Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غزوہ ہند اور ہماری ذمہ داری (سعد جلیل)

غزوہ ہند اور ہماری ذمہ داری

سعد جلیل (شمارہ 686)

بتوں کے پجاری باقاعدہ اہل اسلام کو للکار رہے ہیں،لیکن یہ اللہ کے شیروں کی یلغار کامزہ بھی ضرور چکھیں گے،یاد رہے یہ جنگ صرف پاکستان اور ہندوستان کی جنگ نہیں، یہ اسلام اور بت پرستی کا معرکہ ہے، یہ غزوۂ ہند کی بشارت پانیوالی وہ عظیم لڑائی ہے جس میں شرکت کی دعا بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کی تھی ،کیوں کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

(عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِی أَحْرَزَہُمَا اللَّہُ مِنْ النَّارِ : عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْہِنْدَ ، وَعِصَابَۃٌ تَکُونُ مَعَ عِیسَی بْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِمَا السَّلَام ) (رواہ النسائی والإمام أحمد فی " المسند ")

ترجمہ:میری امت میں دو گروہ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیِ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے ، ایک گروہ ہندوستان پر چڑھاء کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ (جہاد میں)ہوگا۔  

غزوہ ہند کے بارے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی احادیث نقل کی جاتی ہیں اگرچہ سند کے اعتبارسے یہ ضعیف سمجھی جاتی ہیں، اور وہ یہ ہیں:

(وَعَدَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزْوَۃَ الْہِنْدِ ، فَإِنِ اسْتُشْہِدْتُ کُنْتُ مِنْ خَیْرِ الشُّہَدَاء ِ ، وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ )

ترجمہ:"میرے جگری دوست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ" اس امت میں ہندوستان کی طرف لشکروں کی روانگی ہوگی" اگر مجھے کسی ایسی مہم میں شرکت کا موقع ملا اور میں (اس میں شریک ہوکر) شہید ہو گیا تو ٹھیک، اگر (غازی بن کر) واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں، جسے اللہ تعالیِ نے جہنم سے آزاد کر دیا ہوگا"    (مسنداحمد)

امام نسائی نے بھی اسی حدیث کو اپنی دو کتابوں میں نقل کیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ:

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ فرمایا ۔(آگے ابوہریرہ فرماتے ہیں) " اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کردوں گا۔ اگر قتل ہو گیا تو میں افضل ترین شہداء میں شمار کیا جاؤں گا اور اگر واپس لوٹ آیا تو ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔"

کتاب الفتن میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کی  دوسری حدیث ہے کہ : نبی کریم نے ہندوستان کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا:

ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا ، اللہ ان مجاہدین کو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ (مجاہدین)ان کے بادشاہوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور اللہ ان کی مغفرت فرمادے گا۔  پھر جب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریمﷺ کو شام میں پائیں گے۔ ابوہریرہ نے فرمایا " اگر میں نے وہ غزوہ پایا تو اپنا نیا اور پرانا سب مال بیچ دوں گا اور اس میں شرکت کروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطاء کردی اور ہم واپس پلٹ آئے تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا جو ملک شام میں اس شان سے آئے گا کہ وہاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو پائے گا۔ یارسول اللہ! اس وقت میری شدید خواہش ہوگی کہ میں ان کے پاس پہنچ کر انہیں بتاؤں کہ میں آپ کا صحابی ہوں ۔ "(راوی کا بیان ہے) کہ حضور مسکرا پڑے اور ہنس کرفرمایا:" بہت زیادہ مشکل، بہت زیادہ مشکل۔"

تشریح میں بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس پیشین گوئی میں غزوہ محمد بن قاسم سے لے کر محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، احمد شاہ ابدالی اور قضیہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی مجوزہ جنگ بھی شامل ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ عہد ِنبوت سے لے کر تاقیامت برصغیر (ہندوستان) میں پیش آنے والی مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تمام لڑائیوں کو 'غزوۂ ہند'قرار دے دینا درست ہے۔ جب کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ جس لڑائی کی یہ فضیلت ہے اور اسے" غزوہ ہند" کہاگیا ہے،وہ آخری زمانے میں لڑی جائے گی.

اب بھی بزدل ہندو اپنی ازلی دشمنی کے ساتھ میدان میں اُترا ہوا ہے،اے اہلِ پاکستان!اے اہل اسلام!

یاد رہے امت مسلمہ نے ہمیشہ ایمان اور رب کی نصرت کے سہارے میدان جیتے ہیں،آج جب اہل اسلام کے دستے دشمن کیخلاف برسرپیکارہیں، ہم دعاؤں کے اہتمام،گناہوں سے توبہ اور رب کے حضور سجدوں سے ان کی مدد کرسکتے ہیں، ہماری اصل طاقت ایمانی جذبہ اور دینی غیرت ہے جوایٹم سے بھی زیادہ پاورفُل ہے!!

یہ ہندو دہشت گرد ہی ہیں جو پاکستان بننے پر لاکھوں مسلمانوں کے قاتل ہی نہیں ہزاروں مسلمان خواتین کی عصمتوں کے لٹیرے بھی ہیں،یہ کشمیر میں آج بھی وہی درندگی روزانہ دہرا رہے ہیں،بابری مسجد کی آزادی اور کشمیر ہی نہیں دلی کے تخت پر بھی اسلامی پرچم لہرا کر رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ یہ دنیا کہ سچے ترین انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی ہے۔ اللہ کرے ہماری دعائیں،جان ،مال اور تمام صلاحیتیں بھی اس مبارک معرکے میں لگ جائیں!!

"شب خون" سے احمد فراز کی ایک غزل انڈیاکے نام....

کب یاروںکو تسلیم نہیںکب کوئی عدو انکاری ہے

اس کوئے طلب میں ہم نے دل نذر جاں واری ہے

جب ساز سلاسل بجتے تھے ہم اپنے لہو میں سجتے تھے

وہ رِیت ابھی تک باقی ہے یہ رسم ابھی تک جاری ہے

کچھ اہلِ ستم کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے

دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا یہ پتھر بھاری ہے

جب پرچمِ جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل

اُس وقت سے آج تلک جلاد پہ ہیبت جاری ہے

زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو

خود ترکش والے کہہ دیں گے بازی کس نے ہاری ہے

کس زعم میں تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں

یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor