجرین میں سے اور انصار میں سے ،اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ خدا ان سے راضی ہے اور وہ خد اسے خوش ہے۔ اور ان کے لئے باغات تیار کئے گئے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں (اور)وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ،یہ بڑی کامیابی ہے۔(پارہ 11 )

 حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ: "میری امت میں میرے صحابہ کی مثال ایسی ہے جیسے کھانے میں نمک ،اور کھانا نمک کے بغیر درست اور لذیذ نہیں ہوتا۔"(مشکو شریف)

 ایک اور جگہ فرمایا کہ: "میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پائو گے۔"

 یہ تو واضح ہوگیا کہ جنت میں جانے کی راہ صحابہ کرام کی اقتدا ء ہے کیونکہ میرے صحابہ ایمان کا معیار اور جراٗت کے مینار ہیں۔ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہمامقام صحابہ یوں بیان فرماتے ہیں:حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ پوری امت میں سب سے افضل، سب سے زیادہ پاکیزہ دلوں والے، سب سے زیادہ سادہ مزاج رکھنے والے، خدا نے انہیں دین کے استحکام اور اپنے رسول کی صحبت کے لیے چن لیا تھا۔ ان کی فضیلت کو پہچانو۔ ان کے نقش قدم پر چلو۔ ان کے اخلاق و سیرت کو اپنائو کیونکہ وہ شاہراہ ہدایت پر گامزن ہیں۔"  ( مشکوۃ شریف)

ائمہ کرام بھی صحابہ کرام کو برگزیدہ شخصیت تسلیم کرتے ہیں۔امام ابو حنیفہ و امام شافعی کا نظریہ: " میرا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآ ن سے استدلال کرتاہوں، اگر یہاں دلیل نہ ملے تو رسول اللہ کی حدیث سے ورنہ صحابہ کے اقوال کی طرف لوٹتا ہوں۔"(تہذیب التہذیب)

جبکہ امام مالک کا قول ہے کہ:- جو شخص صحابہ سے بغض رکھے اور ان کو برا بھلا کہے تو اس کا مسلمانوں میں کوئی حق نہیں (شرح شفا ملا علی قاری)

حنبلی فرمان کے مطابق: " صحابہ پر تنقید وہی کر سکتا ہے جس کے دل میں خباثت چھپی ہو۔ نیز فرمایا خلفائے راشدین چاروں ہدایت یافتہ ہیں۔ جو صحابہ کو برا بھلا کہے گا اسے سزا دینا واجب ہے۔"

ہم صحابہ کرام کا ذکر خیر کرنا باعث ثواب اور توشہ نجات سمجھ کر کرتے ہیں۔ وہ ہمارے امام اور مقتدی ہیں۔ صحابہ کرام کو صحابیت کا اعزاز کیوں ملا؟ اس لئے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کیمیا ان پر حالت ایمان میں پڑی تووہ انہیں صحابی کے منصب پر فائز کر گئی۔ صحابہ کرام نے سرکار دوعالم کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کی۔ آقا کی صحبت میںرہے اور تربیت حاصل کی ۔مدنی سنتوں کے سانچے میں ڈھلے ۔ نبی اکرم نے خود ان کی تربیت فرمائی۔ میرے آقا کے تابعدار۔ آپ کی محبت سے سرشار۔ آپ کے اک اشارے پر تن من دھن سب کر دئیے وار۔ آپ کی محبت میں تپتی ریت اور دہکتے انگاروں کی ذرا پرواہ نا کی۔اپنے جسم جھلسا دئیے۔ گھر بار لٹا دئیے۔اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ کبھی بدر و احد۔ کبھی حنین وتبوک۔ واللہ۔آج تک کسی کو ایسے ساتھی نہیں ملے جو رب العزت نے مصطفی کے لئے چنے۔ تبھی تو سب نے یہی کہا  بقلم خود ارشاد ہے:

ہر گھڑی  با  ادب  سر  بہ  تسلیم  خم

کملی والے محمد  کے  اصحاب  ہیں

یہ بہت بڑی خوش نصیبی کہ ہم صحابہ کے چاہنے والے ہیں۔ ان کے ناموس کی حفاطت کی خاطر تن من لٹانے والے ہیں۔ ہمیںرب العزت کا شکرگزار ہونا چاہیے جس نے ہمیں اصحاب محمد کی مدح سرائی کا شرف بخشا۔ دعا ہے اللہ رب العزت ہمیں مرتے دم تک مدحت اصحاب نبی کرنے والا بنائے اور ان کے نقش قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یا رب العالمین )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor