Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قابل رشک لوگ (وحید اللہ زیاد)

قابل رشک لوگ

وحید اللہ زیاد (شمارہ 685)

مہینہ مارچ کا تھا اور سن تھا 2011، یعنی آج سے کامل آٹھ سال پہلے۔

رات کا آخری پہر چل رہا تھا کہ گھر کا دروازہ کسی نے زور سے بجایا، بوڑھی اماں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی، بڑے بیٹے کو آواز دینے ہی لگی تھی کہ خیال آیا

"اس نے تو پرسوں اپینڈیکس کا آپریشن کیا ہے وہ کیسے جا سکتا ہے"

خود ہی اللہ خیر کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی اور دروازے کے قریب جا کر پوچھنے لگی

"کون"

جواب میں دروازے پر لاتوں کی برسات ہونے لگی، دھڑکتے دل کے ساتھ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کے منظر سے وہ غش کھا کر گر گئی، خاکی وردی میں ملبوس" محافظین وطن" کا ایک جھنڈ گھر میں گھس آیا اور سیدھا اس کمرے میں گیا جہاں بوڑھی ماں کا بڑا بیٹا کل ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر آیا تھا۔

جب گھنٹہ بعد بوڑھی ماں کو ہوش آیا تو گھر میں ہر طرف چیزیں بکھری پڑی تھی اور بیٹا غائب، معلوم ہوا کہ اسے قریب ہی ایک جگہ لیکر گئے ہیں شام تک گھر آجائے گا۔

لیکن کہاں

شام سے رات، رات سے دن، ہفتے اور پھر مہینے گذر گئے لیکن بیٹے کا اتہ پتہ ندارد۔ ماں کی ممتا کو کیسے قرار آسکتا ہے، بیچاری نے بہت بھاگ دوڑ کی، ہر دروازہ کھٹکھایا، ہر کسی کو منت سماجت کی، لیکن حالت نہ بدلی۔جب ہر طرف سے مایوس ہو کر بیٹھ گئیں تو آخر میں ایک ہی در کی سوالی بن کر رہ گئیں، رات دن مصلہ بچھائے سرد آہوں اور گرم آنسوؤں کے ساتھ رب سے صرف ایک ہی سوال کرتی رہی۔

"ربا میرا بیٹا"

وقت گزرتا گیا، ماں کو بیماریوں نے آ گھیرا لیکن اسے اپنی فکر تھی کہاں،

وہ تو خود سے بے خبر بس اپنے لاڈلے کیلئے کھڑتی رہی، روتی بلکتی رہی۔

جب شدت غم بینائی پر بھی اثر انداز ہوا تو گھبرا گئیں۔

" تو کیا میں اپنے نور نظر کو نہیں دیکھ سکوں گی"

اب مصلے پر آہ و بکا میں یہ بھی اضافہ ہوا کہ

"ربا جب تک بیٹے کو دیکھ نہ لوں، آنکھ کی روشنی زائل نہ فرما"

وہ اس حالت میں بھی اپنے بیٹے کے پسند ناپسند کی خوب خیال رکھتی تھی، اسے معلوم تھا کہ بیٹا قیمہ بہت شوق سے کھاتا تھا تو جب سے وہ "لاپتہ" ہوا تھا وہ ہر پیر کے شام کو پچاس ساٹھ روپے کی قیمہ اس خیال سے منگوا کر رکھتی تھی کہ کیا پتہ، کل پرسوں میرا بیٹا آجائے بازار میں قیمہ تو پھر نہیں ملے گا۔

اس پیر کے شام کو بھی ماں جی نے حسب سابق قیمہ منگوایا، فریج میں رکھا اور خود مصلے پر سجدہ ریز ہو گئیں۔

"یا اللہ اب یہ آزمائش ختم کر دے مجھ سے اب مزید صبر نہ ہو گا"

کافی دیر بعد جب وہ مصلے سے اٹھیں تو چھوٹا بیٹا ( جو اب خیر سے کافی بڑا ہو گیا تھا) نے اطلاع دی کہ فون آیا ہے کہ کل "ملاقات" کیلئے آجائیں۔

کل صبح سویرے چھوٹا بیٹا والد کے ساتھ مل کر ملاقات کیلئے چلے گئے، ملاقات کر کے رات کو وہ لوگ واپس نہ آ سکے، اگلی ہی دن یعنی گذشتہ روز صبح کے دس بجے ہوں گے کہ انہوں نے فون کیا۔

"ماں قیمہ منگوایا تھا اس پیر کو"

"ہاں بیٹا منگوایا تھا، کیوں خیریت"

اس طرف سے سسکیوں میں آواز آئی

" ماں اب خیر ہی خیر ہو گا ان شاء اللہ، ہم آرہے ہیں قیمہ پکاو، میرا بھائی رہا ہو گیا"

اور ماں کامل آٹھ سال بعد ایک بار پھر غش کھا کر گر گئیں۔

کل اپنے اس عظیم ساتھی بھائی انعام اللہ آف مردان سے مل کر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کیا کہ ان پریشان کن خبروں میں رب نے ہمیں ایک بار پھر مسرور کیا.

کل یوم ھو فی شان

ملاقات کر کے جب ہم رخصت ہونے لگے تو انعام بھائی سے دعا کی درخواست کی، سوز سے بھر پور مختصر دعا کے الفاظ یہ تھے

"یا اللہ جہاد پر استقامت، امیر جیش کی حفاظت اور شہادت کی موت نصیب فرما" آمین

واپس چلتے ہوئے پورے راستے میں یہی سوچتا رہا کہ آخر کس مٹی کے بنے ہیں یہ لوگ، جس "جرم" کے پاداش میں آٹھ سال کی اذیت سے گذارا گیا، آج رہا ہوتے ہی اسی جرم پر استقامت کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor