Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

آرٹیکل 35اے کیا ہے ؟ (قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک)

آرٹیکل 35اے کیا ہے ؟

قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک (شمارہ 683)

آج لکھنے بیٹھا تو ذہین کچھ منتشر تھا کہ کس کے بارے میں لکھوں دو بڑے اہم  موضوعات  سامنے تھے ایک دوحہ قطر میں ہونے والے مذاکرات تھے اور دوسرا انڈیا کی سپریم کورٹ میں آرٹیکل35 اے کی سماعت ہونے تھی، دونوں موضوعات کافی اہم تھے لیکن اللہ جزائے خیر دے امارت اسلامیہ افغانستان کے ساتھوں کوکہ انہوں نے میرے لئے یہ آسانی کردی کہ محترم سہیل شاہین کا انٹرویو بھیج دیا جس سے اندازہ ہو گیا کہ مذاکرات امید ہے کہ 28 فروری  تک چلے جائیں گے بلکہ سہیل صاحب نے خود ہی کہ دیا کہ تین دن  یا زیادہ لگ سکتے ہیں ۔

ایک طرف سے توآسانی ہوئی لیکن جب مغرب سے مشرق کی طرف رخ کیا تو وہاں بھی خبروں میں یہ خبر نظر کے سامنے سے گزری کہ اس کی سماعت 26 تا 28 ہوگی۔ اب سوچا کے کیوں نہ اس پر لکھا جائے آج کل کشمیرمیں ویسے بھی اس آرٹیکل کے بارے میں کافی ہلچل ہے اس کے ختم ہونے سے کشمیروں کو کیا  نقصانات ہوں گے اس کا ذکر ہم بعد میں کریں گے پہلے اس کو سمجھتے ہیں کہ یہ آرٹیکل کیا ہے ۔

1954میں دفعہ  35-A( (Application to Jammu and Kashmirآرڈر کے تحت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے آئین ہند میں شامل کی گئی۔

آئین ہند کی یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیرمیں رہائش کا حق اْن ہی باشندگان تک محدود رکھنے کی غرض سے آئین ہند میں شامل کر لی گئی تھی جو ریاست کے قانونی طور پر مستقل اور پشتینی باشندے ہوں۔ یہ قوانین ڈوگرہ شاہی دور میں 1927 اور 1932میں مرتب کئے گئے اوربعد ازاں 1947میںاْ ن ریاستی باشندوں کے لئے بھی ریاست میں واپس آنے کا حق محفوظ رکھا گیا جو 1947کے پْر آشوب دور میں پاکستان مہاجرت کر گئے بشرطیکہ وہ 1927 ا ور 1932میں مرتب قوانین کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے مستقل باشندے رہے ہوں۔

 واضح رہے  1927اور 1932میں ڈوگرہ مہاراجوں کے دور میں ہی ان قوانین کا تعین ہوا ہے اور انہی قوانین کو ریاستی آئین میں بھی جگہ مل گئی ہے۔ان قوانین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے مرکزی آئین کی دفعہ 35 کو 35A کے دستوری عنوان کے ساتھ مرکزی آئین میں شامل کیا گیا۔

کچھ آئینی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ 35A دفعہ 35 کی ترمیمی شکل نہیں بلکہ بالکل نئی اور منفرد آئینی دفعہ ہے۔یہ خیال سچ تو ہے لیکن پورا سچ نہیں۔ سچ اس لئے کہ35A میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ یہ دفعہ 35 کی ترمیمی شکل ہے، البتہ پورا سچ اس ضمن میں نہیں کہ جو ڈرافٹ کمیٹی ریاستی آئین ساز اسمبلی نے اس واسطے مقرر کی تاکہ مرکزی آئین کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کرے، اْس کمیٹی نے دفعہ 35میں شامل کچھ شقوں کو حذف کرنے کی سفارش کی جسے من وعن قبول کیا گیا اور اسی تناظرمیں دفعہ 35A معرض وجود میں آئی۔

ریاست جموں و کشمیر کی اپنی آئینی شناخت ہے جو اْس آئین ساز اسمبلی کی مرتب کردہ ہے جو 1951 میں وجود میں آئی۔اس آئین ساز اسمبلی نے ممبران کی ایک کمیٹی تشکیل دی جسے ڈرافٹ کمیٹی کا نام دیا گیا۔ کمیٹی کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ آئین ہند کی مختلف دفعات کا مطالعہ کرے اور اْن دفعات کوریاست میں اجرا ء یا عدم اجراء کرنے کی سفارش کرے۔ اس کمیٹی میں گردھاری لال ڈوگرہ،دُرگا پرشاد دھر،سعید میر قاسم،غلام رسول رینزو اور ہربھنس سنگھ آزاد شامل تھے۔ کمیٹی نے آئین ہند کی بعض دفعات کو بالکل مسترد کر دیا جب کہ بعض دفعات کے بارے میں اپنے اعتراضات پیش کئے۔

جموں و کشمیر آئین ساز اسمبلی کی ڈرافٹ کمیٹی نے دفعہ 35 کے مطالعے کے بعد جو اپنی سفارشیں پیش کیں ، اْن میں یہ آیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر سے متعلق (16:3) و( 32:3)کو حذف کیا جائے، بالفاظ دیگر کلاس اول و دوم میں 1927 اور1932 کے اعلا نیہ جات واحکامات کے مطابق جو لوگ یہاںدائمی اقامت کا حق رکھتے ہیں ، اْن میں سے یکم مارچ 1947 کے بعد جو حضرات پاکستان چلے گئے، اْن کی واپسی اور ریاست میںاقامت کے حق کو محفوظ ماننے کے علاوہ مئی 1954 کی تاریخ سے دس سال پہلے کسی باشندے نے قانونی طریقے سے غیر منقولہ جائیداد ریاست میں حاصل کی ہو ، اْسے بھی دائمی اقامت کا حق دارماننے کے علاوہ کسی اور غیر ریاستی باشندے کے نام ریاست میں حق کار اور اقامت دائمی قانوناًمحفوظ نہیں ہو سکتا، بھلے ہی وہ بھارتی شہری ہو۔

چنانچہ (16:3) اور( 32:3) کو 35A سے حذف کیا گیا اور یہ دفعات ترمیمی صورت میں نہیں بلکہ ایک نیا عنوان لے کر ریاست میں لاگو کی گئیں، چونکہ یہ دفعات قانونی شکل اختیار کر چکی تھیں ،لہٰذا قابل ترمیم نہیں رہی تھیں۔ چنانچہ دفعہ35کا نیا عنوان 35A رہا جو صرف ریاست جموں و کشمیر میں قابل اجرا ء ہے۔ جہاں دفعہ35میں کسی بھی بھارتی شہری کو بھارت کی کسی بھی دوسری ریاست میں سکونت اختیار کرنے اور ذریعہ معاش حاصل کرنے کا حق ہے ،وہیں 35A میں ریاست جموں و کشمیر میں صرف ریاست کے مستقل باشندے سکونت اختیار کر سکتے ہیں ، ریاست کے حدود میںذریعہ معاش حاصل کرنے کا حق اْنہی کے نام محفوظ ہے۔

کمیٹی نے 11فروری 1954کو اپنی سفارشات پیش کیں اور15 فروری 1954کو جموں و کشمیر آئین ساز اسمبلی نے ان سفارشات کو مان لیا اور ریاستی سرکار سے یہ کہا گیا کہ یہ سفارشات صدرجمہوریہ ہند کو پیش کی جائیں۔جموں کشمیر سرکار نے ریاستی آئین ساز اسمبلی کی سفارشات کو صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندرا پرشادکے سامنے پیش کیا جنہوں نے من و عن اْن کو قبول کرتے ہوئے 14 مئی 1954 کے روز اپنے دستخط ثبت کئے اور ایسے میں صدارتی حکمنامہ جاری ہواجہاں35A کے وسیلے سے 1927و 1932 سے لاگو شدہ ریاستی اقامتی قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔

آئینی طور طے شدہ معیارات کے مطابق اگر کوئی ریاستی باشندہ مارچ کی پہلی تاریخ 1947 کے بعد پاکستان منتقل ہو گیا ہو، اْس کی واپسی کی صورت میں اْس کا حق باشندگی محفوظ سمجھا جائے گا۔اس کے علاوہ 14مئی 1954کی تاریخ سے دس سال پہلے کسی شخص نے قانونی طریقے سے غیر منقولہ جائیداد اس ریاست میں حاصل کی ہو تو اْسے بھی دائمی اقامت(permanant Residence)کا حقدار سمجھا جائے گا۔جبکہ غیر ریاستی باشندے نہ ہی ریاست میں مستقل اقامت اختیار کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی غیر منقولہ جائیداد خرید سکتے ہیں ۔

قانون کے مطابق غیر ریاستی باشندے جموں وکشمیر میں سرکاری نوکریاں ،اسکالر شپ یا امداد بھی حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔اس قانون کے تحت وہ خواتین بھی پشتینی باشندگی سے محروم ہوجاتی تھیں جو غیر ریاستی باشندوں سے شادی کرتیں تاہم2002میں ریاستی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ غیر ریاستی باشندے سے شادی کرنے والی ریاست کی پشتینی خاتون ریاستی شہریت کے حق سے محروم نہیں ہوسکتی ہے تاہم ایسی خواتین کے بچوں کو ریاستی شہریت نہیں مل سکتی ہے۔

ان اقامتی قوانین کو تجزیے کی میزان میں تولاجائے تو کوئی ایسی قانونی صورت نظر نہیں آتی جس میں غیر ریاستی شہریوں کو ریاست کے مستقل ساکنان کا درجہ دیاجائے۔

اب آتے ہیں اپنے اصل مقصد کی طرف اس آرٹیکل کے خاتمے کیلئے بے جی پی سرگرم عمل ہے کیونکہ وہ اس کو ختم کرکے وہاں پر اپنے بندوں کو کھلی چھوٹ دینا چاہتی تھا بلکل اسی طرح جس طرح فلسطین میں اسرائیلوں نے آباد کاری کے نام پر وہاں پر قبضہ جما لیا ۔ اسی طرح بھارت بھی چاہتا ہے کہ اس آرٹیکل کو ختم کر کے ہندوں کو آباد کر کے کشمیر پر مکمل قبضہ کر کے ان کو بے دخل کرنا چاہتا ہے اسی سلسلے میں ہمیںاسلامی تنظیم آزادی جموں کے ترجمان  نے ایک اخباری بیان ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ  بھارت دفعہ 35 A کو ختم کر کے کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے راستے پر چل رہا ہے۔اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے پوری جموں کشمیر قوم کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا۔ان حریت رہنماء اور ترجمان اسلامی تنظیم آزادی نے کہا کہ بھارت نے جارحیت کے ذریعے کشمیر کو قبضے میں لے رکھا مگر کشمیری عوام نے بھارت کے قبضے کو ایک لمحے کیلئے تسلیم نہیں کیا۔بھارت نے ساڑھے سات لاکھ فوج کشمیریوں پر مسلط کر رکھی ہے اتنی چھوٹی سی آبادی پر فوج کی اتنی بڑی تعداد مسلط ہونے کی مثال نہیں ملتی۔حریت رہنماء اور ترجمان اسلامی تنظیم آزادی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی حالی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ کوئی بھی کشمیری ہندوستان کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں،انہوں نے کہا کہ اب بھارت نے کشمیر کو بھارتی ڈھانچے میں ضم کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقابلہ کیا جانا چاہے۔

 اس طرح کرنے سے اگر بھارت سمجھتا ہے کہ اسے کامیابی ملے گی تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ بقول محبوبہ مفتی اگر بھارت اس آرٹیکل کو ختم کرتا ہے تووہ لوگ جو ابھی انڈیا کا جھنڈا ترنگا اٹھا تے ہیں وہ بھی اس کو چھوڑ دیں گے اورحریت پسندی پر اتر آئیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor